قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ

قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ

تحرير: محمد ریاض بوکی خیل
قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ داراصل وفاق اور صوبوں کے درمیاں معاشی تعلق کو کہا جا سکتا ہے۔ اس ایوارڈ کے ذریعے وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کی جاتی ہے۔ پاکستان آزاد ہونے کے بعد سب سے پہلا ایوارڈ ریسمن ایوارڈ 1951 میں ہوا۔ اس کے بعد 1974، 1991، 1997 اور پھر 2010 میں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ ہوئے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ زیادہ تر قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ جمہوری حکومتوں میں ہوئے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جمہوری حکومتوں میں جمہوری رویے ہوتے  ہیں اس وجہ سے ایوارڈ پر  وفاق سیمت تمام صوبے رضامند ہو جاتے ہیں۔ فوجی آمر ضیاء الحق اور جنرل مشرف  اپنے طویل دور حکومت میں قومی مالیاتی کمشن ایوارڈ نہ کر سکے کیونکہ سندھ اور بلوچستان کو اس ایوارڈ پر اعتراض تھا۔ اس ایوارڈ پر تمام صوبوں کی رضامندی ضروری ہے، اگر ایک بھی صوبہ انکار کرے تو یہ ایوارڈ نہیں ہو سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ہر صوبے کے ساتھ ویٹو پاور ہے اور  اگر وہ اس ویٹو پاور کو استعمال کرے تو یہ ایوارڈ نہیں ہو سکتا۔ ہر وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ پانچ سال بعد ایوارڈ کا اعلان کرے۔ گزشتہ روز انسٹی ٹیوٹ آف بزنش ایڈمنسٹریشن کراچی اور سنٹر فار ایکسیلینسی اِن جرنلزم نے گورننس اور پالیسی پروگرام خیبر پختونخوا کے تعاون سے خیبر پختونخوا کے صحافیوں کے لئے  ٹریننگ کا انعقاد کیا تھا۔ ٹریننگ کے دوران ڈاکٹر قاضی مسعود احمد نے صحافیوں کو قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ پر تفصیلی لیکچر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی مالیاتی کمیشن 1937 میں انگریز کے دور حکومت  میں بھی ہوا تھا۔ اس کے بعد جب پاکستان بنا تو اس ایوراڈ کا سلسلہ جاری رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی ایسے کمیشن ہیں۔ پاکستان کا کمیشن  دنیا کا منفرد کمیشن  ہے۔ کمیشن میں وفاق اور چاروں صوبوں کے دو دو ارکان نمائندگی کرتے ہیں اور ہر صوبائی وزیر خزانہ اس کا سرکاری رکن ہوتا ہے جبکہ اس کے علاوہ ہر صوبے سے ایک غیرسرکاری رکن کی تقرری صدر مملکت صوبائی حکومتوں کی سفارش پر کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ وفاقی سیکرٹری اس کمیشن کا ریکارڈ رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کا کمیشن ہمارے کمیشن سے زیادہ وسیع ہے جس میں ججز اور اکانومسٹ شامل ہوتے ہیں۔ پاکستان آزاد ہونے کے بعد پہلا  ایوارڈ 1951ء میں ہوا۔ اس ایوارڈ کو ریمن ایوارڈ کا نام دیا گیا جس کے تحت سیلز ٹیکس صوبائی معاملہ تھا۔ مرکز اور صوبوں کے ریونیو ذرائع کے تنازعے کو نمٹانے کے لئے 50 فیصد آمدنی ٹیکس کی سفارش کی گئی تھی۔ دس سال کے وقفے کے بعد 1961 میں ایک کمیشن مقرر کیا گیا جس نے 1962 میں اپنی سفارشات پیش کیں۔ جس کے تحت ٹیکسز کی آمدنی میں سے مشرقی پاکستان کو 54 فیصد اور مغربی پاکستان کو 46 فیصد حصہ دیا گیا۔ تیسرا ایوارڈ 1964-65 کے مالیاتی کمیشن کا آغاز آئین کے آرٹیکل 144کے تحت ہوا۔ تمام صوبوں میں سیلز ٹیکس کا 30 فیصد تقسیم کیا گیا۔ چوتھے قومی ایوارڈ کے لئے 1970 میں ایک نیا کمیشن قائم کیا گیا جس نے 1971ء میں بنگلہ دیش کی علیحدگی سے پہلے اپنا ایوارڈ دیا۔ اس ایوارڈ میں صوبوں کو بنیادی اہمیت دی گئی اور ان کے تقسیم شدہ پول میں شراکت کے 65 فیصد تناسب کو بڑھا کر 80 فیصد کر دیا گیا۔ 1973 کے آئین کے بعد پہلا قومی مالیاتی ایوارڈ 1974 میں ہوا۔ اس ایوارڈ میں تقسیم شدہ پول کی گنجائش آمدن ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ایکسپورٹ ڈیوٹی تک محدود رہی۔ دوسرا قومی مالیاتی ایوارڈ 1979 میں ہوا۔ جنرل ضیاء الحق نے وزیر خزانہ غلا م اسحاق خان کی سربراہی میں دوسرا کمیشن قائم کیا۔ بدقسمتی سے اس میں کوئی مشاورت نہ ہو سکی اور نہ تجاویز پیش کی جا سکیں۔ عبوری مدت میں وسائل کی تقسیم کے لئے 1974ء کے قومی مالیاتی ایوارڈ کو ہی معیار بنایا گیا۔ تیسرا قومی مالیاتی ایوارڈ 1985 میں ہوا۔ تیسرے قومی مالیاتی ایوارڈ کے کمیشن میں وزیر خزانہ ڈاکٹر محبوب الحق نے صوبوں کو زیادہ ٹیکس دینے کا مشورہ دیا اور مرکز کے لئے صرف آمدن ٹیکس، کارپوریٹ ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کو ہی برقرار رکھا۔ چوتھا قومی مالیاتی ایوارڈ 1990 میں دیا گیا۔ تقریباً سولہ سال کے وقفے کے بعد نواز شریف حکومت نے ایوارڈ کے لئے کمیشن قائم کیا جس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ سرتاج عزیز کے پاس تھی۔ اس ایوارڈ نے 1974ء کے ایوارڈ کی نسبت صوبائی حصے میں 18 فیصد اضافہ کیا۔ پانچواں قومی مالیاتی ایوارڈ 1996 میں ہوا جس میں صوبوں کو خام تیل اور قدرتی گیس پر رائلٹی کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ چھٹا قومی مالیاتی ایوارڈ 2000 میں ہوا۔ شوکت عزیز کی صدارت میں قائم ہونے والے قومی مالیاتی کمیشن نے گیارہ مشاورتی اجلاس منعقد کئے لیکن اتفاق رائے نہ ہو سکا۔ 2005-6 میں قومی مالیاتی ایوارڈ کے لئے اتفاق رائے قائم کرنے کی دوسری کوشش کی گئی لیکن ایک مرتبہ پھر مرکز اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم پر اتفاق رائے قائم نہ ہو سکا جس کے بعد صدر پرویز مشرف نے آئین کے آرٹیکل 6۔160 اور آرڈیننس نمبر ایک 2006 کے تحت ترمیم کر کے وسائل کی تقسیم کا فارمولہ جاری کیا۔ ساتواں قومی مالیاتی ایوارڈ 2010 میں 13 سال کے وقفے کے بعد ہوا۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ساتویں قومی مالیاتی ایوارڈ پر تاریخی اتفاق رائے کا مظاہرہ کیا اور صوبوں کی طرف سے قومی وسائل کی تقسیم کے حوالے سے کسی قسم کا اعتراض سامنے نہ آیا۔ 2010ء تک قومی مالیاتی ایوارڈ چاروں صوبوں میں آبادی کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا رہا ہے لیکن بعد میں اس کی تقسیم کے طریقہ کار کو تبدیل کر دیا گیا۔ 2010 کے بعد قومی مالیاتی ایوارڈ کی تقسیم کو چار درجو ں میں بانٹ دیا گیا۔ قومی مالیاتی ایوارڈ کی تقسیم کچھ اس طرح طے کی گئی۔ 82 فیصد آبادی کی بنیاد پر، 10.3 فیصد غربت، 5 فیصد ٹیکس جمع کرنے اور 2.7 فیصد آبادی کے دباؤ کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا۔ ساتویں این ایف سی ایوارڈ میں طے کیا گیا تھا کہ پاکستان کی کل آمدنی اگر سو روپے ہو گی تو  اس میں سے وفاق کا حصہ 42 روپے پچاس پیسے ہوں گے جبکہ باقی کے 57 روپے اور پچاس پیسے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پاس جائیں گے۔ ماہرین 2010 کے مالیاتی کمیشن ایوراڈ کو بہترین ایوارڈ قرار دے رہے ہیں جس کی وجہ اس ایوارڈ میں وفاق کا حصہ کم اور صوبوں کا حصہ زیادہ قرار دی جاتی ہے۔ 2010 ایوارڈ صوبائی خودمختاری کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت تھی کیونکہ اس میں پہلی بار وسائل میں سے  وفاق کے حصے میں خاطر خواہ کمی لا کر صوبوں کا حصہ بڑھایا گیا۔ اس سے قبل وسائل کا سب سے بڑا حصہ وفاق کو جا رہا تھا اور صوبوں کو شکایت ہوتی تھی کہ ان کے پاس عوامی منصوبوں اور امور مملکت چلانے کے لیے مالی وسائل ہی نہیں ہوتے۔ قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ 2010 کے بعد ایوارڈ نہیں ہوا لہذا اسی ایوارڈ پر تقسیم ہو رہی ہے۔