نفرت نہیں محبت بانٹنے کی ضرورت

نفرت نہیں محبت بانٹنے کی ضرورت

تحریر: انعام ازل آفریدی

وطن عزیز کو اللہ تعالی نے جس طرح مختلف موسموں، حسین وادیوں، سنگلاخ پہاڑوں، گھنے جنگلوں، دریاؤں، صحراؤں، ہموار زمینوں اور فصلوں سے نوازا ہے، عین اسی طرح مختلف اقوام کے زریعے ریاست پاکستان کو اللہ نے حسن اور جلا بخشی ہے۔ رب کائنات کی اتنی نوازشوں اور مہربانیوں کے باوجود کسی بھی پاکستانی شہری کو ذہنی اور دلی سکون میسر نہیں، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ قومیتوں میں باہمی اتفاق و اعتماد کی کمی ہے۔ وہ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ اس پرچم کے سائے تلے ھم ایک ہیں، اور اس میں کوئی شک بھی نہیں تو پھر آخرکار وجہ کیا ہے کہ لگ بھگ73  سال بعد بھی ھم ترقی اور خوشحالی کی وہ منزل نہ پا سکے جس کا خواب شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے دیکھا تھا۔ یہ ایک پیچیدہ اور مشکل سوال تو ضرور ہے لیکن تاریخ سچ اور حقیقت  کو سہل بنا دیتی ہے۔ لیکن ہمارے ہاں حقیقت کو آشکارا اور سچ کی خلعت میں قوم کے سامنے پیش کرنا سقراط کے زھر کی پیالی سے ہرگز کم نہ ہو گا۔ لیکن لب کشائی کے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں کیونکہ سچ ظاہر کئے بغیر منزل پانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے۔ میری کوشش ہو گی کہ ان حقائق پر سے پردہ اٹھاؤں جو ہماری قومی ترقی میں مسلسل رکاوٹ بنتے جا رہے ہیں۔ ایک تلخ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ جب برصغیر کے لوگ آزادی کی جنگ جیتنے میں سرخرو ہوئے اور فرنگی سرکار کو علم ہوا کہ اب یہاں ٹھہرنا مشکل ہے تو انہوں نے اپنی کمال سیاست سے برصغیر کے بٹوارے کی کوشش کی جس میں وہ اپنے درباریوں کی مدد سے کافی حد تک کامیاب ہوئے۔ اور صرف اس پر بھی اکتفا نہیں کیا بلکہ تقسیم میں نظریاتی، سیاسی اور جغرافیائی رکاوٹیں کھڑی کیں تاکہ وہ سرزمین جس کو وہ خود سونے کی چڑیا سے یاد کرتے تھے، اقوام میں بے اتفاقی پیدا کرنے سے اس کو اتنا کمزور کر دیں کہ یہ سونے کی چڑیا تاقیامت سونے کے انڈے نہ دے سکے۔ اور اس تمام کھیل میں یہاں کے دیسی درباری ان کے ساتھ اس لئے شریک رہے کہ فرنگی جاتے جاتے حکومت کی باگ ڈور انہی درباریوں کو دینے کا وعدہ کر چکے تھے۔ فرنگی سرکار حکومت کی باگ ڈور کے ساتھ ساتھ اپنے چیلوں کو اقتدار قائم رکھنے کے لئے یہ سبق اور فلسفہ بھی دے گئی کہ ریاست کی اکائیوں میں نفرت بانٹو، قریب لانے کی بجائے تقسیم در تقسیم کرتے جاؤ اور حکومت کرو۔ اور وہی فلسفہ تاحال قائم و دائم ہے۔ بظاہر حکومتیں بدلتی رہتی ہیں لیکن ہر ایک کو مجبوراً اس مضبوط پنجے اور فلسفے کے تحت کارِ سرکار کو چلانا پڑتا ہے۔ اس لئے گزرے ہوئے73  سال میں کوئی بھی حکومت عوام کی امنگوں پر مجبوراً پورا اتر نہیں سکی اور نا ہی ملک کو استحکام مل سکا۔ جبکہ اس کے برعکس نفرت پھیلانے کیلئے کرائے کے ٹٹوؤں کے ذریعے عوام میں مختلف قسم کے پروپیگنڈوں سے کام لیا گیا۔ ان پروپیگنڈوں کے زریعے کسی قوم کو چور اور حرام خور، کسی کو جاہل اور مذہبی جنونی، کسی کو دہشت گرد اور سمگلر اور کسی کو جذبہ شہادت نہ رکھنے والا جبکہ منظورِ نظر کو محب وطن اور محنتی وغیرہ وغیرہ ایسے القابات سے نوازا گیا۔ اس طرح اپنے منظور نظر گماشتوں کے ذریعے عوام کے درمیان فاصلے بڑھانے کیلئے انہی فارمولوں کو بروئے کار لایا جاتا ہے تاکہ ریاست کی مختلف اقوام ایک دوسرے کے قریب نہ آ سکیں، تاکہ نا رھے بانس نا بجے بانسری۔ حقیقت یہ ہے کہ عوامی سطح پر یہ فارمولے اور پروپیگنڈے خزانے پر کافی بوجھ ڈالنے کے باوجود بھی ناقص اور ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ ریاست کے اندر تمام قومیتیں ایک ساتھ کاروبار میں نظر آتی ہیں۔ اداروں میں ایک ساتھ کام کرنے میں، مذہبی تہواروں، جلسے اور جلوسوں میں  میں بہت پیار ومحبت سے ایک دوسرے کے قریب نظر آتے ہیں۔ جبکہ فرنگی کا مسلط شدہ ٹولہ ہما وقت اس طاق میں رہتا ہے کہ عوام میں کس طرح نفرت کے بیج بو کر ایک دوسرے سے دور رکھا جائے تاکہ ان کو سرکاری خزانہ لوٹنے اور کار حکمرانی میں آسانی ہو۔ حالانکہ حکومت و ریاست کی مثال والدین کے جیسے ہوتی ہے اور والدین بچوں کے درمیان نفرت اور نفاق کو کبھی پسند نہیں کرتے۔ کیونکہ نفرت اور نفاق لڑائی جھگڑوں کو جنم دیتے ہیں اور جہاں لڑائی جھگڑے ہوں وہاں روزگار کا پہیہ جام ہو جاتا ہے، وہاں کی خوشحالی، ذہنی سکون و آرام برباد ہو جاتا ہے۔ سرمایہ کاری رک جاتی ہے اور ملک استحکام کی بجائے غیرمستحکم ہو جاتا ہے۔ لہذا عوام کو خوشحال اور ملک کو مستحکم بنانے کے لئے پیار و محبت اور امن کا راستہ اپنانا ہو گا۔ تو پھر کیوں نہ امن اور محبت کا راستہ اپنا کر ترقی کے ایک نئے سفر کیلئے کمر بستہ ہو جائیں۔ کیونکہ اب نہ فرنگی رہا اور نا ان کا فلسفہ کارگر! عوام اب علم کے ذریعے وہ سب کچھ سیکھ اور جان چکے ہیں جو ان سے73  سال تک خفیہ رکھا گیا تھا۔ حالات بدل چکے ہیں، عوام اب آئین کی حکمرانی، انصاف، تعلیم اور صحت کی بہتر سہولیات کے لئے کوشاں نظر آتے ہیں۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تاریخی خولوں سے  نکل کر حقیقت کے روشن باب کو اپنا کر  سبز ہلالی پرچم تلے سب ایک ہو جائیں، نفرت کی جگہ محبت بانٹنے کی کوشش کریں اور ایک مستحکم پاکستان کی داغ بیل ڈال کر دنیا پر ثابت کریں کہ ھم ایک تھے، ایک ہیں اور ایک ہی رہیں گے۔  اور اس کیلئے فلسفہ فرنگی کو چھوڑ کر فلسفہ مومن اپنانا ہو گا۔ بقول شاعر
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود وآیاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز