پاک افغان ٹریڈ: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی نئی پالیسی سے دوطرفہ تجارت ختم ہونے کا خدشہ 

پاک افغان ٹریڈ: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی نئی پالیسی سے دوطرفہ تجارت ختم ہونے کا خدشہ 

تحریر: عزیز بونیرے

وفاقی حکومت کی جانب سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترمیمی ایکٹ کے بعد نئی تجارتی پالیسیوں کی وجہ سے پاک افغان تجارت بند ہونے کا خدشہ پیدا ہو  گیا ہے، افغانستان میں طالبان کنٹرول کے بعد وہاں پر بینکنگ سسٹم غیرفعال ہوگیا ہے جس کی وجہ سے اب افغان تاجروں کو پاکستان کی نئی تجارتی پالیسی کے تحت قواعد و ضوابط پورا کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے، بنابریں پاک افغان ٹریڈ کا حجم اب نہ ہونے برابر رہ گیا ہے اور خدشہ ہے کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران پاک افغان ٹریڈ مکمل طور پر رک جائے گی جس کی وجہ سے پاک افغان ٹریڈ سے وابستہ لاکھوں افراد کا روزگار ختم ہونے کے ساتھ ساتھ حکومت کو کسٹم ڈیوٹی اور دیگر ٹیکسز کی مد میں ملنے والی اربوں روپے کی سالانہ آمدنی بھی ختم ہو جائے گی۔

 

اس حوالے سے ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ سابق ادوار میں حکومتی پالیسیاں نرم ہونے کی وجہ سے پاک افغان ٹریڈ کا حجم اڑھائی ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا تھا جس میں روزانہ کی بنیاد پر ہزاروں گاڑیوں کو کلیئر کیا جاتا تھا جس کی بدولت نہ صرف پاکستانی تاجروں کا روزگار ترقی پر تھا بلکہ حکومتی خزانے کو بھی اربوں روپے مختلف ٹیکسوں کی مد میں موصول ہو رہے تھے۔ اُس وقت طورخم بارڈر پر زیادہ اختیار کسٹم محکمہ کے پاس تھا جس کی وجہ سے وہاں تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور کلیئرنگ ایجنٹس کو آسانیاں میسر تھیں جبکہ آج کل طورخم بارڈر پر روزانہ کی بنیاد پر نئی پالیسیوں اور دیگر محکموں کو اختیار دینے کی وجہ سے پاک افغان ٹریڈ کا حجم نہ ہونے کے برابر رہ گیا ہے۔ 

 

پاک افغان ٹریڈ ختم ہونے کی وجوہات 

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے نئی پالیسی کے تحت فارم (ای) اور الیکٹرانک امپورٹ فارم (ای آئی ایف) ختم ہونے کی وجہ سے اب تاجروں کیلئے دوطرفہ تجارت کرنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن ہو جائے گا، اس وقت تاجروں کو کسٹم سسٹم میں کیش امریکی ڈالر جمع کرنے کے بعد مال ایکسپورٹ اور امپورٹ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پاک افغان ٹریڈ پاکستان سنگل ونڈو (پی ایس ڈبلیو) لاگو کرنے اور وی باک اور الیکٹرانک امپورٹ فارم (ای آئی ایف) ختم ہونے کی وجہ سے تاجروں کو پاک افغان ٹریڈ میں مشکلات درپیش ہیں جس کی وجہ سے ٹریڈ رک گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس وقت جاری پاک افغان ٹریڈ میں تاجروں کو جاری شدہ فارم ای کے ذریعے مال سپلائی کیا جا رہا ہے، آئندہ ہفتے تک تاجروں کے پاس فارم ای کے خاتمے کے بعد اور نئی پالیسی لاگو ہونے سے پاک افغان ٹریڈ مکمل طور پر رکنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں پاک افغان چیمبر آف کامرس بورڈ آف ڈائریکٹر کے ممبر شاہد حسین نے بتایا کہ افغانستان میں بینکنگ نظام مفلوج ہونے کی وجہ سے پہلے ہی سے پاک افغان ٹریڈ میں کافی کمی آئی اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے نئی پالیسی کے تحت تاجروں کو مزید مشکلات کا سامنا رہا جس کی وجہ سے پاک افغان ٹریڈ نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پالیسی اس وقت طورخم بارڈر پر لاگو کی گئی ہے، کوئٹہ ہائی کورٹ نے پاک افغان ٹریڈ میں مشکلات کو کم کرنے کیلئے ون کسٹم بحال کر نے کے احکامات جاری کئے ہیں لیکن یہاں پر ایسا کچھ نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے یہاں پر تاجروں کو ٹریڈ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ 

 

انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل تاجر سے ان کی تمام امپورٹ ڈیٹیل لے کر بینک سے الیکٹرانک امپورٹ فارم ایشو ہوتا تھا اور وہ فارم کسٹم کی وی باک سسٹم میں انٹر ہوتا تھا، اب یہ تمام چیزیں بند ہو گئی ہیں جس سے خدشہ پیدا ہو گیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں پاک افغان ٹریڈ مکمل طور پر رک جائے گی جس سے نہ صرف تاجروں کو نقصان کا سامنا ہو گا بلکہ حکومت کو پاک افغان ٹریڈ سے ملنے والے اربوں روپے کے محاصل بھی ختم ہو جائیں گے، پاک افغان ٹریڈ میں بڑا حصہ تعمیراتی اشیاء کا ہے جن میں سیمنٹ سب سے زیادہ ایکسپورٹ ہوتا ہے اب افغانستان میں بینکنگ نظام بند ہونے کی وجہ سے تعمیراتی کام پر حکومت نے تاحکم ثانی پابندی عائد کی ہے جس کی وجہ سے اب سیمنٹ کی ایکسپورٹ بھی ختم ہو گئی ہے۔ 

 

افغان تاجروں کے مطابق پاکستان کی نئی پالیسی کے تحت پاک افغان ٹریڈ ناممکن ہو گی کیونکہ اس وقت افغانستان کے تمام بینک بند ہونے کی وجہ سے افغانستان میں ڈالر نایاب ہو گیا ہے، اسٹیٹ بینک کی نئی پالیسی کے تحت طورخم بارڈر پر کیش جمع کرانے کے بعد ایکسپورٹ کی جائے گی، اس وقت دونوں ممالک کو امریکی ڈالرز کی ضرورت ہے مگر افغانستان میں بڑی مقدار تو دور کی بات ہے یہا ں پر لوگ اپنی گھریلو ضروریات پورا کرنے کیلئے بینک سے ہفتے میں صرف دو سو ڈالر  نکال سکتے ہیں، اگر کسی کے پاس امریکی ڈالرز ہوں تو طالبان حکومت کی جانب سے اسے سخت سزا دی جاتی ہے ایسے حالات میں کون تاجر کیش ڈالر رکھنے کا رسک لے گا، ان حالات میں پاکستان حکام کو ایسی پالیسی اپنانا ہو گی جس سے ٹریڈ جاری ہو، اگر دونوں ممالک کی جانب سے پاک افغان ٹریڈ کیلئے بروقت اور موثر اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو تین ارب ڈالر تک پہنچنے والی ٹریڈ جو آہستہ آہستہ کم ہو کر پچاس لاکھ ڈالر پر آ گئی ہے وہ بھی آئندہ دنوں میں ختم ہو جائے گی۔ 

 

پاک افغان جائنٹ چیمبر آف کامرس کے نائب صدر ضیا الحق سرحدی نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں پالیسی میکرز کی تبدیلی اور روزانہ کی بنیاد پر نئی پالیسیوں سے پاک افغان ٹریڈ ختم ہو کر رہ جائے گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ افغانستان پر طالبان حکومت کو تاحال پاکستان کی جانب سے تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ نہ ہو سکا ایسے میں دو ممالک کے درمیان معاہدوں کو کیا حیثیت حاصل ہو گی، اس وقت افغانستان میں بڑھتے معاشی بحران میں جب تک بینکنگ نظام بحال نہ ہو اور ڈونرز نہ آئیں اس وقت تک دونوں ممالک کے درمیان ٹریڈ میں یہ مشکلات ہوں گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے فارم ای کے ساتھ ساتھ تھرڈ پارٹی پالیسی بھی ختم کر دی ہے، جب تک معاملات ٹھیک نہیں ہوتے اس وقت تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو پرانی پالیسی پر کام چلانا ہو گا، اب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے افغان تاجروں کیلئے نئی پالیسی اپنائی ہے کہ وہ کیش امریکی ڈالرز لا کر طورخم بارڈر پر کسٹم کے پاس جمع کریں، اس کے بعد ان کو مال کی سپلائی ہو گی، موجودہ حالات میں جب افغانستان میں تمام بینکنگ نظام مفلوج ہو چکا ہے، وہاں پر ڈالر مارکیٹ میں موجود نہیں ہے ایسے میں افغان تاجر کہاں سے ڈالر لائیں گے۔ انہوں مزید بتایا کہ اس وقت افغانستان میں مالی مشکلات کی وجہ سے بے روزگاری میں بھی اضافہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے وہاں پر لوگوں کی قوت خرید بھی ختم ہو گئی ہے ایسے حالات میں اگر پڑوسی ممالک نے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی نہیں کی تو وہاں خانہ جنگی سے پڑوسی ممالک بھی بری طرح سے متاثر ہوں گے۔

 

آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کیلئے حکومت کی طرف سے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اسٹیٹ بینک کی مکمل خود مختاری کے بل پرسابق گورنر اسٹیٹ بینک عشر حسین اور دیگر سیاسی قیادت نے بھی سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں، سٹیٹ بینک ترمیمی بل2021 میں حکومت پر اسٹیٹ بینک سے قرضہ لینے پر پابندی، گورنر کی مدت3  سال سے بڑھا کر5  سال کرنے، اسٹیٹ بینک بورڈ کے ارکان کے کسی بھی حکومتی عہدیدار کو جوابدہ نہ ہونے اور مجوزہ بل کی شق 46 B (4) کے تحت گورنر اسٹیٹ بینک کو وزیراعظم بھی معاشی امور سمیت کسی معاملے پر طلب  نہیں کر سکیں گے۔

 

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا ترمیمی بل کیا ہے؟

آئی ایم ایف کے دباؤ پر اسٹیٹ بینک کو دی جانے والی خودمختاری کیلئے ترمیمی ایکٹ 2021 کے مسودے سے اسٹیٹ بینک مکمل طور پر ایک آزاد اور خودمختار ادارہ بن کر ریاست کے اندر ریاست کے طور پر کام کرے گا۔ نئے ایکٹ کے تحت اسٹیٹ بینک کسی حکومتی ادارے کو اپنی پالیسیوں پر جوابدہ نہیں ہو گا جن میں مہنگائی کو کنٹرول کرنا، روپے کی قدر میں استحکام رکھنا اور معاشی گروتھ میں اضافہ سرفہرست ہیں۔ اسٹیٹ بینک کے نئے کردار میں ملکی معاشی گروتھ کو تیسرے نمبر پر رکھا گیا ہے۔ گزشتہ برس 70 سال میں پہلی بار ملکی جی ڈی پی گروتھ منفی تھی اور کورونا وائرس کی وجہ سے اس سال بھی جی ڈی پی گروتھ کا ہدف صرف 1.5 سے 2 فیصد رکھا گیا ہے۔ نئے ایکٹ کے تحت گورنر اسٹیٹ بینک کی مدت ملازمت 3 سال سے بڑھا کر 5 سال کر دی گئی ہے جس میں مزید 5 سال کی توسیع کی تجویز ہے اور کسی سنگین غلطی جس کا فیصلہ عدالت کرے گی، پر صرف صدر پاکستان گورنر اسٹیٹ بینک کو عہدے سے ہٹا سکتے ہیں۔ ایکٹ کے تحت گورنر اسٹیٹ بینک، ڈپٹی گورنرز، بورڈ آف ڈائریکٹرز اور دیگر ملازمین کو سرکاری قوانین، نیب اور ایف آئی اے کی ہر طرح کی کارروائی سے چھوٹ حاصل ہو گی اور یہ ادارے گورنر اسٹیٹ بینک یا کسی اعلی عہدیدار کے خلاف کارروائی نہیں کر سکیں گے۔ 

 

نئے ایکٹ کے تحت اسٹیٹ بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں حکومتی نمائندگی نہیں ہو گی۔ دنیا کے کسی دوسرے ملک میں مرکزی بینک کا گورنر اتنا بااختیار نہیں ہے۔ دنیا بھر کے مرکزی بینک اپنی حکومتوں کیلئے ضروریات کے مطابق کرنسی نوٹ پرنٹ کرتے ہیں لیکن نئے قانون کے بعد اسٹیٹ بینک کا حکومت کیلئے کرنسی نوٹ پرنٹ کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ حکومت، اسٹیٹ بینک کے ذریعے قرضے نہیں لے سکے گی بلکہ اسے کمرشل بینک سے مہنگے قرضے لینے پڑیں گے جس کا حکومت پر اضافی مالی بوجھ پڑے گا۔ حکومت انتہائی مشکل حالات میں ایکسپورٹ اور روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے اسٹیٹ بینک کے ذریعے مالی مراعات نہیں دے سکے گی جیسا کہ حکومت نے گزشتہ سال کورونا وبا کے دوران 2 فیصد شرح سود پر اسٹیٹ بینک کے ذریعے 420 ارب روپے کے قرضے صنعتی شعبے کو ورکرز کی اجرتوں کیلئے دیئے تھے۔ آئی ایم ایف اور دیگر عالمی مالیاتی ادارے کافی عرصے سے اسٹیٹ بینک کی خودمختاری اور کنٹرول حاصل کرنے کیلئے کام کر رہے تھے مگر وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے تھے لیکن اب آئی ایم ایف کی 500 ملین ڈالر کے قرضے کی نئی قسط کی وصولی کیلئے حکومت اسٹیٹ بینک کو اس حد تک آزاد اور خود مختار بنانے کیلئے تیار ہے۔ 

 

اسٹیٹ بینک کے ترمیمی ایکٹ 2021 کے بعد حکومت اور وزیر خزانہ کا اسٹیٹ بینک پر کنٹرول ختم ہو جائے گا اور اسٹیٹ بینک کا گورنر وائسرائے کی حیثیت سے مرکزی بینک کا چارج لے گا جو ایسٹ انڈیا کمپنی کی یاد تازہ کرتا ہے۔ نئے ایکٹ کے تحت افراط زر اور جی ڈی پی گروتھ جو حکومت کی ذمہ داری ہے، اسٹیٹ بینک کو منتقل ہو جائے گی۔ اسٹیٹ بینک، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور دیگر عالمی مالیاتی اداروں کو ہر طرح کی معلومات فراہم کرنے کا پابند ہو گا جو ملکی سلامتی کے خلاف ہے جس کی وجہ سے معاشی ماہرین اور بزنس کمیونٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ اسٹیٹ بینک قوانین میں تبدیلی پر عوام کو اعتماد میں لیا جائے۔ اکنامک ایڈوائزری کونسل کے متوقع کنوینئر اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد ایک ٹی وی پروگرام میں کہا کہ اسٹیٹ بینک کے ایکسچینج ریٹ اور شرح سود بڑھانے سے معیشت کا بیڑہ غرق ہوا۔ یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ بڑھا کر 13 فیصد کر دیا تھا جو اب کم کر کے 7 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کا ترمیمی بل بجٹ یعنی فنانس بل کی طرح ہے جس کی منظوری کیلئے قومی اسمبلی سے اکثریتی رائے درکار ہو گی۔ 

 

اسٹیٹ بینک آف پاکستان ذرائع نے پاکستان سنگل ونڈو قانون سے لاعملی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فارم (ای) اور الیکٹرانک امپورٹ فارم (ای آئی ایف) کو بینک نے ختم نہیں کیا ہے بلکہ اس وقت افغانستان میں بینکوں کی بندش کی وجہ سے یہ فارم ایشو نہیں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس سے قبل مقامی تاجر مارکیٹ سے ڈالر خرید کر بینک اکاؤنٹ میں جمع کرانے کے بعد یہ فارم حاصل کرتے تھے اب بینک ان تاجروں کو یہ فارم جاری کرے گا جن کو ڈالر افغانستان سے ان کے اکاؤنٹ میں موصول ہوں گے، اسٹیٹ بینک کی ذمہ داری صرف بینکنگ نظام کی مانٹیرنگ تک محدود ہے، پالیسی بنانا وفاقی حکومت کا کام ہے اس سے بینک کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔

 

پی ٹی آئی جب برسراقتدار آئی تھی تو اس نے آئی ایم ایف کا کشکول توڑنے کا اعلان کیا تھا لیکن بدقسمتی سے حکومت اسٹیٹ بینک کو آئی ایم ایف کے سپرد کرنے جا رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک کی خودمختاری پر کوئی اعتراض نہیں کرنا چاہیے لیکن آئی ایم ایف کے دباؤ پر مجوزہ بل جلد بازی میں منظور کرنا پاکستان کی معاشی خودمختاری پر سمجھوتہ اور ملکی سلامتی کیلئے مضر ثابت ہو سکتا ہے۔ پاک افغان ٹریڈ سے وابستہ تاجروں کا مطالبہ ہے کہ جب تک افغانستان میں بینکنگ نظام فعال نہیں ہوتا اس وقت تک پاکستان دونوں طرف تاجروں کو آسانی کے لئے پرانی پالیسی کو لاگو کرے تاکہ دو طرفہ تجارت کو مزید کمی سے روکا جا سکے، اس وقت دونوں طرف تاجر واضح پالیسی نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات سے دوچار ہیں جس سے پاک افغان ٹریڈ ختم ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، اگر بروقت اقدامات اور آسان پالیسی لاگو نہیں کی گئی تو ایک طرف پڑوس ملک افغانستان میں خوراکی اشیاء کی قلت میں مزید اضافہ ہو گا تو دوسری جانب اس کے اثرات پڑوسی ممالک پر بھی پڑیں گے۔