منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی

منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم اور وزیراعلی پنجاب پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی

 لاہور: وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز پر منی لانڈرنگ کیس میں آج بھی فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔

 

لاہور کی اسپیشل سنٹرل عدالت میں وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کے خلاف شوگر ملز کاروبار کے ذریعے 16ارب روپے کی منی لانڈرنگ کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔
وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف نے عدالت میں پیش ہوکر حاضری مکمل کروائی جبکہ ان کے والد پیش نہ ہوئے اور ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست دائر کی۔

 

وزیر اعظم کے وکیل امجد پرویز نے موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم شہباز شریف میڈیکل چیک اپ کے لیے بیرون ملک ہیں، انہیں کمر درد کا مسئلہ ہے۔

 

فاضل جج نے ریمارکس دیے شہباز شریف کو بیرون ملک دورے کا شیڈول تبدیل کرلینا چاہیے تھا کیونکہ آج معمول کی پیشی نہ تھی۔ وزیر اعظم کے وکیل امجد پرویز  کا کہنا تھا کہ گزشتہ دور حکومت میں ہمارے خلاف گواہان نے اپنے بیانات میں کسی نے جرم کا ذکر نہیں کیا،  بلکہ اس کیس میں سابق وزیر داخلہ شیخ رشید نے سامنے بیٹھ کر گواہان کے بیانات لکھوائے۔

 

عدالت نے وزیراعظم کی حاضری معافی کی استدعا منظور کرتے ہوئے 21 مئی کو وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے دوبارہ طلب کرلیا اور دونوں کی عبوری ضمانت میں بھی توسیع کردی۔