نئے چیلنجز اور حکومتی ترجیحات 

نئے چیلنجز اور حکومتی ترجیحات 

صوبہ خیبر پختونخوا میں بڑھتے اومی کرون کیسز کیخلاف کارگر ویکسی نیشن کے عمل میں مزید تیزی اور مہنگائی جیسے اہم ترین ایشوز پر تبادلہ خیال کرنے اور ان کے مناسب حل ڈھونڈھنے کیلئے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوئے، اومی کرون ویرینٹ کے بڑھتے کیسز کو روکنے کیلئے حکومتی سطح پر کی جانیوالی کوششوں 'انتظامیہ کی استعداد کار بڑھانے اور ویکسی نیشن کے عمل میں تیزی لانے کو ضروری قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ محمود خان نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ویکسی نیشن کے سو فیصد اہداف کے حصول کے لئے ٹھوس حکمت عملی اختیار کی جائے ، اس میں کسی بھی قسم کی سستی مسئلے کو مزید بڑھا سکتی ہے اس لئے کوئی کوتاہی ناقابل برداشت ہوگی جبکہ ویکسی نیشن کا عمل نہ صرف پشاور بلکہ مضافاتی علاقوں میں بھی بڑھانا ہوگا اور اس پر خصوصی توجہ دینا ہوگی کیونکہ ان میں بعض علاقے ایسے ہیں جہاں صحت کی سہولیات ناکافی ہیں اس لئے ویکسین کیلئے ان علاقوں سے لوگوں کو دوسرے علاقوں میں جانے سے بچانے کیلئے فوراً اقدامات اٹھانا ہونگے' صوبہ بھر میں وباء کے ابھی چندکیسز ہی رپورٹ ہوئے ہیں لیکن بروقت تدارک نہ کرنے یا اسے معمولی جان کر نظر انداز کرنا مہنگا پڑ سکتا ہے جس کا خمیازہ قیمتی کئی جانوں سمیت کثیر سرمایہ کا ضائع ہونے کی صورت میں بھگتنا ہوگا، وزیر اعلیٰ کو دی جانیولی بریفنگ میں وضاحت کی گئی کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران صوبے میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 0.3 سے 0.6  فیصد کے درمیان رہی ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ اسے قابو کرنے کیلئے ابھی زیادہ جدوجہد کی ضرورت نہیں لیکن ایسی سوچ نقصان دہ ہو سکتی ہے، کیونکہ بظاہر کوئی بھی طوفان ابتداء سے ہی بڑا نہیں ہوتا وقت کیساتھ ساتھ بڑا ہوتا جاتا ہے، رپورٹ میں ظاہر کی جانیوالی شرح بظاہر معمولی دکھائی دیتی ہے لیکن یہ کیسز خطرناک حد عبور کر سکتے ہیں، اس لئے حکومت کو ابھی سے اس کے تدارک کیلئے اقدامات اٹھانا ہونگے،روزانہ کی بنیاد پر کورونا وباء کے کئے جانیوالے دس ہزار ٹیسٹس کی تعداد بڑھانی چاہئے تاکہ کسیز کا پتہ چل سکے اور اس کیلئے بروقت اقدامات ترتیب دیئے جا سکیں اور دوبارہ لاک ڈائون سے بچا بھی جا سکے جس سے نہ صرف غریب مزدور کار طبقہ ہی متاثر رہتا ہے بلکہ طلبہ کا مستقبل بھی دائو پر لگ جاتا ہے' ابھی حالیہ لاک ڈائون سے پیدا ہونیوالے مسائل ہی حل نہیں ہو پائے ہیں کہ ساتھ ہی مزید مسائل کو جنم دیا جا سکے، مہنگائی کے حوالے سے ہونیوالی گفتگو میں کئی اہم فیصلے کئے گئے، بڑھتی مہنگائی قابو کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے کی جانیوالی کوششوں کا جائزہ لیا گیا اور اجلاس کو بتایا گیا کہ مہنگائی کنڑول ہونے والی ہے، دیگر صوبوں کی نسبت خیبرپختونخوا میں بیشتر اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں نسبتاً کم ہیں، گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 6 اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں استحکام رہا جبکہ کئی کی قیمتیں کم ہوئی ہیں جن میں آٹا اور چینی بھی شامل ہیں' صوبے میں اگلے پیداواری سیزن تک گندم کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور فلور ملوں کو روزانہ کی بنیاد پر سات ہزار میٹرک ٹن سرکاری گندم دی جا رہی ہے' اس کی چیکنگ کا نظام بھی الگ سے کارآمد ہے، یہ سب بریفنگ اپنی جگہ لیکن اگر دیکھا جائے تو مارکیٹ میں آج بھی عوام کئی مشکلات کا شکار ہیں' چینی اور آٹا جیسی اہم اجناس کو مزید مہنگا ہونے سے بچانے کیلئے ابھی سے حکومت کو اقدامات اٹھانا ہونگے، مارکیٹ میں کہیں بھی ہو اس کی قیمت آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں، پرائس کنٹرول کہیں دکھائی نہیں دے رہا، چینی ہو یا آٹا ، دال ہو یا گھی آئل اسی ریٹ پر فروخت ہو رہے ہیں، اس لئے مہنگائی کا بازار گرم کرنے والوں کیساتھ ساتھ ذخیرہ اندوں کیخلاف بھی کارروائی کرنا ہوگی کیونکہ مہنگائی کے اصل محرکات یہی ہیں، یہیں سے مہنگائی جڑ پکڑتی ہے' وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اس موقع پر متعلقہ حکام کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ صوبہ بھر میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں سے متعلق ماہانہ رپورٹ تیار کی جائے اور اشیائے خوردونوش کی ذخیرہ اندوزی اور خود ساختہ مہنگائی پر کڑی نظر رکھی جائے' یہ اعلانات سراہے جانے چاہئیں لیکن ان پر حقیقی معنوں میں بھی عمل درآمد ہونا چاہئے، اگر ذخیرہ اندوروں کو قابو کر کے ان کیخلاف بھرپور کریک ڈائون کیا جائے تو کسی حد تک مہنگائی کو قابو کیا جا سکتا ہے' اس کے علاوہ حکومت کو جتنے اقدامات کورونا ویکسی نیشن روکنے کیلئے کرنا ہونگے اتنے ہی توانائی مہنگائی کنٹرول کرنے میں بھی صرف کرنا ہوگی تبھی جا کر کہیںعوام تحفظ اور سکھ کا سانس لے سکیں گے۔