خدائی خدمتگاروں کی تقریبِ حلف برداری

خدائی خدمتگاروں کی تقریبِ حلف برداری

تحریر: محمد عرفان

بابائے امن، فخر افغان، رئیس الاحرار، فاضل دیوبند حضرت باچا خان نے جس انجمن اصلاح افاغنہ کی بنیاد فلسفہ عدم تشدد، انسانیت کی خدمت بغیر کسی مذہبی تفریق کے اور بغیر نسل رنگ اور قوم و ملک کے، علم کی روشنی پھیلانے، پرامن معاشرہ کے قیام، ''ورور ولی''، ''عزیز ولی'' اور بھائی چارے کے مضبوط بندھن، اپنی ثقافت کی حفاظت غلط رسم و رواج کو ختم کرنے، پختون قوم کو علم کی روشنی سے منور کر کے تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑا کرنے جیسے اعلیٰ و ارفعاء مقاصد اور اصولوں پر رکھی تھی وہ ایک عظیم تحریک خدائی خدمتگار کی صورت میں برصغیر ہند و پاک کی سرزمین پر نمودار ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک چمکتے ہوئے آفتاب کی طرح صوبہ سرحد میں عمومی اور برصغیر میں خصوصی طور پھیل گئی۔ 

 

اس تحریک کے دو پہلو تھے اور ہر دو کے مقاصد ایک دوسرے سے جدا جدا تھے۔ ایک جنگ آزادی کی تحریک جو عدم تشدد کے اصولوں پر کاربند تھی جبکہ دوسرا پختون قوم کی اصلاح اور عالم انسانیت کی بے لوث و بے غرض خدمت، چونکہ باچا خان نے پہلے قوم کی معاشرتی اصلاح اور معاشی طور پر ان کو اپنے پاؤں پر خود کھڑے ہونے کی طاقت اور ہمت و ہنر اور شعور دیا تو دوسری طرف انگریز سرکار کی غلامی کی زنجیروں کو کاٹ پھینکنے اور آزادی حاصل کرنے کے لئے سیاسی تربیت اور شعور کی بلندی پر لا کھڑا کر کے ان کو دشمن کی پہچان کے ساتھ ساتھ میدان جنگ کی نشان دہی بھی کر دی جنہوں نے ایک انتھک جدوجہد، قید و بند کی تکالیف، اپنوں سے جدائی، مال و متاع کی قربانی اور خون کا نذرانہ دے کر برصغیر کو آزاد کرا دیا مگر اس انتھک جدوجہد میں بھی قوم کی اصلاح اور وطن کی فلاح کے کام بھی جاری تھے۔ مگر پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد تحریک اور خدائی خدمتگاروں کے کام ریاستی جبر، ظلم و زیادتی، تنگ نظری اور انسان دشمنی کی وجہ سے پس پردہ چلے گئے لیکن سیاسی تحریک اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی۔ 

 

اب چونکہ اس تحریک کو سو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا ہے مگر فخر افغان نے خدائی خدمتگار تحریک کی صورت جو شمع روشن کی تھی وہ ان کی تیسری نسل میں بھی شعلہ فشاں رہی، یہی وجہ ہے کہ خدائی خدمتگار تحریک کے احیاء کے لئے ملی مشر اور مرکزی صدر اسفندیار ولی کے حکم پر صوبائی صدر ایمل ولی کی ہدایات اور رہنمائی میں ایک سال پہلے باچا خان مرکز پشاور میں سابق وزیر اعلیٰ صوبہ پختونخوا اور اے این پی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی کے ہاتھوں دفتر کا افتتاح ہوا، ایمل ولی خان نے اس کے لئے باچا خان ٹرسٹ پشاور کے توسط سے ایک بورڈ آف ڈائریکٹر قائم کیا اور خود اس کے ڈائریکٹر جنرل بن گئے۔ بورڈ کے دوسرے ممبران میں برطانیہ سے ڈاکٹر ارشد رحیم، برطانیہ سے ڈاکٹر نواز خلیل اور محفوظ جان، ڈاکٹر مزمل شاہ کے ایس اے، ڈاکٹر ہدایت بنگش جرمنی، طارق درانی آسٹریلیا، رضوان غنی، شہاب خپلواک، امریکہ سے بہادر علی شاہ، واصل خان پاکستان سے اور سالار اعظم ڈاکٹر شمس الحق، ڈپٹی سالار اعظم مجیب الرحمان، ڈپٹی سالار اعظم زنانہ ڈاکٹر نور جہان، صوبائی سالار اعلیٰ پیر قیوم شاہ، ڈپٹی سالار اعلیٰ ڈاکٹر نوید اللہ، صوبائی ڈپٹی سالار اعلیٰ زنانہ پلوشہ بشیر، صوبائی سالار اعلیٰ بلوچستان شاہ جہان آغا، سالار اعلیٰ ڈاکٹر روح الامین اسلام آباد، میاں عبداللہ روس، ڈپٹی سالار اعلیٰ جاوید خان برطانیہ، حاجی بہادر خان سالار اعلیٰ سعودی عرب، ڈپٹی سالار اعلیٰ امجد علی خان، خلیل بونیری یو کے، حنیف خان یو کے، سالار اعلیٰ محمد شہاب جرمنی، ڈپٹی سالار اعلیٰ معاذ اللہ خان جرمنی، عمیر خان سالار اعلیٰ کینیڈا، ڈپٹی سالار اعلیٰ اکبر شاہ کینیڈا، عظمت اللہ خان آسٹریلیا، ڈاکٹر نجیب اللہ سالار اعلیٰ کویت، رحمت گل ڈپٹی سالار کویت، سلیم خان، پشاور ریجن سالار نواب علی یوسفزئی، ڈپٹی سالار پشاور ریجن عبدالصمد خان اور دیگر خدائی خدمتگاروں عہدیداروں نے رسم حلف بردار کی تقریب میں شرکت کی، تقریب کی ابتداء قاری حاجی محمد راشد نے قرآن عظیم شان سے کی، سٹیج کے فرائض ڈپٹی سالار اعظم ڈاکٹر نوید اللہ خان نے ادا کئے جبکہ صدارت ایمل ولی خان نے کی۔

 

سالار اعظم ڈاکٹر شمس الحق نے تفصیلی طور پر خدائی خدمتگار آرگنائزیشن کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی، تنظیمی ڈھانچے کے خدوخال بیان کئے اور اپنی ایک سالہ کار گزاری تفصیلی طور پر بیان کرنے کے بعد ڈاکٹر نوید اللہ خان نے ایمل ولی کو ہال میں موجود صوبہ پختونخوا کے چار زونز کے ریجن سالار، ڈپٹی سالار، ضلعی سالار و ڈپٹی سالار، تحصیل سطح کے سالار و ڈپٹی سالاروں کے ساتھ خواتین ڈپٹی سالار، اسلام آباد ضلع کے سالار اور بیرون ممالک میں مقیم سالار اور ڈپٹی سالاروں سے ویڈیو کال کے ذریعے لائی حلف لینے کیلئے دعوت دی۔ عہدیداروں کے حلف اٹھانے کے بعد سعودی عرب سے آئے ہوئے ڈپٹی سالار میر امجد علی نے حلف اٹھانے والوں کو اپنے ساتھیوں کی طرف سے مبارکباد دی اور ان کو اپنی طرف سے ہر قسم تعاون کی یقینی دہانی کرائی، ایمل ولی کو اپنے خیالات کے اظہار کیلئے بلایا گیا تو ہال میں موجود اور ویڈیو کانفرنس پر اندرون و بیرون ملک دیکھنے اور سننے والوں نے ان کا بڑی گرم جوشی سے تالیوں کی گونج میں استقبال کیا۔
    ایمل ولی نے سٹیج پر موجود سالار اعظم ڈاکٹر شمس الحق' ڈپٹی سالار اعظم ڈاکٹر نوید اللہ خان' ریجن سالار ضلعی سالار اور تحصیل سالار ڈپٹی سالاران' مردان کی ڈپٹی سالار اور دیگر کو خوش آمدید کہا، ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شریک بیرون ممالک سالاروں سے کہا کہ میں آپ سب کو مبارکباد نہیں بلکہ پورے پختونوں کو مبارکباد دیتا ہوں کہ آج باچا خان مرکز میں گرم جوشی دیکھی، چونکہ ہر کام ایک آغاز ہوتا ہے آج یہاں موجود لوگ اگر یہ عہد کر رہے ہیں کہ ہم خدا کی مخلوق کی خدمت کریں گے، ہم ان لوگوں کے پوتے اور پڑپوتے ہیں جنہوں نے آج سے سو سال پہلے یہ عہد اور یہ وعدہ کیا تھا کہ ہم اللہ کی مخلوق کی خدمت کریں گے چاہے اس میں ہمارا سر ہی کیوں نا چلا جائے، یہ انگریز کا دور تھا خدائی خدمتگاروں پر جنہوں نے جو ظلم و ستم ڈھائے اور ان کو جو اذیتیں دیں ان مظالم کا سن کر انسان کے رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ انگریز سرکار کی حکمرانی میں سیاست پر پابندی تھی، باچا خان اٹھے اور اپنے گرد ساتھیوں کو اکٹھا کیا اور اپنی قوم کو جہالت کے اندھیرے سے اجالے کی طرف لے جانے کیلئے خدائی خدمتگار تحریک شروع کی، آج میں جب سو سال پیچھے تاریخ کو دیکھتا ہوں تو باچا خان کی تحریک نے بہت سی تکالیف  اور صعوبتوں کے ساتھ سفر طے کیا ہے، وہ سیاسی طور پر ہو یا شعوری طور پر، ہم دیکھتے ہیں کہ آج کے حالات و واقعات اور اس وقت کے حالات اور واقعات میں بہت واضح فرق ہے، حالات میں بڑی تبدیلی آئی، واقعات میں فرق پڑا ہے، آج انٹرنیٹ کا دور ہے، پرنٹ میڈیا، اخبارات رسالے، ریڈیو اور الیکٹرانک میڈیا نے معاشرے کو آگہی اور شعور دیا ہے، سوشل میڈیا اور ویب سائٹس کی موجودگی سے دنیا ایک مٹھی میں بند ہو گئی ہے، آج ہم اپنے امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی و جاپان، سعودی عرب، قطر، کویت، ملائیشیا، سنگاپور اور کینیڈا میں موجود ساتھیوں کے ساتھ مل کر یہ پروگرام دیکھ اور سن رہے ہیں، آپ نے اپنے بڑے بزرگوں کے قصے سنے ہوں گے، ان پر ریاست اور حکمران جو ظلم و بربریت کرتے تھے ان سے عوام بے خبر رہتے تھے، کسی کو معلوم ہی نہیں ہوتا تھا کہ ان کے پیاروں پر کون کون سے مظالم ہیں جو نہیں ہوئے، وہ نہیں جان سکتے تھے کہ خدائی خدمتگاروں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، آج بھی لوگوں نے باچا خان کے نظریے اور فکر و عمل کیلئے اپنی جانوں کی قربانیاں دی ہیں۔

 

اے این پی خیبر پختونخوا کے صدر نے کہا کہ آج میں جب باچا خان مرکز آیا تو میری خوشی کی انتہا نہ رہی، باچا خان نے جن حالات میں خدائی خدمتگار تحریک شروع کی تو وہ بہت سخت حالات تھے، ان کے راستے میں بہت مسائل و مشکلات تھے، بڑے بڑے خان خوانین ان کا ساتھ دینے سے انکاری تھے، سرمایہ دار حکومت سے ڈر رہے تھے وہ باچا خان کا ساتھ دینے کیلئے تیار نہ تھے مگر اس پختون وطن کے محنت کشوں، ہنرمندوں، مزدور و کسانوں اور درمیانے طبقے کے سفید پوشوں اور غلامی کی زنجیروں میں بندھے غیور پختونوں نے ان کا ساتھ دیا اور وہ جوق در جوق اس تحریک میں شامل ہوتے گئے۔ انہوں نے بہت تکالیف اٹھائیں، بہت مظالم برداشت کئے، آج مجھے خوشی اس بات کی ہو رہی ہے کہ اس مٹی پر ایک مرتبہ پھر خدائی خدمتگار حلف اٹھا رہے ہیں، جہاں ہمارے ساتھ معاشی طور پر صاحب حیثیت لوگ بیٹھے ہیں اور یہ حلف اٹھا رہے ہیں کہ میں باچا خان کی خدائی خدمتگاری کروں گا، ''یہ بہت واضح فرق ہے، یہ بہت خوشی کی بات ہے، یہ ابتداء ہے یہاں موجود جو لوگ بیٹھے ہیں میں ان سب کو ذاتی طور پر جانتا ہوں اور ہر شخص سے یہ امید کرتا ہوں کہ جس طرح خدائی خدمتگار پہلی مرتبہ اٹھے اور انہوں نے ہر گھر، ہر گلی و محلہ، ہر گاؤں اور ہر شہر میں اپنے ہم خیال پیدا کئے، پہلی مرتبہ ان کے ابتدائی ساتھیوں کی تعداد کم تھی مگر بعد میں ان کی تعداد ایک لاکھ تیس ہزار سے بھی زیادہ ہو گئی، ہم کو اب سب سے پہلے اپنی تنظیمی ڈھانچے کو مکمل کرنا ہے پھر ضلع اور تحصیل کے بعد یونین کونسلوں اور پھر نچلی سطح پر ویلج کونسلوں اور نیبر ہوڈ میں بنیادی خدائی خدمتگار بنائیں گے۔

 

    آپ یہ دیکھ رہے ہیں کہ عمیر خان ہمارے ساتھ کینیڈا سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شریک ہیں، اس نے کرونا وباء کے دوران کینیڈا میں عوام کی ہر طرح مدد اور خدمت کی اور اس جذبہ اور محنت سے دن رات ایک کر کے کام کیا، ان کے اس جذبے اور انسانی خدمت کا ولولہ دیکھ کر کینیڈا کے وزیر اعظم کو اس امر پر مجبور کیا کہ وہ آئے اور عمیر خان کو سلام پیش کرے اور اس نے خدائی خدمتگار آرگنائزیشن کو تعارفی سرٹیفیکیٹ بھیجا ہے۔ ہمیںکینیڈا کے وزیر اعظم نے ایک خصوصی دعوت دے کر کینیڈا آنے کا پیغام بھیجا ہے، میں خود یا پھر سالار اعظم ڈاکٹر شمس الحق اس دعوت پر کینیڈا جائیں گے، عمیر خان آج کل کینیڈا میں افغان مہاجرین کی دیکھ بھال اور بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں، وہ کینیڈا میں ہر پختون کی مدد کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔

 

    میرے سامنے پردے پر موجود برطانیہ سے محفوظ جان نے، جو اے این پی کے دیرینہ کارکن بھی رہ چکے ہیں اور اس سیاسی پلیٹ فارم سے بہت جدوجہد بھی کی ہے، آج الحمد اللہ خدائی خدمتگار آرگنائزیشن کو ایک ایسے پلیٹ فارم پر کھڑا کیا ہے کہ لندن میں کرونا وباء کے دوران امدادی کیمپ لگا کر مفت خوراک تقسیم کرتے رہے جس سے لندن میں بیٹھے پاکستانی سفیر اس بات پر مجبور ہوتا ہے کہ وہ ہماری حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کے کام کو سراہے۔ میں ان سب کو سلام پیش کرتا ہوں جو 12 بیرونی ممالک میں بیٹھ کر خدائی خدمتگار آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں، اس کے علاوہ سعودی عرب میں ہماری تنظیم موجود ہے جس کے سالار ہمارے ساتھ  بیٹھے ہیں۔

 

    میرے بھائیو! جب ہماری تنظیم سازی مکمل ہو جائے گی تو پھر ہمارا مقصد کیا ہو گا، ہمارا مقصد انسانیت کی خدمت ہو گی، وہ خدمت خاص اللہ کی رضا کیلئے ہوگی، ہمارے راستے کا تعین اور رہنمائی و راہبری محمدۖ مقبول، نبی آخر زمان کی تعلیمات اور باچا خان کے نظریات کے تحت ہو گی۔ ان میں زیادہ تر خدمات وہ ہیں جن پر کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوتا ہے، اگر ہم دیکھیں تو باچا خان نے کبھی فنڈ جمع نہیں کیا، خدائی خدمتگاری میں زیادہ تر خدمت ہاتھ پاؤں کے ہوتے ہیں اور اللہ کی رضا کیلئے وہ راستے اپنانے ہوں گے جن پر چل کر انسان کی جان و مال، عزت و آبرو کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے، دو دشمنوں میں صلح کرانا، لڑائی جھگڑے سے پرہیز کرنا، حسد، بغض، غیبت سے پرہیز کرنا، ہم اگر غور کریں تو مردان، چارسدہ، صوابی، سوات، دیر، بونیر، باجوڑ، کوہاٹ، بنوں، ٹل، ہنگو اور وزیرستان میں سالوں سے دشمنیاں چلی آ رہی ہیں، باچا خان اور ان کے پیروکاروں کا یہ طریقہ تھا کہ جن دو فریقوں میں صلح کرانے ان کے گاؤں اور حجرہ میں جاتے تو اس وقت تک واپس نہ لوٹتے جب تک ان کی آُس میں صلح نہ کرا لیتے اور ان کی دشمنی کو دوستی میں نہ بدل دیتے۔ قوم کی اصلاح کرنے پر کوئی دولت خرچ نہیں ہوتی، راستوں، گلی محلوں اور سڑکوں کی صفائی کرنا، پانی کی ٹوٹی ہوئی پائپوں کو مرمت کرنا، سڑکوں میں پڑے کھڈوں کو ہموار کرنا، بیمار کی تیمارداری کرنا وغیرہ جیسے تمام امور بغیر خرچ کے سرانجام دیئے جا سکتے ہیں۔ باچا خان نے ہمیں جو راستہ بتایا تھا اس پر چلنے کیلئے بورڈ آپ کی رہنمائی کرے گا، خدائی خدمتگار کا یہ فرض اور ڈیوٹی انسانیت کی خدمت، صرف اللہ کی خوشنودی اور رضا کیلئے ہو گی اور قوم کی فلاح و بہبود کیلئے اپنی توانائیاں بروئے کار لائی جائیں گی۔

 

ہماری یہ کوشش رہے گی کہ ہم یہ کار خیر پشاور سے شروع کریں اور ہر ضلع میں بہترین ایمرجنسی یونٹ بنائیں جن میں ہیلتھ فاؤنڈیشن کی مدد سے آگ میں جھلسے ہوئے مریضوں، پانی میں ڈوبنے والوں، قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی فوری مدد کی جائے گی، روڈ ایکسیڈنٹ، دل کا دورہ پڑنے والوں کو فوری طبی مدد دینے کیلئے ہمارے ساتھ جدید میڈیکل مشینری و آلات سے مزین ایمبولینس گاڑیاں ہوں گی جو متعلقہ مریض کو نارمل حالت میں لا کر پھر مزید علاج و معالجہ اور دیکھ بھال کیلئے ہسپتال میں داخل کرانے تک کا مکمل بندوبست ہو گا۔ ہمارے ملک میں جو ایمبولینس روڈ پر دوڑتی نظر آ رہی ہے یہ تو صرف مردوں کو لے جانے کیلئے استعمال ہونے والی ہیں، یہ علاج بغیر کسی فیس کے ہو گا۔ اس کے ساتھ ہیلتھ کیئر سنٹر بھی تعمیر کریں گے جس میں بھی نارمل فیس کے ساتھ علاج کیا جائے گا۔

 

    آپ کا اللہ حافظ اور حامی و ناصر ہو، میں آپ کیلئے دعاگو ہوں کہ اللہ ہم سب کو خلق خدا کی خدمت کا موقع نصیب کرے، آج جن لوگوں نے یہاں حلف اٹھایا ہے یہ گلی محلوں سڑکوں کی تعمیر، نوکریاں لینے یا دینے کی سیاست نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے تھے، انہیں ہم نے اٹھا کر خدا کی مخلوق کی خدمت کیلئے یہاں باچا خان مرکز میں اکٹھے ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور ان دوستوں کو بھی آواز دی جو اپنے وطن سے دور رہ کر اپنی قوم کی خدمت کا جذبہ اپنے اپنے دلوں میں رکھتے ہیں، جن کو باپ دادا سے باچا خان کی عظیم تحریک، ''خدائی خدمتگار'' ورثہ کے طور پر ملی ہے، آج خدا کا فضل ہے کہ حلف برداری کی رسم بین الاقوامی سطح پر منائی جا رہی ہے، آپ سب کو مبارک ہو!'' 

 

    چیئرمین خدائی خدمتگار آرگنائزیشن میاں افتخار حسین نے پروگرام کے آخر میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سب سے پہلے ایمل ولی خان کو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے باچا خان کی تحریک خدائی خدمتگار کی فلاحی شاخ کی تجدید کی جس پر وہ یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں، جنہوں نے آج اس عظیم تحریک کا حلف اٹھایا ہے، میں ایمل ولی خان کا بہت ممنون و مشکور ہوں جنہوں نے مجھ پر اعتماد اور بھروسہ کرتے ہوئے آرگنائزیشن کا چیئرمین مقرر کیا، میرے کمزور کندھے بھاری بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں اس لئے میں ان کی رہنمائی کا خواستگار ہوں، آج میں جس پلیٹ فارم پر کھڑا ہوں دوستوں اس پر غور کرنا چاہئے کہ باچا خان نے کس سوچ و فکر کے تحت خدائی خدمتگار تحریک کی بنیاد رکھی تھی، کیا باچا خان پر الہام ہوا تھا کیونکہ ہمارے معاشرے میں پہلے تو ایسی سوچ، فکر یا تنظیم موجود نہ تھی حالانکہ آج ہمارے سامنے باچا خان اور ولی خان کی شخصیتیں رول ماڈل کی صورت میں موجود ہیں، جب باچا خان نے حاجی ترنگرزئی سے بات چیت کی تو اس وقت وہ خالص مذہبی تحریک تھی مگر جب ترنگرزئی بابا جی مفرور ہوئے تو باچا خان نے اس مذہبی تحریک کے ساتھ سیاسی سوچ بھی شامل کر دی، جب ہم سیاسی پارٹی کی بات کرتے ہیں تو یہ تحریک خدائی خدمتگار تحریک کے وسیع و عریض میدان میں ایک چوکھاٹ کی مانند دکھائی دیتی ہے، خدائی خدمتگار تحریک کی بہت بڑی حیثیت اور وسیع میدان ہے، باچا خان کا مقصد تھا کہ میں پختون قوم کیسے بیدار کروں گا، انہوں نے جو بھی قدم اٹھایا وہ لالچ طمع سے پاک تھا، تحریک کی بنیاد اور عوام کی خدمت کیلئے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا تھا، خدائی خدمتگاروں میں خدمت کا جذبہ، عاجزی و خاکساری اور خلوص ہوتا ہے، سیاسی پارٹیوں میں تو تمام تر جدوجہد وزارت اور صدارت کے حصول کے لئے ہوتی ہے لیکن خدائی خدمتگاروں میں صرف خدمت و ایثار و قربانی کہ وہ صرف خدمت کا جذبہ لے کر میدان میں اترتے ہیں، باچا خان نے تحریک کو اتنی بلندی پر پہنچا دیا تھا کہ اب وہ آزادی کی جنگ میں بھرپور حصہ لینے کیلئے تیار ہو گئے، اس فلاحی تحریک میں سیاسی رنگ اس وقت ابھر آیا جب انگریز سرکاری نے آزادی کے متوالوں پر زمین تنگ کر دی، اور ان پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ ڈالے۔ باچا خان نے اپنی قوم کو انگریز کے ریاستی جبر سے بچانے کیلئے برصغیر کی ایک بڑی سیاسی پارٹی سے اتحاد کر کے انگریزوں کے ظلم و زیادتی کو دنیا کی دوسری اقوام تک پہنچایا، باچا خان کی بنیادی سوچ انسانیت کی خدمت تھی مگر ملکی حالات نے ان کو سیاست کرنے پر مجبور کر دیا، چونکہ باچا خان کی سوچ و فکر تو انسانیت کی خدمت تھی، اپنی قوم کو آزادی کا شعور دینا تھا، آزادی حاصل کرنی تھی، باچا خان کی سوچ بہت بلند تھی مگر انہوں نے رسول مقبول محمدۖ کی ایک حدیث کی روشنی میں پہل اپنے گھر اور خاندان سے کی۔ 

 

آخر میں چیئرمین خدائی خدمتگار آرگنائزیشن میاں افتخار حسین نے خیبر پختونخوا ریجن کے ڈپٹی سالار نواب علی یوسفزئی' ضلع پشاور سالار ملک نور رحمان' سٹی ڈسٹرکٹ سالار ارباب راشد' ڈپٹی سالاران سٹی ڈسٹرکٹ پشاور ذاکر محمدزئی' حاجی ارشد اور انفارمیشن سیکرٹری کاشف باچا کا حلف برداری تقریب کیلئے بہترین انتظامات پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ کی کاوشوں سے دنیا نے خدائی خدمتگار تحریک کا پیغام پڑھا اور سنا۔