خیبر پختونخوا کی اپوزیشن جماعتوں نے بجٹ مسترد کر دیا

خیبر پختونخوا کی اپوزیشن جماعتوں نے بجٹ مسترد کر دیا

پشاور ( نیوز رپورٹر ) خیبر پختونخوا اسمبلی کی اپوزیشن جماعتوں نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو عوام دشمن، مایوس کن اور جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی بجٹ کسی صورت متوازن نہیں بلکہ اربوں روپے خسارہ کا بجٹ ہے، حکومت نے غلط اعداد وشمار پیش کرکے ایوان، سرکاری ملازمین اور صوبہ کے عوام کیساتھ دھوکہ کیا ہے۔

 

خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس پیر کے روز سپیکر مشتاق احمد غنی کی صدارت میں منعقد ہوا، اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر اکرم خان درانی نے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ متوازن نہیں ہے،این ایف سی کی مدمیں دیگر صوبوں کے حوالے سے 34ارب روپے رکھے گئے جودیگر صوبے نہیں مانتے۔

 

انہوں نے کہا کہ بجٹ اس ایوان کی توہین ہے کیونکہ غلط اعدادوشمار دئیے گئے ہیں، جاری سال غیرملکی امداد وقرضہ کی مد میں 73کی بجائے 39ارب ملے ،اگلے سال کیلئے 89ارب رکھ دیئے ہیں ،اگلے سال کاترقیاتی بجٹ کا تخمینہ 371ارب لگایاگیاہے جو اس سال 317ارب تھا جونظرثانی شدہ میں 249ارب رہ گیایعنی 68ارب کی کمی آئی ہے۔

 

 انہوں نے کہا کہ ترقیاتی فنڈزصرف اپوزیشن کے کم کیوں کئے جاتے ہیں؟اکرم درانی نے کہا کہ ضم اضلاع کوبرابری پرلانے کیلئے اسے وہ فنڈزدیئے جائیں جس کاوعدہ کیاگیاتھا،سرکاری ملازمین کیساتھ بھی تنخواہوں اورالائونسزمیں اضافہ کے نام پرمذاق کیاگیاہے۔

 

پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر شیر اعظم وزیر نے کہا کہ ہم بجٹ سے مکمل طورپرمایوس ہیں ،اپوزیشن کے حلقوں کیلئے بجٹ میں کچھ بھی مختص نہیں کیاگیا ہے ،صوبہ کے جنوبی اضلاع میں لوگوں کوپینے کاصاف پانی تک میسرنہیں ،اپوزیشن کی تین سالوں کی محرومیاں اس سال بھی دورنہیں کی گئیں ،پنشن کوبھی کم ازکم 21000روپے کیاجائے۔

 

جمعیت علمائے اسلام کے پارلیمانی لیڈر مولانا لطف الرحمان نے کہا کہ وزیرخزانہ کی تقریر کہانی تھی تاکہ قوم سکون کیساتھ سوئی رہے ،اس ملک کے بجٹ پرآئی ایم ایف کاقبضہ ہے ہمارے وزیرخزانہ تواسے صرف پیش کرتے ہیں ،فٹف کیتحت قانون سازی کامطلب ہماری اسمبلی کابھی اپناکنٹرول نہیں ،حکومت کی رٹ توہے نہیں صرف قصے کہانیاں ہی ہیں۔

 

لطف الرحمن نے کہا کہ مرکزکی جانب سے صوبہ کوپوراحصہ نہیں دیاجاتاتوپھر 559ارب روپے کاتخمینہ لگانامناسب نہیں، انہوں نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ 317ارب کاتھااورخرچہ صرف 139ارب ہوا، یہ مذاق نہیں توکیا ہے؟پشاور:کے عوام کومہنگائی کے تناسب سے ریلیف نہیں ملا، مسلم لیگ ن کے پارلیمانی لیڈر سرداریوسف نے کہا کہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں اپوزیشن کے حلقوں کومکمل طورپرنظرنندازکیاگیاہے،ہزارہ ڈویژن کوبجٹ میں اس کاحصہ نہیں دیاگیا، ہزارہ کوتربیلاڈیم کی رائلٹی ملنی چاہیئے۔

 

اے این پی کے خوشدل خان نے کہا کہ سیاسی بنیادوں پرفنڈزکوتقسیم کیاگیا ہے ،جاری سال کابجٹ ضمنی کیساتھ 1032ارب کاہوجاتاہے ،ہمیں مرکز کی جانب سے اس سال بجلی منافع سمیت ہرمدمیں کم پیسہ ملاہے ،وسائل نہ ملنے کی وجہ سے اس سال کابجٹ خسارہ کاہے ،حکومت نے اگلے سال کے لئے مجموعی تخصیص کے تحت منصوبوں کے لیے رقم رکھی ہے جوغیرقانونی ہے۔

 

جمعیت علمائے اسلام کی نعیمہ کشور نے کہا کہ جاری سال کابجٹ بھی محکمے خرچ نہیں کرسکے توہم بجٹ کیوں منظورکرتے ہیں ،ضم اضلاع سے سوارب روپے ملنے تھے لیکن اس سال صرف 19ارب روپے خرچ کئے گئے ، ہم صرف سود کی مد میں 16ارب روپے دے رہے ہیں یہ تواللہ کے عذاب کودینے کی دعوت دینے والی بات ہے ،خطبا کووظائف نہ دین بلکہ ریگولرکریں ،76فیصد ٹیکس بالواسطہ طورپروصول کیاجاتاہے جوغربا بھی دیتے ہیں ،ہزارہ کی محرومیاں توورہوگئی ہونگی لیکن ضم اضلاع کی محرومیاں بڑھی ہیں اس لئے ضم اضلاع کوالگ صوبہ بنادیاجائے۔
اپوزیشن