پاکستان اسٹاک ایکس چینج ڈیڑھ سال کی کم ترین سطح پر

پاکستان اسٹاک ایکس چینج ڈیڑھ سال کی کم ترین سطح پر

پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز بھی مندی کا سلسلہ جاری رہا۔

 

کاروبار کے دوران کے ایس ای100 انڈیکس 489.93پوائنٹس کی کمی سے 41 ہزار 950 کی سطح پر آگیا جو دسمبر 2020 کے بعد کم ترین سطح ہے۔

 

اس سے قبل پیر کو بھی مارکیٹ میں شدید مندی ریکارڈ کی گئی تھی جس سے کے ایس ای100 انڈیکس 660پوائنٹس گر گیا تھا۔

 

اسٹاک ماہرین کے مطابق ملک میں جاری سیاسی غیر یقینی صورتحال اور آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات کے پیش نظر سرمایہ کار حصص فروخت کو ترجیح دے رہے ہیں جس کی وجہ سے مندی کا رجحان غالب ہے۔

 

اسٹاک ایکس چینج کی رپورٹ کے مطابق منگل کو 318کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا جن میں 208کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی اور94کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔

 

رپورٹ کے مطابق 16 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں استحکام رہا، بیشتر کمپنیوں کے حصص کی قیمتیں گرنے اور انڈیکس میں 1.15فیصد گراوٹ کے سبب سرمایہ کاروں کو 56 ارب95 کروڑ 12لاکھ روپے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

 

حصص کی لین دین کے لحاظ سے کاروباری حجم پیر کے مقابلے میں تقریباً5کروڑ شیئرز زائد رہا، نمایاں کاروباری سرگرمیوں کے لحاظ سے پاک ریفائنری،سلک بینک،ٹی پی ایل،غنی گلوبل ہولڈنگ،سی نیرجیکو،یونٹی فوڈزاور ٹی آر جی کے حصص سرفہرست رہے۔

 

اسٹاک سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس وقت ملک کی معاشی اور سیاسی صورتحال کو دیکھتے ہوئے مارکیٹ سے سرمایہ نکالنے کا دباو ہے اسکے علاوہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی مزید سخت کئے جانے کے بھی منفی اثرات مارکیٹ میں آئے ہیں۔