اِک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

اِک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

     عزیز بونیرے

بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اِک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

زندگی میں رشتے ملا ہی کرتے ہیں مگر ایک انسانی رشتہ ایسا ہے جس میں زندگی ملا کرتی ہے اور وہ رشتہ ہے دوستی کا رشتہ! زندگی میں ہر رشتے کی اپنی ضرورت اور اہمیت ہوتی ہے۔ جس طرح پانی کی پیاس دنیا کی کسی نعمت سے پوری نہیں کی جا سکتی اسی طرح دوستوں کی کمی کو مال و دولت کی آسائشوں سے پورا نہیں کیا جا سکتا۔ 

 

دوست وہ ہیں جن کے سامنے اٹھنے بیٹھنے ہنسنے بولنے کے اصولوں کا حساب کتاب نہیں رکھنا پڑتا۔ کب بولنا اور کتنا بولنا ہے، کمزوریوں کو کیسے نہیں بتانا، آنسوؤں کی نمی کو بہانوں میں کیسے چھپانا ہے جیسے مشکل اور تھکا دینے والے عمل سے گزرنا نہیں پڑتا۔ دوستوں کے ایک مصافحے پر اپنے دل کی ڈور ان کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں، آنکھوں کے اشاروں سے الجھن سما دیتے ہیں اور ایک بار گلے لگتے ہی تمام دنیا سے چھپائے ہوئے خوف و الم الف تا ی سنا دیتے ہیں۔ 

 

یہ سب نعمتیں جو دوستی کے رشتے کے عوض ملتی ہیں دل کو سمندر کا سا سکوت اور صاف نیلگوں آسمان کی طرح کی وسعت عطا کرتی ہیں، ہمیں دنیا سے لڑنے کیلئے نئے سرے سے تیار کرتی ہیں۔ دوست غموں کے اکاؤنٹ کو خالی کر کے خوشیوں قہقہوں اور مسکراہٹوں کے خزانوں سے بھر دیتے ہیں۔ یہ وہ اثاثہ ہیں جو انسانی سے کوئی چھین نہیں سکتا۔ والدین مشکل وقت میں سائبان بن کر مشکلوں سے محفوظ کرنے کی سعی کرتے ہیں۔ بیوی شوہر کی کامیابی اور حفاظت کی دعائیں مانگتی ہے۔ شوہر مشکل وقت میں بیوی کا حوصلہ بڑھاتا ہے۔ لیکن صرف ایک رشتہ، دوست ایسا ہے جو امتحانوں میں ہمارے ساتھ قدم سے قدم، کندھے سے کندھا اور ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے مشکلوں کا ایک ساتھ سامنا کرنے جاتا ہے۔ 

دوستی کا رشتہ سکول کے دوست، کالج کے دوست، یونیورسٹی کے دوست، نظریاتی دوست خوشیوں اور مشکلوں کے ایسے ساتھی ہوتے ہیںکہ آنسوؤں میں قہقہے شامل ہوتے ہیں۔ لڑائیوں سے محبت بڑھتی ہے۔ چھین کر کھانے سے ہی بھوک مٹتی ہے اور بہت بولنے سے بھی دل نہیں بھرتا۔ یہ سب احساسات ایسے ہی ہیں جیسے کھٹی میٹھی چاٹ، شدید گرمی میں کافی اور یخ سرد ہواؤں میں آئسکریم جیسے لطیف جذبات، جی ہاں! ہم بات کریں گے نظار یوسفزئی مرحوم کی جس نے عمر کا بیشتر حصہ پردیس میں گزارا اور وہاں پر انہوں نے دوستی کا ایک ایسا ہی گلدستہ بنایا جس میں اب صرف نظار یوسفزئی کی کمی ہے، جس کی وجہ سے وہ محفلیں جس میں نظار یوسفزئی کی ہنسی مذاق، شعر و شاعری، پختون قوم کو درپیش مسائل پر مفصل گفت و شنید ہوتی رہی، اب وہ تمام محفلیں ویران ہو گئیں۔

 

متحدہ عرب امارات میں موجود عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر عبد اللہ خان کی سربراہی میں متحدہ عرب امارات شارجہ کے صدر زرین زادہ ایسپزئی، جنرل سیکرٹری بخت زمین خان بونیری، نائب صدر جاوید اقبال، ملک میر اکبر شاہ، حاجی عریب گل اور نعیم آدم خان ان کے آبائی گاؤں شاہ منصور پہنچے جہاں پر مقامی تنظیم کے ساتھیوں تمریز خان، فواد خان، میاں یوسفزئی اور وصال خان نے عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی اور دیگر اسٹیٹ کی تنظیموں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پارٹی، تنظیمی ساتھیوں کی نظار یوسفزئی کے بچوں کے ساتھ موجودگی نے ثابت کر دیا ہے کہ نظار یوسفزئی مرحوم نے سیاست، ادب اور صحافت میں ایسے دوست پیدا کئے جن کی مثال نہیں ہے۔

 

عوامی نیشنل پارٹی کے وفد نے مرحوم کی قبر پر حاضری دی اور ان کی قبر پھولوں کا گلدستہ رکھا۔ اس موقع پر متحدہ عرب امارات سے نظار یوسفزئی کے خاندان کے ساتھ غم رازی کیلئے آئے ہوئے وفد کے ارکان اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکے اور بلک بلک کر رو دیئے۔ نظار یوسفزئی مرحوم گزشتہ سال دسمبر میں اپنے بھائی کی وفات پر متحدہ عرب امارات سے آئے، کون جانتا تھا کہ جس حجرے میں نظار غم گساروں کے ساتھ بھائی کے لیے دعا کر رہے ہیں، اگلی صبح اسی جگہ لوگ انہیں یاد کر کے رو رہے ہوں گے۔ 

نظار یوسفزئی نے متحدہ عرب امارات میں دوستی کی مثال قائم کی تھی۔ ان کے انتقال کو چھ ماہ گزرنے کے باوجود شائد ہی کوئی ایسا دن ہو کہ جب نظار یوسفزئی کی قبر پر فاتحہ خوانی کیلئے بیرون ملک مقیم پختونوں کا کوئی وفد موجود نہ ہو۔ بہترین دوست وہی ہیں جو ہمیں اس دنیا کی تاریک اور بدصورت حقیقتوں سے بہادروں کی طرح نبردآزما ہونا سکھائیں۔ ہماری غلطی کو غلط کہیں اور اچھائی کو صحیح طریقے سے شناخت کریں اور ہمارے رویے کو بہتر بنانے کی غرض سے پرخلوص نصیحت کی اہلیت رکھتے ہوں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے۔ اللہ ہم سب کو بہترین دوست عطا فرمائے، ہمیں اپنے دوستوں کیلئے بہترین دوست بننے کی ہمت دے اور ہمارے دوستوں کی حفاظت فرمائے اور دنیا کے دوستوں کو جنت کے راستوں کا ہمراہی بنا دے تاکہ وہاں بھی ہم ساتھ رہیں۔
دنیا میں بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے بچھڑنے کے بعد بے ساختہ دل کہہ اٹھتا ہے:
بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
اِک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

 

گلستان سیاست، میدانِ ادب اور دنیائے صحافت کے افق سے ایک سورج اور غروب ہوا۔ یہی نظام قدرت ہے کہ فانی چیزوں کو زوال ہے۔ نظار یوسفزئی سفر آخرت پر روانہ ہوئے۔ اس حقیقت میں کوئی شبہ نہیں۔ وہ ایک اچھے سیاستدان، خوش اخلاق، ملنسار اور بہترین انسان تھے۔ ان کی حیثیت ایک سایہ دار شجر کی مانند تھی جس کی چھاؤں میں بیٹھ کر نصیحت اور مخلوق خدا کی خدمت کرنے کے چراغ جلائے جاتے تھے۔

 

نظاریوسفزئی ان سیاسی ورکروں میں سے تھے جو اپنی جماعت اور اپنی قوم کو اپنا مقروض کر دیتے ہیں۔ آپ نے ایسے لوگ کبھی دیکھے ہیں جن کی تلخ کلامیوں پر بھی انسان کو پیار آ جاتا ہے؟ جن کے دشنام بھی آپ کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتے ہیں؟ اگر دیکھا ہے تو آپ نے نظار یوسفزئی کو کہیں نہ کہیں دیکھ رکھا ہے۔ یہ لوگ زمین کا نمک ہوتے ہیں، ان کا کہا کبھی غلط نہیں ہوتا۔ ان کی ڈانٹ میں قہر ہوتا ہے مگر چبھن نہیں ہوتی۔ کئی بار ایسا ہوا کہ اپنی قوم کا سوال آیا تو اپنی ہی پارٹی کی بزرگ قیادت سے بِِھڑ گئے۔ قیادت نے کبھی اس کی بات کا برا نہیں منایا۔ ان کے منہ میں رکھ کر لوگ اپنی شکایت آگے پہنچاتے تھے۔ یہ اسی کا مقام تھا کہ بات کرے تو بات ہی نہ پہنچے، سطور کے بیچ چھپا ہوا درد بھی پہنچے۔ بات پہنچے تو دوری نہ پیدا کرے، اثر پیدا کرے۔ دراصل اس کے نامے میں کچھ چیزیں تھیں، جس کا کوئی مول ہو سکتا ہے نہ کوئی تول ہو سکتا ہے۔ کردار کی بلندی تھی اور نیت کی صفائی تھی۔ مسلسل ایک تڑپ تھی اور درد ہی درد تھا۔ درد ہی وہ طاقت ہے جو دِلوں کو مسخر کرتی ہے۔ فیض نے اپنے دائیں بائیں بلند قامت لوگوں کے ہجوم میں کسی بلند نگاہ نظار کو دیکھ کر ہی کہا ہو گا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

نظار یوسفزئی مرحوم کی موت نے متحدہ عرب امارات کی وہ تمام محفلیں ویران کر دیں جہاں پر انہوں نے زندگی کا بیشتر عرصہ گزارا ہے۔ آج بھی ان کے وہ دوست جب بھی پردیس سے وطن آتے ہیں تو سب سے پہلے وہ نظار یوسفزئی کی قبر پر فاتحہ خوانی کیلئے ضرور حاضری دیتے ہیں۔ یہ نظار یوسفزئی مرحوم کی محنت سے بنائی گئی وہ متاع ہے ان کے مرنے کے بعد بھی کمی کے بجائے جس میں مزید اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ اور ان کے بچے اور اہل خاندان آج فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ نظار یوسفزئی نے تمام عمر ایسے دوستوں کے ساتھ گزاری ہے جن کی کوئی مثال نہیں ملتی۔