پختون: کل اور آج (آخری قسط(

پختون: کل اور آج (آخری قسط(

تحریر: عرفان اللہ

اللہ تعالی نے انسانوں پر بے شمار نعمتیں کی ہیں۔ زندگی دی ہے، آنکھ، پیر، دل، دماغ، عقل صلاحیتیں دی ہیں۔ ان سب کا ایک ہی مقصد ہے کہ ان کو بروئے کار لا کر اللہ تعالی کو پہچانا جائے۔ پہچاننے کے بعد اس کی تابعداری کی جائے تاکہ دنیا کی فانی اور آخرت کی باقی زندگی میں کامیابی حاصل کی جا سکے۔ لیکن ان تمام نعمتوں میں سب سے قیمتی نعمت ایمان کی نعمت ہے اور یہ بطور خاص پختونوں کو اللہ تعالی نے بحیثیت قوم عطا کی تھی۔ آپ جتنے بڑے پختون ادیبوں کو پڑھیں ان کی تحاریر سے ان کے مذہب سے لگاؤ کا اندازہ ہو جائے گا۔ خدا پر ایمان و یقین کی ان میں اتنی گہرائی پائی جاتی ہے کہ موجودہ زمانے کے اکثر صاحب علم لوگ بھی اس کو ترس رہے ہیں۔

 

رحمان بابا کی شعر و شاعری کے ساتھ ساتھ ان کی صوفیانہ طرز زندگی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں۔ حمزہ شینواری کو ہی دیکھا جائے، ان کی ساری ادبی خدمات مذہب اور قوم ہی کے اردگرد گھومتی ہیں۔ جس ادیب کو بھی آپ اٹھا کر دیکھ لیں ان کی تصنیفات کا آغاز ہی حمد و نعت سے ہوا ہوتا ہے۔ یہ کوئی رواج نہیں تھا وہ بنیادی عقیدت تھی جس کی بنا پر پختون قوم کسی لادینی یا بد دینی تعلیم سے تاثر قبول کرنے سے محفوظ رہی۔ اپنے بڑوں کی راہ چلنے سے ان کی ایمانی قوت محفوظ رہی ہے۔ہمارے ہاں بڑے بڑے لوگ گزرے ہیں۔ اپنے دور میں جنہیں میں نے دیکھا کبھی جماعت کی نماز قضا نہیں کی۔ جمعہ کی نماز کیلئے میلوں سفر کر کے پہنچ جاتے تھے۔ پہاڑ کی چوٹی پر بسنے والے مقامی لوگوں سے بھی پہلے مسجد پہنچ کر نماز جمعہ و عیدین ادا کرتے تھے۔ مسجد کے معاملے میں سب متفق رہتے تھے۔ کسی معاملے میں اختلاف پیدا ہوتا تو مسجد کے مولوی کی ہر شرط پر اپنے درمیان اختلاف کو ختم کرتے تھے۔

 

شرعی پردہ، سود سے نفرت، دھوکہ دہی کو غلیظ سمجھنا، غربا کی مدد کرنا، مہمان نوازی، چادر و چار دیواری کا احترام کرنا سب کے سب مذہب سے محبت کی گہرائی کی علامات ہمارے بڑوں میں موجود تھیں۔ ملک و ملت سے محبت کی بات کی جائے تو تاریخ ہماری حب الوطنی پر گواہ ہے۔ جنگ آزادی سے لے کر پاکستان بننے تک سیاسی و غیرسیاسی طور ہمارے بڑوں نے ملک کیلئے قربانیاں دی ہیں۔ کشمیر میں لڑی گئی جنگ پختون قبائل کی وطن دوستی کی مثال ہے۔ پینسٹھ کی جنگ میں پختون اپنی مدد آپ کے تحت جانفشانی سے لڑتے رہے۔ ہمارے گاؤں میں ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک دفعہ بیرون ملک کسی ہندوستانی نے پختونوں کو طعنہ دیا کہ اگر ہم سب مل کر پہاڑ کے اوپر سے پیشاب بھی پاکستان کی طرف شروع کر لیں سب کو بہا لے جائیں گے۔ اس پر ایک پختون نے اپنا بیلچہ اٹھایا، دائرہ کھینچا کہ یہ سمجھو ہمارا اور آپ کا بارڈر ہے، اگر آپ چھ سات بندے مجھے اکیلے اس لکیر کے پار لے جائیں یا آپ اندر آئیں تو سمجھو پاکستان ہارا ورنہ ہندوستان ہارا۔ مقابلہ شروع ہوا یہاں تک کہ ان چھ ساتھ بندوں کو ہسپتال پہنچایا گیا لیکن وہ لکیر پار نہیں کر پائے۔

 

قومی غیرت تو لوگ پختونوں کی تاریخ سے سیکھا کرتے تھے۔ پختون کی وفا قابل رشک ہوا کرتی تھی۔ کہیں کسی ملک نے پاکستان کو دھمکی دی اور یہاں سارے لوگ جرگہ بلا کر اسلحہ اٹھا کر اپنے عزائم کی نوید سنوا دیتے تھے۔ پھر کیا ہوا؟ مذہب پرستی کی اہمیت خاک میں مل گئی۔ مذہب کو بیک ورڈ سمجھا جانے لگا۔ پگڑی مولوی کی پہچان بن گئی حالانکہ یہ عمومی طور پر پختون کی پہچان تھی۔ مسجد جانا غریب لوگوں کے لئے رہ گیا۔ منطق و دلیل کے نام پر جھوٹے مفروضوں کی زد میں مذہب کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔ اپنے بچوں کو مغربی طرز زندگی کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ عورتوں کے دوپٹے کندھوں پر آ گئے۔ ''مولوی'' یا ''ملا'' کو صرف شاعری میں تنقید کیلئے ہی رکھا گیا ہے۔ دھوکہ فراڈ لوگوں کی پہچان جبکہ نئے دور کے نئے تقاضوں کے نام سے الحاد کی طرف رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ اتفاق و اتحاد نہیں رہا۔ قرآن وسنت کی بجائے نت نئے فتنوں میں پختون پھنستے ہی جا رہے ہیں۔ اور وجہ یہی ہے کہ جن کے آبا و اجداد جس عقیدے پر عمل پیرا ہو کر جنت پہنچ گئے یہ لوگ جدیدیت کے نام پر روز نئے ڈاکٹری و انجینئرنگ کے میدان والوں کے ہاتھوں اپنوں کو ہی گمراہ تصور کر رہے ہیں۔ مجھے بڑا دکھ ہوتا ہے کہ جب دیکھتا ہوں کہ ایک پشتو بولی بولنے والا اللہ تعالی کی ذات پر سوالات اٹھاتا ہے۔ نبی کی نبوت پر سوالات اٹھاتا ہے۔ کچھ لوگوں کی ذاتی کمیوں کی وجہ سے ہر عالم کی بات کو ردی کی ٹھوکری میں پھینک دیتا ہے۔ (میں نے کالج یونیورسٹی میں ایسے لوگ دیکھے ہیں۔ آپ اپنے بچوں پر نظر رکھیں) ہم تو وہ لوگ تھے جن کے بارے میں حاجی عبدالوہاب رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ پختون قوم نے جنت کے آٹھ میں سے سات دروازے اپنے نام کر لئے ہیں (پختونوں کی دینی قربانیاں دیکھ کر کہا کرتے تھے) آج کس طوفان کی زد میں آ کھڑے ہیں؟ کیا ہمیں اپنا قومی تکبر تو نہیں لے ڈوبا؟ کیا ہم کسی خاندانی بالادستی کی خوش فہمی میں مبتلا تو نہیں؟ ملک پاکستان ہمارے بڑوں کی قربانیوں سے آزاد ہوا ہے اور سالم ہے۔

 

یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم کسی شخص یا کسی ادارے کی دشمنی میں اپنے ملک کو ہی داؤ پر لگا دیں۔ سیاسی جدوجہد دلائل کی بات کرتی ہے لیکن زیادہ تر پختون پٹی میں سیاست کے نام پر عصبیت کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آ رہا؟ کیوں لوگوں کو یہ موقع فراہم کیا جا رہا ہے کہ وہ یہی کہیں کہ واقعی پختون غدار بھی ہیں اور دہشتگرد بھی۔ یہ تو ہم ہی جذبات میں آ کر ثبوت تھما دیتے ہیں۔ نیا دور صرف سائنسی بنیادوں پر چیز کے ہونے نہ ہونے پر بات کرتا ہے لیکن سائنس میں جہاں مذہب کارگر ثابت ہوا ان مواد کو جان بوجھ کر چھپایا جا رہا ہے لہٰذا ہر نئے مفروضے پیش کرنے والے کو ماننے کی بجائے پکے ٹکے عقائد و نظریات والوں کو اپنا رہبر بنایا جائے۔ میڈیا کی جنگ میں جب تک اپنے ہتھیار پاس نہ ہوں کودنے کی بجائے اصلاحی کاموں میں وقت صرف کیا جائے۔ قوم پرستی کی بجائے مذہب پرستی کو اولین ترجیح دی جائے کیونکہ امت مسلمہ کو توڑنے والی چیزوں میں سے سب سے اہم قومیت و لسانیت کے نام پر تقسیم ہے۔ علما کی رہنمائی میں ہر فتنے کا مقابلہ کیا جائے۔ اپنے اخلاق و اقدار پر محنت کر کے واپس اس نہج پر پہنچانے کی کوشش کی جائے جس نہج پر ہمارے بڑوں نے ہمارے حوالے کر کے چھوڑ دیئے تھے۔ اپنے آس پاس کی منفی باتوں سے تاثر لینے کی بجائے احسن طریقے سے انہیں روکنے کی کوشش کی جائے۔ شاعری میں دین بیزاری والے مواد کو روکنے کی کوشش کی جائے۔ امن و محبت کو ترجیح دی جائے۔ اپنے بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کیا جائے۔ بڑوں کو دعوت و تبلیغ سے منسلک کر کے عقائد کی اصلاح کا سامان مہیا کیا جائے۔ انشاء اللہ پختون قوم پختونوں کی روایتی، بہترین و سادگی والی زندگی کو بہت جلد پہنچ سکتی ہے۔
 

ٹیگس