پاکستان کرکٹ پھر نشانے پر آ گئی 

پاکستان کرکٹ پھر نشانے پر آ گئی 

پاکستان کرکٹ بورڈ اور حکومت کی جانب سے بھرپور اور فول پروف سیکورٹی ملنے کے باوجود نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے راولپنڈی میں پہلے میچ کے آغاز سے چند لمحے قبل دورہ کی منسوخی کا اعلان کر کے قومی شائقین کرکٹ کے ساتھ پوری دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں کو بھی مایوس کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انگلینڈ کی مینز و ویمنز ٹیم کے دورہ پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا جو بہت بڑا دھچکہ ثابت ہو گا، پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق نیوزی لینڈ کرکٹ بورڈ نے آگاہ کیا ہے کہ انہیں سیکورٹی کے حوالے سے الرٹ موصول ہوا ہے اس لیے یکطرفہ طور پر سیریز ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے لیکن اس بارے میں کسی قسم کی وضاحت نہیں کی گئی کہ آیا وہ کون سے الرٹ تھے جو صرف انہیں موصول ہوئے اور ایسے شدید کہ کسی سے شیئر کئے بغیر واپسی کیلئے رخت سفر باندھ لیا۔ پی سی بی کی جانب سے کہا گیا کہ کیویز کیلئے بھرپور اور فول پروف سیکورٹی کی گئی تھی ذاتی طور پر وزیراعظم عمران خان نے بھی نیوزی لینڈ کی ہم منصب جسینڈرا آرڈن کو بتایا کہ ہماری سیکورٹی انٹیلی جنس دنیا کی ایک بہترین ایجنسی ہے اور مہمان ٹیم کو کوئی سیکورٹی کا خطرہ نہیں ہے، اس سے قبل نیوزی لینڈ کی ٹیم کے آنے سے قبل سیکوڑتی آفیشلز نے بھی پاکستان کی سیکورٹی پر اطمینان کا اظہار کیا تھا، اس کے بعد ہی نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم نے آنے کا فیصلہ کیا جبکہ اس کے بعد انگلش ٹیم کا دورہ بھی ہونا تھا، نیوزی لینڈ حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں نیوزی لینڈ کی حکومت کو موصول سیکورٹی خدشات میں اضافے اور نیوزی لینڈ کے سیکورٹی ایڈوائزرز کے مشورے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ بلیک کیپس دورے کو جاری نہیں رکھیں گے، نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائٹ نے کہا کہ جو تجاویز ہمیں موصول ہوئیں ان کو مدنظر رکھتے ہوئے اس دورے کو جاری رکھنا ممکن نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ پی سی بی کے لیے ایک دھچکا ہو گا جو شاندار میزبان رہے ہیں تاہم کھلاڑیوں کی حفاظت سب سے اہم ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ واحد آپشن ہے، کیویز کے دورہ کے بعد برطانوی ٹیم کا دورہ دورہ بھی شکوک و شبہات کی زد میں آ گیا ہے۔ شیڈول کے مطابق انگلینڈ کی مینز اور ویمن ٹیمیں9  اکتوبر کو اسلام آباد پہنچیں گی، اس بارے ای سی بی نے بھی فیصلہ کیلئے ٹائم فریم بتا دیا اور شاید جلد ہی کوئی حتمی فیصلہ کریں، انگلش کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ ہم نیوزی لینڈ کرکٹ کے سیکورٹی الرٹ سے جڑے فیصلے سے آگاہ ہیں۔ بلیک کیپس کے یکطرفہ فیصلے پر درعمل دیتے ہوئے چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ نے انتہائی افسوس ناک اقدام اٹھایا جس کے بارے میں اب یہاں کہیں بھی نہیں آئی سی سی کے میدان پر بات چیت ہو گی، اس سے ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے، اس بارے میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے سیکورٹی کی یقین دہانی کے باوجود نیوزی لینڈ نے یکطرفہ طور پر دورہ پاکستان منسوخ کر دیا جس سے درپردہ سازش کا پتہ چلتا ہے، کیویز کی سیکورٹی کے لیے ایس ایس جی اور انفینٹری موجود تھی، 4 ہزار پولیس اہلکار موجود تھے، ہمارے اداروں کے پاس کسی قسم کی کوئی سیکورٹی خطرات کی اطلاع نہیں نہ ہی ہمیں کوئی سیکورٹی دھمکی موصول ہوئی پھر یکایک نیوزی ہینڈ نے کیسے اتنا بڑا فصلہ سنا دیا، ملکی و غیرملکی کرکٹرز کی جانب سے بھی نیوزی لینڈ کے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے، ویسٹ انڈین کرکٹر ڈیرن سیمی نے بھی اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے میں گزشتہ6  سال سے پاکستان آ جا رہا ہوں اس دوران میں نے خوب انجوائے کیا ہے کبھی کوئی سیکورٹی مسائل درپیش نہیں آئے، پاکستان ایک محفوظ ملک ہے۔ ایسے میں کرکٹ شائقین سمیت غیر ملکی کرکٹ بورڈز ایک بار پھر سے پاکستان آنے سے کترانے لگیں گے کیونکہ کیویز نے انتہائی غلط تاثر چھوڑاہے، پی سی بی کو اس بارے میں آئی سی سی کے پہلیٹ فارم پر بھرپور آواز اٹھانی چاہئے اور اس سلسلے میں کیویز پر بین لگانے کے انتہائی فیصلے کے بارے میں کہنے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے۔