''د د ستار سڑی پہ شمار دی''

''د د ستار سڑی پہ شمار دی''

  روخان یوسفزئی

خطہ ارضی کا مردم خیزعلاقہ صوابی کئی حوالوں سے انفرادی حیثیت کا حامل ضلع ہے۔ ان انفرادی خصوصیات اور حیثیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ ایک ادب خیز خطہ ہے اور عرصہ دراز سے اپنی اس انفرادی حیثیت کو پروان چڑھا رہا ہے اور وقت بوقت ایسی ہستیاں پیدا کر رہا ہے جو اپنی مادری زبان پشتو یعنی ماں بولی کو ماں کی حیثیت دے کر اس کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف کار رہتی ہیں اور اسی طرح اپنی زبان کی بقاء اور ارتقاء ان کا اوڑھنا بچھونا بن جاتے ہیں۔ 

 

ضلع صوابی کی ایسی ہی شخصیات میں سے ایک ادبی شخصیت سید جاوید اقبال گیلانی ہے جو کہ ادب برائے زندگی کے اصول پر کار فرما ہیں۔ ان کے اس جذبے کا زندہ ثبوت حال ہی میں مقامی لائبریری صوابی میں منعقدہ ادمی محفل ہے۔ یہ ادبی محفل باچا جی کی مالی، جانی قربانی اور محنت کے نتیجے میں عمل میں لایا گیا۔ مذکورہ ادبی نشست کا اہتمام 21 اگست 2021 بروز ہفتہ مرحوم اجمل منصور کی تیرہویں برسی کی مناسبت سے کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ اجمل منصور 1984ء کو ٹوپی صوابی میں پیدا ہوئے تھے اور 9 اگست 2008ء کو تقریباً چوبیس سال کی عمر میں سڑک کے حادثہ میں وفات ہوئے۔ مرحوم کے دو شعری مجموعے ''زڑہ چادروں'' اور ''ساندلے'' ان کے ایک قریبی اور مخلص دوست ارشد علی ارشد نے اپنے ہی خرچ پر چھپوائے جو آج بھی اجمل منصور کو لوگوں کے دلوں مین زندہ رکھنے کا باعث بنے ہوئے ہیں۔



اگر ہم بھی اپنی مادری زبان کو اس طرح سینے سے لگائیں جس طرح اجمل منصور نے لگایا تھا تو ہم بھی لوگوں کے دلوں پر راج کرتے رہیں گے۔ مطلوب احمد خان یوسفزئی



''ہیواد پشتو ادبی'' اور ''ثقافتی تڑون صوابی'' کے زیر اہتمام اس ادبی نشست کی صدارت پشتو کے معروف افسانہ نگار، نقاد اور محقق محترم نورالامین یوسفزئی نے کی، مہمان خصوصی پروفیسر ڈاکٹر اباسین یوسفزئی کے علاوہ محترم نورالبشر نوید، بخت زادہ دانش اور سرور شمال کے ساتھ ساتھ میزبان محفل مطلوب احمد خان یوسفزئی، جاوید اقبال خان ایڈوکیٹ، جان بہادر، عزیز مانیروال، نظار یوسفزئی، ملنگ جان مندتڑ اور مشال منصور اس محفل میں سٹیج پر جلوہ افروز تھے۔ محفل کا باقاعدہ آغاز حافظ ابراہیم نے تلاوت سے کیا۔ سید جاوید اقبال گیلانی نے بطور منظم اعلیٰ اپنے منفرد ادبی اور پشتون انداز میں مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے ساتھ ساتھ پروگرام کے اغراض و مقاصد، اجمل منصور کی ادبی خدمات اور ادبی حیثیت پر جامع الفاظ میں روشنی ڈالی، اپنے اس ابتدائیہ میں محترم باچا جی نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ ہم آئندہ بھی ایسی ہی ادبی محافل منعقد کرتے رہیں گے جن میں مستقبل قریب میں محترم تسکین مانیروال کے اعزاز میں ایک نشست منعقد کرنے کا ارادہ بھی شامل ہے۔ اس موقع پر راقم نے تنظیم کی طرف سے ہر قسم تعاعن کی یقین دہانی بھی کرائی اور جاوید باچا کی اس ادبی خدمت کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔ 



اگر ہم بھی اپنی مادری زبان کو اس طرح سینے سے لگائیں جس طرح اجمل منصور نے لگایا تھا تو ہم بھی لوگوں کے دلوں پر راج کرتے رہیں گے۔ مطلوب احمد خان یوسفزئی



محترم نورالبشر نوید نے کہا کہ ہمارے منصور کا نعرہ بھی ان زمینی خداؤں کے خلاف بغاوت اور طبل جنگ تھا۔ انہوں نے اپنی باتوں میں خطہ میں موجود صورتحال کا بہت ہی زبردست الفاظ میں جائزہ پیش کیا۔ اس ادبی محفل کی خاص بات یہ بھی تھی کہ جاوید اقبال خان ایڈوکیٹ نے پشتون روایات کے مطابق جاوید اقبال گیلانی کی ادبی خدمات کے اعتراف میں صوابی کی طرف سے مہمانان گرامی کی معیت میں انہیں پگڑی پہنائی۔ مطلوب احمد خان یوسفزئی نے کہا کہ اگر ہم بھی اپنی مادری زبان کو اس طرح سینے سے لگائیں جس طرح اجمل منصور نے لگایا تھا تو ہم بھی لوگوں کے دلوں پر راج کرتے رہیں گے۔ 

 

پروفیسر بخت زادہ دانش نے اپنے منفرد لب و لہجے سے محفل کو محظوظ کیا۔ دانش صاحب کے سٹیج پر آنے سے محفل میں موجود پروفیسر اباسین یوسفزئی نے اجمل منصور کے ساتھ گزارے ہوئے لمحات کا بطور خاص ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اجمل منصور کا نام اجمل اور منصور کے ناموں کا زبردست تلمیحائی مرکب ہے کیونکہ مذکورہ دونوں شخصیات تاریخ ساز شخصیات گزری ہیں۔ مذکورہ شخصیات کے علاوہ عزیز خادم، فضل معبود خان، محمد اشتیاق خاکسار گدون پشتو ادبی جرگہ، زاہد زمان سحر اتمان گدون لیکوال ملگری، انور مانیروال، منصفات باچا ،قیصر مانیروال، فجی گل فجی، سردار علی سردار، پذیر احمد مرغز، مرغزار ادبی ٹولنہ، لیاقت منصورکی خدمات کو سراہا۔ علاوہ ازیں عبدالجبار، معراج مانیروال، حیدر زمان جدون، علی زر خان، عیسیٰ خان جدون، توقیر شلمانی، قاسم ساگر، حسین محمد مشال، جان یوسفزئی، انورزیب سحر، واجد علی واجد، اشفاق مانیروال، قیصر رضا، سید احمد شیدا، فرزند علی اور کئی دوسرے ادبی شخصیات نے بھی شرکت کی۔ حبیب عابد پشاور اور شفیع اللہ عاجز نے کوہاٹ سے تشریف لاکر محفل کی اہمیت میں اور بھی اضافہ کر دیا۔ 



اجمل منصور کا نام اجمل اور منصور کے ناموں کا زبردست تلمیحائی مرکب ہے کیونکہ مذکورہ دونوں شخصیات تاریخ ساز شخصیات گزری ہیں۔ اباسین یوسفزئی



صدر محفل کی تقریر سے قبل ثناء اللہ خان کلابٹ نے سٹیج پر آ کر باقاعدہ طور پر اعلان کیا کہ مرحوم اجمل منصور کی کلیات کی چھپائی کا سارا خرچہ میں اپنے ذمہ لے لیتا ہوں، ''انشاء اللہ ساتھیوں کے مشورے سے اس کام کو بھی بہت ہی عملی شکل دیا جائے گا۔'' صدر محفل نے کہا کہ ''میں نے اجمل منصور کو اپنا ایک افسانہ خود ہی سُنایا تو اُس نے فوراً ہی مجھے مخاطب کر کے کہا کہ ماما جی افسانہ تو بہت ہی اچھا سماجی افسانہ ہے لیکن اس کے آخری چار پانچ جملے افسانہ کے جسم پر بوجھ سا لگ رہے ہیں۔ مجھے یہ بات سن کر حیرت ہوئی کہ یہی نقطہ اس افسانہ پر جدید دور کے علامتی افسانہ نگار فاروق سرور نے بھی اُٹھایا تھا ۔ اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اجمل منصور کتنے ہی بڑے ادیب اور نقاد تھے۔''

 

یاد رہے کہ نظامت کے فرائض صاحب جان عندلیب، طارق مشال اور راقم نے ادا کئے۔ پروگرام میں آئے ہوئے مہمانان گرامی کیلئے تحفے تحائف کا بھی بندوبست کیا گیا تھا۔ یہ تاریخی ادمی محفل دوپہر دوبجے کھانے کے بعد اختتام پذیر ہوئی۔