یتیم د جڑا عادت دے 

یتیم د جڑا عادت دے 

تحریر: ڈاکٹر محمد ہمایون ہما 

ہم تو خیر اسے خاک خون شہیداں تو نہیں کہیں گے ۔یہ سب ایک مہذب ملک کے مہذب شہری تھے جو سیر کے لئے 5 ، 6 جنوری کو مری جسے ملکہ کوہسار کا نام دیا گیا ہے کی طرف نکل پڑے،  جو ہر اس شہری کا حق ہے جو اس قسم کی تفریح کو افورڈ کر سکتا ہے۔ یہ نہ کوئی جرم ہے اور نہ گناہ، موسموں پر بھی اعتبار نہیں۔7  جنوری کو نتھیا گلی اور مری کے قرب و جوار میں ایک برفانی طوفان برپا ہوا اور اس ناگہانی آفت نے پہلے ہی حملے میں مری میں92 افراد کو لقمہ اجل بنا دیا۔ نتھیا گلی سے آنے والی سڑک پر کم و بیش 32 افراد برف میں دب کر جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ یہ ہم سمجھتے ہیں کہ جس طرح دسمبر2014 کے آرمی پبلک سکول کے سانحے کے بعد دوسرا خونی حادثہ تھا ۔وہاں 149 افراد کو دہشت گردوں نے فائرنگ سکواڈ کے سامنے خاک و خون میں نہلا دیا ان میں چار سال سے لے کر پندرہ سولہ سال تک کے بچے شامل تھے جو کسی جہاد میں حصہ لینے کے لیے نہیں حسب معمول تعلیم حاصل کرنے گئے تھے ۔کالج کی پرنسپل صاحبہ نے جب اپنے بچوں کے سامنے ہاتھ پھیلا کر انہیں بچانے کی کوشش کی اور دوسرے ہی لمحے وہ بھی گولیوں سے اڑا دی گئیں۔ استانیوں کو قطار میں کھڑا کر کے ان پر پہلے پیٹرول کا سپرے کیا گیا اور پھر انہیں شعلوں  کی نذر کر دیا گیا ۔یہ دہشت گرد کون تھے کہاں سے آئے تھے ۔وہ تمام حفاظتی بندوبست کے بغیر کیسے سکول میں داخل ہوئے اور پھر ان دہشت گردوں کا کیا انجام ہوا ۔ سات آٹھ سال گزرنے کے بعد یہ تمام باتیں ابھی پردہ خفا میں ہیں۔7 جنوری 2022  کو مری میں ایک بہت بڑے سانحے کی تمہید کے طور پر یہ واقعات کا ذکر ضروری سمجھا ۔چلئے وہ 149 معصوم جانیں تو دہشت گردی کا شکار ہوئیں مگر مری میں یہ جو سو سے زیادہ افراد برف کے طوفان میں جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ان کی موت کا ذمہ دار کون ہے یہاں یہ بتاتے چلیں کہ سرکار نے اس المیہ کی شدت کو کم کرنے کی خاطر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 32 بتائی ہے مگر حقیقت کو چھپایا نہیں جا سکتا یہ انسانی جانوں کا معاملہ ہے کیڑے مکوڑے نہیں تھے کہ ان کا شمار نہ رکھا جائے، وہ لوگ جو اس برفانی طوفان سے کسی طور جان بچا کر اپنے گھروں کو پہنچے وہ بار بار مرنے والوں کی تعداد سو سے زیادہ بتا رہے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں وفاقی وزراء جن میں فواد  چوہدری اور شیخ رشید احمد بتا رہے ہیں مرنے والوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرنے کی بجائے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ جو مری میں  لوگ جاں بحق ہوئے وہ اپنی موت کے خود ذمہ دار تھے۔ فواد  چوہدری جو فضولیات پھیلانے میں مہارت رکھتے ہیں نے فرمایا کہ میں روڈ انسپکٹر تو نہیں کہ مری جا کر ٹریفک سنبھالتا اور شیخ رشید نے تو اپنی روایتی پختون دشمنی کا ثبوت دیتے ہوئے یہ بیان داغ دیا کہ اگر پختونخوا کے لوگ مری نہ جاتے تو یہ سانحہ پیش نہ آتا، حالانکہ سو سے زیادہ ان حادثاتی اموات میں صرف چار جوان مردان کے تھے اور باقی سب کا تعلق ملک کے دوسرے حصوں سے تھا، ہمارے دوست شمس المنیر نے بجا طور پر کہا ہے کہ اس سانحے کے ذمہ داروں میں اسسٹنٹ کمشنر مری، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی، ٹی ایم اے ڈیزاسٹر منیجمنٹ اور پنجاب پولیس کا محکمہ شامل ہے۔ چنانچہ ان کے خلاف تادیبی کارروائی لازمی ہونی چاہیے یہ سب لوگ غفلت سے کام نہ لیتے تو اموات کی تعداد میں کافی حد تک کمی آ سکتی تھی ۔ اب کچھ ذکر مری کے ہوٹل انتظامیہ کے کٹھور پن اور سنگدلی کا بھی ضروری ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے برف کے طوفان میں گھرے لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صرف مال بٹورنے کی خاطر انہیں موت کے منہ میں دھکیلتے رہے ۔ ہمارے دوست محمد سعید باچا نے انہیں بجا طور پر گدھ  کہا ہے ۔ وہ روتے چیختے رہے اپنے بچوں کو ہاتھ میں اٹھائے  دہائیاں دیتے رہے مگر انہوں نے عام حالات میں تین ہزار کے کمرے کا کرایہ پچاس ہزار تک بڑھا دیا ۔ ایک گھنٹہ ہیٹر سینکنے کے 5000  طلب کیے، ایک انڈے کی قیمت 500 روپے مقرر کی اور یہ انسان نما درندے ٹھٹھرتی انسانیت کو مسلسل نوچتے رہے ۔ ایک شخص نے بتایا کہ میں نے اپنی بیوی کے گلے سے سونے کا ہار دے کر ایک کمرہ کرایہ پر لیا یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ کچھ لوگوں نے برف آلود راستوں پر ان مصیبت زدہ افراد کی امداد کرنے کی بجائے ٹرک کھڑے کر دیے اور ان لوگوں کی گاڑیاں کھینچنے کے لیے پانچ سے دس ہزار تک طلب کیے ۔ سوچتا ہوں یزید کی فوج میں سے تو نواسہ رسولۖ اور ان کے 72 ساتھیوں کو مسائل میں گھرا دیکھ کر حر آگے بڑھا اور ان سے پہلے اپنی جان ان پر قربان کر دی ۔ مگر مری کے لوگوں میں سے ایک حر بھی برآمد نہ ہوا ۔ وہ سب یزیدیت کے پروردہ اور مصیبت زدہ لوگوں کے خون کے پیاسے بن کر ان کی لاشوں پر رقص موت میں مصروف تھے ۔ میں نے اس عظیم انسانی المیہ کی شدت کو مزید اجاگر کرنے کے لیے درخواست کی تھی کہ سرکار کو آٹھ سال گزرنے کے باوجود اے پی ایس کے حادثے کو قومی سطح پر منانے کی توفیق تو نہ ہوئی 7  جنوری کے سانحہ کے حوالے سے ایک دن کیلئے قومی پرچم کو سرنگوں کرنا لازمی تھا اور ساتھ ہی تمام ملک میں ایک دن کیلئے سوگ منانے کا اعلان بھی کرنا چاہیے تھا مگر ہماری یہ آواز صدا بصحرا ثابت ہوئی ۔چلیے  یوں ہی سہی ۔یتیم د جڑا عادت دے۔ یتیم کو تو رونے کی عادت پڑ گئی ہے ۔