بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ جام کمال کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد پیش

بلوچستان اسمبلی میں وزیراعلیٰ جام کمال کیخلاف تحریک عدم اعتماد کی قرار داد پیش

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی صدارت میں شروع ہوگیا ہے جس میں وزیراعلیٰ جام کمال کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی۔

 

رکن اسمبلی سردار عبدالرحمان کھیتران نے وزیراعلیٰ کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی۔

 

اس موقع پر عبدالرحمان کھیتران کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ کی خراب حکمرانی کے باعث مایوسی، بدامنی، بیروزگاری، اداروں کی کارکردگی متاثرہوئی ہے،وزیراعلی خود کو عقل کُل سمجھ کراہم معاملات کو مشاورت کیے بغیر چلارہے ہیں۔

 

عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ اہم معاملات کو مشاورت کے بغیر چلانے سے صوبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایاگیا، وزیراعلیٰ جام کمال خان اپنے طور پر صوبے کے معاملات چلارہے ہیں، مطالبہ کرتے ہیں کہ خراب کارکردگی پر وزیراعلیٰ کوعہدے سے ہٹایا جائے۔

 

خیال رہے کہ جام کمال کو عہدے سے ہٹانے کے لیے اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومتی ارکان بھی ان کے خلاف ہوگئے ہیں جبکہ جام کمال نے واضح طور پرکہہ دیا ہے کہ وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔

 

اس سے قبل حکمران جماعت بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما ظہور احمد بلیدی کا کہنا ہے کہ 36 ممبر شو کر دئیے، 65 کے ایوان میں 40 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

 

ملک سکندر، اسد بلوچ اور دیگر رہنماؤں نے بھی وزیراعلیٰ جام کمال کو مستعفی ہونے کا مشورہ دے دیا۔ 65 ارکان کی بلوچستان اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کے لیے 33 ارکان کی حمایت کی ضرورت ہے۔

 

وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کا کہنا تھا کہ پہلے روز سے کہہ رہا ہوں کہ اتحادی ہمارے ساتھ ہیں اور ہم پر امید ہیں، پہلی مرتبہ اپوزیشن حکمراں جماعت کے ساتھ ملکر کھیل رہی ہے، سیاست میں سب پر اعتماد ہوتے ہیں، سیاست میں پر اعتمادی ہونی بھی چاہیے، کیسے ممکن ہے حکومتی ارکان اپوزیشن کے ساتھ ملکرتحریک لیکر آئیں، اگرتحریک عدم اعتماد اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے آتی تو بات بنتی تھی، اپوزیشن نے نا اتفاقی پیدا کرنے کے لیے ماحول پیدا کیا، 26 ممبران ہمارے ساتھ ہیں۔