پاکستان کی سیاحت اور سائیکل ریس کا انعقاد 

پاکستان کی سیاحت اور سائیکل ریس کا انعقاد 

شہباز ڈیسک 

سیاحت کسی ملک کی معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اس لئے دنیا بھر کے ممالک اس کے فروغ کیلئے کوشاں رہتے ہیں، کورونا وباء کے بعد سے سیاحت کا سلسلہ ملک میں رک سا گیا ہے اس لئے محکمہ سیاحت نے قبائلی اضلاع میں سیاحت کے فروغ کیلئے ایک مرتبہ پھر سے اقدامات تیز کر دیے ہیں، اس سلسلے میں یا تو کورازم یعنی تفریح کے پروگرام کئے جانے ہوتے ہیں یا پھر سائیکلنگ کے جس کی وجہ سے مقامی و دیگر علاقوں سے لوگ ایونٹ دیکھنے کے ساتھ ساتھ کھیل سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں، حالیہ جاری کورونا کی چوتھی لہر تھم کر دوبارہ سے اٹھنے لگی ہے اور اس کیساتھ ڈینگی نے بھی رنگ جمانا شروع کر دیا ہے حکومتی اقدامات ان دونوں وبائوں کو قابو کرنے کے سلسلے میںجاری ہیں ساتھ میں علاقہ میں سیاحت کے فروغ کیلئے بھی کوششیں کی جانے لگی ہیں۔ گزشتہ روز ضلع اورکزئی میں ہونیوالے آل پاکستان سائیکل ریس کا انعقاد اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں اورکزئی ڈسٹرکٹ کے زیڑہ سے خواہ درہ تک کے مقام پر 17.5 کلومیٹر ٹریک پر سائیکلنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں 34 سائیکلسٹ نے شرکت کی جن میں چاروں صوبوں کے علاوہ خیبرپختونخوا کے چار ڈویژن سے بھی کھلاڑیوں نے حصہ لیا اور پورے ایونٹ میں خیبرپختونخوا کے کھلاڑی چھاہے رہے، اورکزئی میں سائیکل ریس کا انعقاد پرامن ضلع ہونے کی علامت ہے، اس سے پورے صوبہ کا بہترین امیج ابھر کر سامنے آیا ہے کیونکہ ایک پرامن انداز سے ریس کا انعقاد ممکن ہوا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی کوئی خبر دیکھنے میں نہیں آئی، ضلع اورکزئی کے سرسبز پہاڑوں کے درمیان ہونیوالی سائیکل ریس میں بہترین ماحول دیکھنے میں آیا اور ایک بار پھر سے ملک میں سیاحت کے فروغ کی امید پیدا ہو چکی ہے۔ ضم اضلاع کے خوبصورت سیاحتی مقامات کو دنیا بھر میں اجاگر کرنے اور وہاں سیاحت کے فروغ کیلئے سیاحتی و کھیلوں کی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اب امکان ہے کہ مزید کھیل بھی کھیلے جائیں گے۔ ریس میں سندھ، بلوچستان، پنجاب، آرڈینینس فیکٹری واہ کینٹ، اسلام آباد اور خیبرپختونخوا کے چار ڈویژن سے کھلاڑیوں نے شرکت کی اور بہترین ماحول اور مناظر سے شرکاء کافی محظوظ ہوئے۔ نتائج کے مطابق ریس میں پہلی پوزیشن پشاور کے یوسف نے حاصل کی جنہوں نے مقررہ فاصلہ 30 منٹ 52  سیکنڈ میں طے کیا جبکہ پشاور ہی کے صادق اللہ نے31 منٹ 7 سیکنڈ میں ہدف پورا کر کے دوسری اور خیبرپختونخوا کے عمران صرف ایک سیکنڈ کے فرق کیساتھ تیسری پوزیشن حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے جبکہ بلوچستان کے محب اللہ نے چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ اس موقع پر کرنل رائے کاشف امین کمانڈنٹ اورکزئی سکائوٹس مہمان خصوصی تھے جنہوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ پہلی بار ضلع اورکزئی میں سائیکل ریس کا انعقاد یہاں کے پرامن ہونے کی علامت ہے۔ یہاں ایونٹ کے انعقاد کا مقصد سیاحوں کو اس ضلع کی جانب راغب کرنا اور مقامی لوگوں کی معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ پراجیکٹ ڈائریکٹر ضم اضلاع اشتیاق خان نے کہا کہ ضم اضلاع میں سیاحت کے فروغ کیلئے سائیکل ریس کا انعقاد پہلی کڑی ہے۔ اس کے بعد مختلف ضم اضلاع میں مختلف سرگرمیوں کا انعقاد کرینگے جبکہ ساتھ ہی انفرسٹرکچر کی بہتری کیلئے سڑکوں کی تعمیر، کیمپنگ پاڈز کا قیام، سیاحوں کیلئے آرام گاہیں اور دیگر تعمیراتی کام کئے جائینگے۔ باجوڑ سے لیکر سائوتھ وزیرستان تک اب سیاحت کے فروغ کیلئے سرگرمیاں منعقد کی جائینگے۔ اس قسم کی تقریبات سے جہاں دنیا بھر میں ملک کا مثبت امیج ابھر کر سامنے آئیگا وہیں بہترین مناظر اور ملکی خوبصورتی بھی دنیا بھر میں اجاگر کی جا سکے گی، ایک اندازہ ایسا بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ دنیا بھر کے سیاحوں کو دوبارہ سے پاکستان کی سیاحت کی جانب راغب کرنے کیلئے یہی بہترین طریقہ ہے اور اسی سے جہاں کھلاڑیوں کو ایونٹس میں شرکت کا بہترین موقع ہاتھ آئیگا وہیں پر فضا مقامات دیکھنے کا موقع بھی ملکی و غیر ملکی کھلاڑیوں کو ملے گا، حکومت کو چاہئے کہ کھیلوں کی بہترین ترویج کیساتھ ساتھ ملکی ثقافت بھی اجاگر کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو پاکستان کا مثبت رخ دکھایا جا سکے۔ چترال کے پرفضا مقام شندور پر ہونیوالے شندور پولو فیسٹیول یا بروغل فیسٹیول کو ہی دیکھ لیں اور اس جیسے  لاتعداد ایسے ایونٹس ہونگے جن کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یہ صرف کھیل ہی نہیں بلکہ اس سے علاقائی  ثقافت کے کئی رنگ جھلکتے ہیں بعض اوقات دیار غیر سے آئے سیاح اتنے محظوظ ہو جاتے ہیں کہ جاتے ہوئے اچھی یادیں ساتھ لے جاتے ہیں اور پھر وہاں اپنے ملک میں اس کی اتنی تشہیر کرتے ہیں جس سے ہمارے ملک کے اندرونی حالات کا ایک اچھا تاثر پھیلتا ہے۔ اس سے قبل بھی کئی سائیکلنگ ایونٹس کا انعقاد ہو چکا ہے۔