پاکستان نے سبسڈی ختم کرنے پر اتفاق کیا : آئی ایم ایف

پاکستان نے سبسڈی ختم کرنے پر اتفاق کیا : آئی ایم ایف

اسلام آباد : آئی ایم ایف چیف کا کہنا ہے کہ پاکستان نے قرض پروگرام کیلئے سبسڈی ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

 

آئی ایم ایف کے مشن چیف نیتھن پورٹر کے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان کے قرض پروگرام کی توسیع پر بات چیت ہوئی ہے۔ پاکستان نے غیر ضروری سبسڈی ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ساتویں جائزہ اجلاس میں مزید بات چیت کریں گے۔ پاکستان نے قرض پروگرام جون 2023 تک جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔ پاکستان نے یقین دہانی کروائی پروگرام کے تحت اہداف حاصل کرے گا۔

 

خیال رہے کہ گزشتہ روز وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ  ہمیں مشکل فیصلے کرنے ہوں گے، ملک کے ڈیفالٹ کرنے کا کوئی چانس نہیں۔واشنگٹن میں عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف) سے مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں مفتاح اسماعیل نے کہا کہ عمران خان حکومت نے جو کمٹمنٹ کی تھی، اُسے نبھانے کے پابند ہیں۔

 

 انہوں نے کہا کہ عمران خان نے کسی ملک کے ساتھ کمٹمنٹ کی ہے تو ہم اس کو پورا کریں گے سٹیٹ بنک کو خود مختاری دی جاچکی ہے، دراصل وہ کمٹمنٹ عمران خان کے نہیں حکومت پاکستان کے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ اس سال ٹارگٹ آئی ایم ایف پروگرام برقرار رکھنا ہے جبکہ اگلے سال اسے آگے بڑھانا ہے۔ 

 

مفتاح اسماعیل نے یہ بھی کہا کہ اس سال ٹیکس ریٹ بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں، غربت میں کمی کے لیےبینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں پیسے بڑھائے جاسکتے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ملک کے ڈیفالٹ کا کوئی چانس نہیں، ہمیں مشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ میں گاڑی میں پٹرول ڈلواتا ہوں تو 1600 کی سبسڈی حکومت پاکستان دیتی ہے، یہ سبسڈی زیادہ تر امیر لوگوں کو دی جاتی ہے۔مفتاح اسماعیل نے استفسار کیا کہ کیا گاڑی والوں کو سبسڈی دینی چاہیے؟ دراصل حکومت یہ بوجھ برداشت ہی نہیں کرسکتی۔