اور اب ڈینگی کی باری ہے

اور اب ڈینگی کی باری ہے

کورونا وائرس کا زور ابھی ٹوٹا نہیں تھا کہ ڈینگی کی ایک نئی لہر شروع ہو گئی ہے جبکہ عوام اس سے بچاؤ کی تدابیر اختیار کرنے کی بجائے اس خوف میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ ہو گا تو کیا ہو گا کیونکہ تاحال انسدادی ڈینگی کے حوالے سے حکومتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ گزشتہ روز صوبائی دارالحکومت پشاور میں 100سے زائد افراد میں ڈینگی وائرس کی تشخیص ہوئی جو ہر لحاظ سے ایک تشویش ناک امر ہے، خدشہ ہے کہ اس وباء سے بچاؤ کی اگر بروقت تدابیر نہ کی گئیں تو اس کا وار بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک ہی دن میں100  کیسز کے منظر عام پر آنے سے دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد بھی اس خوف کے مارے کہ کہیں انہیں ڈینگی نہ لاحق ہو جائے ہستپال آنے سے گھبرانے لگے ہیں۔ دوسری جانب انسدادی ڈینگی کے ضمن میں حکومتی اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے بھی عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور اہالیان پشاور میں یہ تشویش پائی جانے لگی ہے کہ کہیں دوبارہ سے پشاور میں یہ وباء نہ پھیل جائے۔ معلومات کے مطابق کہیں بھی کوئی مچھر مار سپرے نہیںکرائے جا رہے، صفائی کے بھی ناقص اقدامات ہیں، حکومتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، اندرون پشاور سمیت مضافاتی علاقے بشیر آباد، تہکال، پشتہ خرہ، نوے کلے، آبدرہ، سفید ڈھیری اور ملحقہ علاقوں میں مریضوں کی تعداد میں اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے اور ان علاقوں کا ہر دوسرا مریض اسی وباء کا شکار بتایا جا رہا ہے تاہم حکومت نے متاثرہ علاقوں میں تاحال مچھر مار سپرے سمیت دیگر حفاظتی اقدامات نہیں کئے جس پر شہریوں میں مایوسی پائی جانے لگی ہے۔ اس سے قبل انہی علاقوں کے لوگ حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ صفائی کی ابتر صورتحال ہے، بہتر اقدامات کئے جائیں لیکن ایسا کہیں بھی ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ پشاور کے بڑے ہسپتالوں، حیات آباد میڈیکل کمپلیکس ہسپتال میں5  مریضوں جبکہ پشاور کے مرکزی ہسپتال لیڈی ریڈنگ میں ایک ہی دن 50 سے زائد افراد میں ڈینگی وائرس کی تشخیص اس خطرے کی گھنٹی ہے کہ یہ وباء دوبارہ سے جڑ پکڑ رہی ہے، فوری طور پر اقدامات نا کئے گئے تو بعد میں روک تھام مشکل ہو جائے گی اس لئے اس سلسلے میں حکومت کو بھرپور اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ کورونا کے انسداد کے لئے ہونے والے اقدامات سے وباء کو قابو کرنے میں بہت مدد ملی ہے جیسا کہ سمارٹ لاک ڈاؤن، ویکسینیشن اور دیگر طریقے آزمائے گئے لیکن ڈینگی کیلئے لاک ڈاؤن کارگر ثابت نہیں ہوتا بلکہ اس کے لئے صفائی کا خاص خیال رکھنا ہو گا۔ حالیہ اقدامات سے اندازہ ہو رہا ہے کہ ڈینگی کو کم تر لیا جا رہا ہے ایسے میں دورافتادہ علاقوں میں رہنے والے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ وہاں پہلے سے کئی مسائل موجود ہیں جن میں سے ایک صفائی کی ابتر صورتحال بھی ہے۔ عملہ صفائی ویسے بھی ان علاقوں کا رخ نہیں کرتا جیسا کہ بشیر آباد کا علاقہ ہے جہاں ہر دوسرے خالی پلاٹ میں گندگی کے ڈھیر لگے پڑے ہیں اور صفائی کرنے والا کوئی نہیں، لوگ خود کچرا ٹھکانے لگا دیتے ہیں یا پھر جلا دیتے ہیں اور یہی ان مچھروں کی بہترین افزائش پانے کی جگہ مانی جاتی ہے۔ حکومت کو ان علاقوں میں صفائی کی ابتر صورتحال بہتر بنانے سمیت صوبہ بھر میں مچھر مار سپرے کرانے ہوں گے اور ساتھ میں مریضوں کو ہسپتال میں بھی بہترین سہولیات بہم پہنچانا ہوں گی تاکہ اس وباء کو خطرناک صورت اختیار کرنے سے قبل ہی قابو کیا جا سکے۔
 

ٹیگس