نکاح یا کاروبار؟

نکاح یا کاروبار؟

تحریر: ڈاکٹر سردارجمال

زبانی طور تو کہا جاتا ہے کہ بیوی اور شوہر گاڑی کے دو پہیے ہیں مگر عملی طور پر ایسا کچھ نظر  نہیں آ رہا ہے۔ اس کی وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ ہم الفاظ کے معنی اور تقدس نہیں جانتے اور یا ہم حد درجے کے منافق اور مکار ہیں۔ اگر ہم الفاظ کا تقدس جانتے ہوتے تو ہم رشتوں کو کبھی پامال نہ کرتے اور نہ کھبی مقدس رشتوں کو کاروبار کی نظر سے دیکھا کرتے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مرد عورت کے بغیر اور عورت مرد کے بغیر ادھوری ہے۔ جہاں تک ازواجی زندگی کا معاملہ ہے تو اس کے لئے نکاح کرنے کی ضرورت ہے۔ انسانوں میں نکاح کرنے کا یہ مقدس رشتہ اتنا پرانا ہے جتنا خود انسان پرانا ہے۔ وہ الگ بات ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کے طریقہ کار میں ضرور تھوڑا بہت فرق آ چکا ہے لیکن ہر دور میں نکاح کا مقصد عورت کو صرف ایک مرد تک محدود کرنا ہے جس کو شوہر کا نام دیا گیا ہے۔ مرد کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بیوی کے نان نقہ کا خیال رکھے اور ساتھ ساتھ زندگی کی دوسرے اہم ضروریات پوری کرے۔ اسلام سے پہلے جب قبائلی دور کا قانون چل رہا تھا تو اس دور میں عورت سے نارواسلوک رکھا گیا، عورت سے سخت مشقت لینا اور اس کے احساسات اور جذبات کو نظرانداز کرنا مرد کی مردانگی سمجھا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ عورت کو مارنا پیٹنا عام سی بات سمجھی جاتی تھی۔ اس کے علاوہ عورت کو کم تر سمجھ کر ان سے مشورہ نہ لینا بہتر عمل سمجھا جاتا تھا۔ اس لئے ہزاروں سال کی اس لمبی تاریخ میں عورت محکوم رہی اور اس بے چاری کو ہر قسم کا جبر اور ظلم برداشت کرنا پڑا۔ اسلام کے آنے کے بعد عورت کو حقوق مل گئے بلکہ عورت کو پہلی بار  انسان سمجھا گیا مگر اسلام کی اپنی مرضی سے تاویلیں کر کے عورت کو وہ حقوق نہ مل سکے جو اسلام نے دیئے تھے اور خاص کر پشتون معاشرے میں قرآن کے احکامات پشتون تناظر میں پیش کئے گئے۔ اس لئے عورت کو کوئی خاص ریلیف نہ مل سکا۔ عورت کے حقوق کے حوالے سے اس خلا کو دیکھ کر یورپی قوانین کی یلغار ہوئی۔ اہل یورپ حقوق نسواں کے نام سے دعوی کر رہے ہیں کہ ہم عورت کو مکمل حقوق دے رہے ہیں اس لئے انہوں نے مختلفNGOs  کے نام پر کام شروع کیا اور اس کے ساتھ ہی قوانین میں ترامیم کر کے نئے قوانین حقوق نسواں کے نام سے شامل کئے۔ چونکہ ہم نے پشتون روایات کی رو سے عورت کا استحصال کیا تھا تو  بالکل اسی طرح اسلامی قوانین کا بھی کوئی خیال نہ رکھ سکے۔ اس لئے اس تیسرے قانون نے عورت کا بھی بیڑا غرق کر دیا۔ حقوق نسواں کے نام پر عورت اپنے حقوق سے محروم کر دی گئی۔ مہر کے معاملے میں رجسٹرڈ نکاح لازمی قرار دیا گیا۔ مہر میں بھاری بھاری رقوم لکھی جاتی ہیں۔ جب میاں بیوی کے درمیان معمولی تلخ کلامی آ جاتی ہے تو بیوی فیملی کورٹ کا رخ کرتی ہے اور وہاں وکیلوں سے حق مہر وغیرہ کے بارے میں جو آسان راستے دریافت کرتی ہے تو پھر دوبارہ گھر بسانا دور کی بات بن جاتی ہے۔ بیوی کو حق مہر میں بہت کچھ دینا اچھی بات ہے لیکن اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ پیسوں کے لالچ میں آ کر اپنا گھر اجاڑ دیا جائے۔ حدیث پاک ہے کہ بہتر سے بہتر نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم حق مہر مقرر کیا گیا ہے۔ اس حدیث پاک میں یہی فلسفہ ہے کہ انسان بنیادی طور پر لالچی ہے۔ اس لالچ کی بنیاد پر بیوی، بیوی کا باپ اور بھائی لالچ میں آ کر فیملی کورٹ چلے جاتے ہیں تاکہ لاکھوں کا حق مہر وصول کر کے مزے کریں۔ زیادہ سے زیادہ حق مہر مقرر کرنے کا اور برائے نام حقوق نسواں نے میاں بیوی کے گھر اجاڑ دیئے  ہیں۔ دوسری جو اہم و عجیب بات ہے وہ یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ قانون کی شکل میں نکاح کاروبار میں تبدیل ہو رہا ہے۔ پہلے جب بیوی کو طلاق دی جاتی تھی تو پھر بیوی کو پورے کا پورا حق مہر دیا جاتا اور جب بیوی طلاق یعنی خلع مانگ لیتی تو وہ حق مہر سے محروم رہ جاتی تھی مگر اب طلاق اور خلع ایک ہی سمجھے جاتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہی ہے کہ طلاق میں سو فیصد حق مہر دیا جاتا ہے جبکہ خلع میں پچہتر فی صد حق مہر دینا پڑتا ہے۔ جب سے یہ مقدس رشتہ کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے تو بعض لوگ اس قانون سے غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ کل کی بات ہے کہ صوابی ڈی پی او محمد شعیب نے ایک عورت کو بند کمرے میں رسیوں سے بندھی ہوئی برآمد کیا ہے جو بھائیوں نے ایک سال سے کمرے میں بند رکھی تھی۔ وجہ یہ تھی کہ وہ اپنی بہن کو مجبور کر رہے تھے کہ شوہر سے عدالت کے ذریعے حق مہر کے ساتھ اور دوسرے خرچے لے لو تاکہ ہمارے ہاتھ کثیر رقم آ سکے لیکن وہ عورت ایسا کرنے کے لئے تیار نہ تھی اور وہ مسلسل ایک سال تک تشدد برداشت کرتی رہی۔ یہ صرف ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ اس طرح کے ہزاروں واقعات ہیں مگر اس حوالے سے قانون کی آنکھ نابینا ہے۔ فیملی کورٹس میں اس طرح کے کئی کیسز ہیں جہاں عورت باپ یا بھائیوں کی وجہ سے مجبور ہوتی ہے اور عدالت میں خاوند کے خلاف کھڑی ہو کر اس کو ظالم اور جابر گردانتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ مجھے حق مہر دیا جائے اور ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کرتی ہے کہ مجھے خلع دی جائے کیونکہ مجھے شوہر سے جان کا خطرہ ہے اور میں کسی صورت شوہر کے ساتھ بسنا نہیں چاہتی۔ لہذا قانون میں اعتدال ہونا چاہیے اور دوطرفہ موقف سننا چاہیے۔ ایسا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ جب عورت عدالت جاتی ہے تو اس کو تین مہینوں کے لئے شوہر اور والدین سے الگ رکھنا چاہیے اور اس کو نفسیات دانوں کے سپرد کرنا چاہیے تاکہ وہ اچھی طرح عورت کا نفسیاتی جائزہ لے سکیں اور پھر جج صاحب کو اس کی رپورٹس پیش کریں اور اس کے بعد جج صاحب مناسب فیصلہ کریں ناکہ لڑکی باپ کے گھر رہ کر خاوند کے خلاف بھڑکائی جائے اور گھر بسانے کا موقع ہی نہ دیا جائے۔