سازش نہیں ہوئی: جھوٹا کون ہے؟

سازش نہیں ہوئی: جھوٹا کون ہے؟

قومی سلامتی کمیٹی نے خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس، سابق سفیر اسد مجید کی بریفنگ اور پاکستانی سفارت خانے سے موصول ہونے والے مراسلے کے مندرجات کا جائزہ لینے کے بعد نتیجہ اخذ کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی سابق حکومت کے خلاف کسی قسم کی کوئی غیرملکی سازش نہیں ہوئی۔ جمعہ کو کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کا 38ویں اجلاس وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہوا جس میں وفاقی وزرا خواجہ محمد آصف، رانا ثنا اللہ، مریم اورنگزیب، احسن اقبال، وزیرمملکت حنا ربانی کھر، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیف آف نیول سٹاف ایڈمرل محمد امجد خان نیازی، چیف آف ایئر سٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر، امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اسد مجید اور اعلی سول و فوجی افسران نے شرکت کی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے سے موصول شدہ ٹیلی گرام پر تبادلہ خیال کیا جبکہ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر نے اپنے مراسلہ کے بارے میں کمیٹی کو بریفنگ دی۔ نیشنل سکیورٹی کمیٹی نے مراسلہ کے مندرجات کا جائزہ لینے کے بعد کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کا اعادہ کیا۔ نیشنل سکیورٹی کمیٹی کو دوبارہ ملک کی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے آگاہ کیا گیا کہ انہیں کسی سازش کے شواہد نہیں ملے اس لئے نیشنل سکیورٹی کمیٹی موصول شدہ مراسلے کے مندرجات کا جائزہ لینے اور سیکورٹی ایجنسیز کی جانب سے پیش کر دہ نتائج کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ کوئی غیرملکی سازش نہیں ہوئی۔ اس سے قبل مارچ کے اواخر میں بھی سابق قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا تھا جس کے حوالے سے متضاد دعوے سامنے آئے تھے۔ ساب وزیر اعظم اور سندیافتہ صادق و امین نے دعوی کیا تھا کہ کمیٹ نے ان کے الزامات کی توثیق کی تھی جبکہ بعدازاں ترجمان پاک فوج کی جانب سے اس کی تردید اور کہا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ میں لفظ سازش شامل نہیں تھا۔ دوسری جانب تحریک انصاف تاحال اسی بیانیہ کی بنیاد پر قوم سے تعاون و حمایر کی اپیل کر رہی ہے۔ جمعہ کو بھی لاہور جلسہ میں تحریک انساف کی قیادت کی جانب سے یہی الزامات دہرائے گئے تھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان اگر آج بھی صادق و امین ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین فورم اور اس سے وابستہ اعلیٰ ترین ساری شخصیات جھوٹ اور دروغ گوئی سے کام لے رہی ہیں، اور اگر یہ حقیقت کو طشت ازبام کر رہی ہیں تو پھر عمران خان صادق اور امین کیسے ہوئے؟ اس سے بھی بڑا اور بنیادی سوال یہ بھی بنتا ہے، جو آج کل مختلف حلقوں کی جانب سے اٹھایا بھی جا رہا ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری سمیت ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت میں سے شاید ہی کچھ رہنماء ایسے بچے ہوں جنہوں نے جیل کی ہوا نا کھائی ہو، نواز شریف کو تو عدالت فیصلے کے زریعے ناصرف تاحیات نااہل کیا گیا بلکہ ان سے پارٹی کی صدارت بھی چھین لی گئی، اب کیا وجہ ہے کہ عمران خان کے اتنے جھوٹ، اتنی سازشیں سامنے آںے کے باوجود، اس جھوٹے بیانیے پر لوگوں کو ابھارنے، اکسانے اور ان سے ملکی سلامتی اداروں اور اعلیٰ عدلیہ کے خلاف نعرے لگوانے کے باوجود وہ نا صرف آزاد گھوم پھر رہا ہے بلکہ ملک و قوم کی بدنامی کا بھی مسلسل باعث بن رہا ہے، کیا وہ واقعی بعض اداروں کے چہیتے ہیں؟ یا مقتدر حلقے اس کی مقبولیت  سے خائف ہیں؟ کیا سیاسی سطح پر بھی ایک نہیں دو پاکستان ہیں، نواز شریف و دیگر کیلئے ایک پاکستان تو عمران خان کے لئے دوسرا پاکستان؟ اب عمران خان کے نشانے پر چیف الیکشن کمشنر بھی آ گئے ہیں کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اگلے دو تین ہفتوں میں اس کے خلاف ایک سخت قسم کا فیصلہ آ سکتا ہے۔ حکومت اور مقتدر حلقوں کو عمران خان کا راستہ روک لینا چاہئے اس سے قبل کہ بہت زیادہ دیر ہو جائے۔