انصاف کے نظام سے کوئی خوش نہیں 

انصاف کے نظام سے کوئی خوش نہیں 

اعجاز احمد
پاکستان کے عدلیہ کو سرجری کی ضرورت ہے۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس قاضی فا ئز عیسی نے سامعین اور نا ظرین سے پوچھا  آپ  میں سے جو پاکستان میں عدلیہ اور انصاف کے نظام سے مطمئن ہیں تو حق میں ہاتھ اٹھائیں۔ مگر بد قسمتی سے ججز حضرات، وکلا برادری اور قانون کے طلبا سے کچا کچ ہال میں کسی نے بھی عدلیہ اور انصاف کے نظام کے حق میں ہاتھ نہیں اٹھایا۔ خود ججز حضرات، وکلا برا دری اور قانون کے طالب علم عدلیہ کے نظام سے کوئی زیادہ خوش نہیں۔ کسی ریاست کے چار ستون میں مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور صحافت شامل ہیں مگر اس میں عدلیہ کا کردار انتہائی   اہم اورکلیدی ہوتا ہے اورریاستی اداروں کی کسی کنفیوژن میں تمام اداروں کی نظریں مسائل حل کرنے میں عدلیہ پر ہوتی ہیں۔ پاکستان کو بہت سارے اندرونی اور بیرونی مسائل کے ساتھ ساتھ عوام کو انصاف کی فراہمی میں سستی اور کاہلی کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کے مطابق وطن عزیز میں کرپشن اور بد عنوانی میں پولیس سر فہرست اور عدلیہ دوسرے نمبر پر ہے۔ دوسرے عالمی سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان انصاف کی فراہمی میں دنیا کے 180 ممالک میں 120 ویں نمبر پر ہے۔ فی الوقت عدالتوں میں تقریبا 21 لاکھ کیسز زیر التوا ہیں  انصاف کی راہ میں اس قسم کی سست رفتاری سے عوام کا  اعتماد عدلیہ سے اٹھتا جا رہا ہے جو نہ صرف  ملک کے 22 کروڑ عوام بلکہ معزز عدلیہ کے حق میں بھی نہیں۔اس سے معزز عدلیہ کی تضحیک اور توہین ہو رہی ہوتی ہے۔کسی بھی ریاست میں جب عدلیہ کا کردار موثر نہیں ہوتا وہ ریاست ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہے۔ معزز سپریم کو رٹ نے مختلف کیسوں کو شفافیت اور انصاف سے حل کرنے کے لئے 2009 کی جو جوڈیشل پالیسی بنائی ہے اسی پالیسی کے مطابق ہر قسم کے عدالتی کیسوں کے حل کرنے کے لئے ٹائم فریم یعنی وقت مقرر ہے۔ مثلا دیوانی مقدمات کے حل کے لئے معزز سپریم کورٹ نے ایک سال کا وقت مقرر کیا ہے۔فیملی مقدمات کیس فیصلہ کرنے کے لئے 6 ماہ وقت مقرر ہے۔کرایہ داری کیسز کے لئے ٹائم فریم یا وقت مقررہ 4  ماہ، تعزیرات پاکستان میں 7سال تک سزا پانے والوں کو کیسز کے لئے مقررہ وقت 6 ماہ، سات7 سال سے اوپر سزائوں والے کیسز میں فیصلہ کرنے کے لئے ٹائم فریم ایک سال، سول کیسز میں حکم امتناعی درخواست فیصلہ کرنے کے لئے 15 دن، منشیات کیس کے لئے ٹائم فریم  6 مہینے، غیر قانونی بے دخلی کے کیس کے لئے ٹائم فریم 60 دن، ضمانت درخواست فیصلہ کرنے کے لئے جوڈیشل مجسٹریٹ کے لئے ٹائم فریم 3 دن، سیشن اور ایڈیشنل ججز کے لئے اسی کیس میں ٹائم فریم 5 دن اور ہائی کورٹ کے لئے ضمانت درخواست فیصلہ کرنے کے لئے 15 دن مقرر ہیں۔ 


اگر ہم سپریم کو رٹ کے مندرجہ بالا واضح احکاما ت پر نظر ڈالیں تو بد قسمتی سے ما تخت عدلیہ سپریم کو رٹ کے احکامات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں خاطر خوا کامیابی حا صل نہ کرسکی۔ اس میں صرف عدلیہ کا قصور نہیں بلکہ ساتھ ساتھ وکلا، ریڈر حضرات بھی اس میں برابر کے قصوروار ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو ریڈر حضرات اس لیول کے نہیں ہوتے جس لیول  اور معیاری فیصلہ سازی کے لئے سکل اور تجربے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ سپریم کو رٹ اور لاء کمیشن کی قومی پالیسیوں کو سمجھ سکیں اور ججز کے ساتھ باہم ملکر اس کو احسن طریقے سیٹرانسلیٹ  اورنا فذ کرنے میں مدد دے سکیں۔ بد قسمتی سے وہ سائلین کو بغیر کسی لاجک  اور دلیل کے تاریخ پہ تاریخ دے رہے ہوتے ہیں  اور آخر میں وہ ملک کے سست عدالتی نظام سے تنگ آکر قانون خود اپنے ہاتھوں میں لیتے ہیں۔ 


ججز حضرات کی استعداد کارمیں کمی بیشی کو تربیتی کورسز سے دور کیا جائے۔ معزز ججز حضرات کو کیسز وائنڈنگ اپ کرنے یعنی منتقی انجام تک پہنچانے، فیصلہ سازی قوت بڑھانے اور کیس ڈرافٹنگ میں کافی مشکلات پیش آتی ہیں۔ جس کے لئے  ضروری ہے کہ انکے اس قسم کے پیشہ ورانہ کمزوریوں کودور کیا جائے۔ معزز سپریم کو رٹ سے استد عا ہے کہ وہ سال 2009کے جو ڈیشل پالیسی کو یقینی بنائیں اور مختلف کیسوں کے لئے جو ٹائم فریم بنایا گیاہے اسکو عملی بنائیں۔