پاکستان: یہ ملک ہو گا تو ہم ہوں گے

پاکستان: یہ ملک ہو گا تو ہم ہوں گے

تحریر۔سید ساجد شاہ بخاری


اس وقت دنیا کے 195 ممالک میں انتہائی خستہ حال اور انتہائی پروقار ممالک شامل ہیں۔ ویسے تو پولیٹیکل سائنس کی رو سے ان ممالک کو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں شامل کیا گیا ہے انتہائی ترقی یافتہ ممالک میں پانچ بڑے ممالک یعنی روس، چین، امریکہ، فرانس اور انگلستان تو اتنے طاقتور ہیں کہ ان کے سامنے باقی دنیا کے 190 ممالک کچھ بھی نہیں اور انہیں ویٹو پاور بھی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ جرمنی، جاپان، اٹلی، ناروے اور دیگر یورپی ممالک میں سویڈن، پولینڈ بھی کسی سے کم نہیں تاہم باقی دنیا کے 170 ممالک بے چارے ان کے رحم و کرم پر ہیں کیونکہ دنیا میں ترقی کیلئے جو indicators ہیں یعنی تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، سماجی انصاف، بنیادی انسانی حقوق، وہ ان ممالک میں نہ ہونے کے برابر ہیں تاہم جن ممالک کے اندر آج بھی آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں وہ بے چارے اکیسویں صدی میں اپنا حق مانگتے ہوئے تھک چکے ہیں مگر طاقتور ممالک کی منصوبہ بندی اور طاقت کی وجہ سے یہ ممالک آج بھی ہر قسم کا ظلم و جبر برداشت کر رہے ہیں اس لئے آزادی کی قیمت ان سے پوچھی جائے تو بہتر ہو گا۔

 


مشرقی یورپ کا ایک ملک جو کبھی روس کا ہمسایہ تھا آج تیسری بار اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے۔ یوکرین میں بھی عیسائی آباد ہیں، وہ بیچارے عرصہ نو مہینوں سے تیسری بار آزادی کی جنگ لڑنے کیلئے دنیا کی سب سے بڑی طاقت روس کے مقابلے کیلئے میدان میں نکلے ہیں تو اگر کوئی آج آزادی کا مطلب پوچھنا چاہتا ہے تو وہ یوکراین کے لوگوں سے پوچھے جن کا ہنستا بستا گھر اجڑ گیا، آدھے لوگ یوکرین کے ہمسایہ ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ اس طرح کوئی اگر اس سے بھی زیادہ آزادی کیلئے لڑنے والوں کی مثال چاہتا ہے تو فلسطین کو دیکھ لے جو 1948 سے لگاتار آزادی کی جنگ لڑ رہا ہے۔ فلسطین کی آزادی کیلئے عرب لیگ بھی کئی دفعہ میدان میں اتری اور صیہونی طاقت اور اسرائیل سے مقابلہ کیا جیسے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں ہوا جو 6 دن جاری رہی مگر بجائے یہودیوں سے آزادی کے شام، مصر اور لبنان اپنا زیادہ حصہ تقریباً ایک لاکھ مربع میل اسرائیل کو دے بیٹھے حتی کہ نہر سویز بھی بند ہوا جس سے ان ممالک کو معاشی نقصان ہوا۔ اسی طرح کوئی اگر آزادی کا پوچھے تو میانمر کے مسلمانوں کی حالت دیکھے۔ بنیادی طور پر بنگلہ دیش کے رہنے والے جب ملک بدر ہوئے تو انہیں رہنے کیلئے زمین کا کوئی ٹکڑا نہیں ملا، یہ لوگ میانمر کے ظلم و جبر کے ٹارگٹ رہے۔ آج بھی یہ لوگ صرف اپنی شناخت چاہتے ہیں مگر دنیا کا کوئی ملک انہیں شناخت نہیں دے رہا اس لئے یہ لوگ افریقی قبائل کی طرح سمندر میں رہتے ہیں۔ ظاہر ہے کشتیوں کے اندر ان کے مسکن ہیں، کھانا پینا رہنا سہنا سب سمندر کے ذمے! 

 


آزادی ایک نعمت خداوندی ہے، اس کا حصول کوئی کھیل نہیں۔ دنیا پر طاقت سے حکمرانی کرنے والے ملک برطانیہ نے جب 1770 کی دہائی میں امریکہ کو آزادی دی تو تب بھی لاکھوں امریکیوں نے موت کو قبول کیا تھا۔ اس طرح فرانس نے بھی آزدی حاصل کرنے کیلئے کئے سال تک جنگ لڑی۔ روس کی تو خیر کہانی ہی الگ ہے کیونکہ روس نے 1885 سے لے کر زار روس کے خاتمے تک یعنی 1917 تک لاکھوں انسانوں کی قربانی دی۔ آج اگر روس طاقت ہے تو اس کے اندر ان کے شہیدوں کا لہو ہے۔ ہمارے ہاں ہمارے آبا و اجداد نے بھی بہت بڑی قربانی دے کر اس ملک کو حاصل کیا۔ 1857 سے لے کر 1947 تک مسلسل قربانی دینے والے یہ لوگ صبح و شام ملک کیلئے قربانی دیتے رہے، دعائیں مانگتے رہے اور زندگی سے ہاتھ دھوتے رہے۔ 1857 میں انگریزوں نے مسلمان حریت پسندوں کو توپ اور ٹینکوں کے گولوں کے ساتھ ہوا میں اڑایا اور پوچھتے رہے زندگی چاہتے ہو یا اذیت ناک موت؟ ان سب سے نے اذیت ناک موت قبول کی مگر ملک کی آزادی پر کوئی کمپرومائز نہیں کیا۔ 

 


ایسٹ انڈیا کمپنی نے تین سو سال تک حکومت کی مگر تین ہزار فوجیوں کے ساتھ جب ہندوستان پر قبضہ کیا تو اس کی وجہ مغل شہنشائیت کے جذبہ حریت کا خاتمہ تھا جسے 1947 میں اپنے جسم و جان اور مال و دولت سے شہیدوں نے زندہ کیا۔ آج اگر پاکستان آزد ہے تو اس میں ہمارا کوئی رول نہیں یہ ہمارے آبا و اجداد کے لہو پر بنا ہوا ملک ہے اس لئے ہمیں اس کی قیمت معلوم نہیں، روزانہ سینکڑوں کے حساب سے جب لوگ پاکستان کی آزادی پر سوال اٹھاتے ہیں تو انہوں نے انگریزوں کی غلامی نہیں دیکھی اور نہ ہی ہندوؤں کی منفی سوچ کو دیکھا ہے۔ یہ لوگ اپنی خودی، عزت اور احترام کیلئے لوگوں کو تقسیم کر رہے ہیں، منافقتیں پھیلا رہے ہیں، ان لوگوں نے سکھوں کی مسلمان دشمنی نہیں دیکھی، آزاد قوم اگر آج غلام بنتی جا رہی ہے تو اس میں شامل ہمارے دشمن بالخصوص انڈیا اور اسرائیل کا بڑا کردار ہے اس لئے ملکی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح تک یہ لوگ اور ان کی حکومتیں پاکستان دشمنی میں اول ہیں اور ہر فورم پر پاکستان کی مخا لفت کرتے ہیں۔

 


ہمارے لیڈر قاید اعظم نے پاکستان کی آزادی میں جن ہندو اور انگریز شخصیات کو اپنی قابلیت اور کارکردگی، حب الوطنی سے محسور کیا تھا آج ان کے نقش قدم پر چلنے والے لوگ انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کے اشاروں پر چل رہے ہیں۔ پاکستان کی سرحدات پر قابض افواج پاکستان اگرچہ قربانیاں دے رہی ہیں مگر ملک کے اندر شرپسند اور دہشت گرد ان کے ہتھوں چڑھے ہوئے ہیں۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے، پوری مسلم امہ میں قطر، سعودی عرب، ابوظہبی جیسے ممالک شامل ہیں جن کی وجہ سے پوری دنیا میں معاشی سسٹم چل رہا ہے۔ ان شاہوں کے اخراجات اور ان کے پیسے سے حکومتیں چلنے کے باجود بھی ان کے پاس کوئی ایٹمی طاقت نہیں۔ ہمارے ہاں اس وقت لیڈر شیپ کا فقدان ہے جس کی وجہ سے پاکستان کا کیس لڑنے والے دنیا میں ہمارے سیاستدان ناکام ہو چکے ہیں، یہ لوگ صرف اپنی دولت، عزت اور حیثیت بڑھانے کیلئے امریکہ، فرانس اور انگلستان کے اندر بمعہ خاندان رہ رہے ہیں اور ان ممالک کے اندر پاکستان کے عوام کا سرمایہ جمع کئے ہوئے ہیں۔ ہمارے ملک کا سودا کرنے والے ہمارے لیڈر اس ملک کا کیا سوچیں گے کیونکہ صرف 1947 کو انڈیا سے مائیگریشن کے وقت دو لاکھ کے قریب ہماری مائیں بہنیں عصمت دری کی شکار ہوئیں یا اغوا ہوئیں، لاکھوں نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا، جوان بوڑھے ریل کے اندر تہہ تیغ ہوئے، ان لوگوں میں سے کس نے قربانی دی؟

 


پاکستان کے اندر کسی چیز کی کوئی کمی نہیں مگر بدانتظامی اور Misleading کی وجہ سے اس ملک پر قرضہ چڑھا، آج پاکستان کا ہر بچہ نو لاکھ کا مقروض ہے مگر ان بڑے لیڈروں کی دال، شوگر اور آٹے کی ملیں، فولاد کے کارخانے اس ملک کے ہر باشندہ کا خون چوس رہے ہیں۔ اب بھی وقت ہے کہ ہمارے ہاں حب الوطنی کے جذبے کو پروان چڑھایا جائے، لوگوں کو احساس ہو کہ پاکستان نے ہمیں عزت، شناخت اور محبت دی۔ آج ہم پوری دنیا میں اس ملک کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔ پاکستان بیشک اس وقت بہتر طرز حکمرانی کے حوالے سے کمزور ہو گا لیکن جذبہ حریت سے اب بھی سرشار ہے۔ ضرورت پڑی تو اس ملک کا ہر بچہ وہ بھی غریب اس ملک کے نام پر جان دینے کیلئے تیار ہے اس لئے اس ملک کے حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ اس ملک کو کسی بھی صورت ہم گرنے نہیں دیں گے بیشک اس میں آپ بھی دشمن بن کر شامل ہوں کیونکہ پاکستان آزاد کرنے والے نوجوانوں کا خون ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔ اگرچہ ہر سال جب ہم آزادی مناتے ہیں تو ہم اس کے عادی ہو چکے ہیں مگر ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ یہ ملک ہو گا تو ہم ہوں گے اور اس کی آزادی کی قیمت ہم جان دے کر بھی پوری نہیں کر سکتے۔