پاکستان کابھارت کی سکیورٹی کانفرنس میں شرکت سے انکار

پاکستان کابھارت کی سکیورٹی کانفرنس میں شرکت سے انکار

 اسلام آباد( آن لائن ) مشیر قومی سلامتی امور ڈاکٹر معید یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے رہے۔ افغانستان چار دہائیوں سے جنگ کی صورتحال میں ہے، افغان جنگ سے پاکستان براہ راست متاثر ہو رہا ہے۔ بھارت میں مشیر قومی سلامتی کی کانفرنس میں نہیں جاؤں گا، ایک سپائلر پیس میکر کا کام نہیں کر سکتا۔ دنیا افغان حکومت سے تعاون کرے افغانستان سے متعلق معاملہ سیاسی نہیں بلکہ انسانیت کا ہے ۔ افغانستان پر پاکستان اور ازبکستان کا موقف ایک ہے۔

 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ مشیر قومی سلامتی امور کا کہنا تھا کہ   پاکستان کا جغرافیہ انتہائی اہم ہے ماضی میں ہم نے اس جغرافیے سے جو فائدہ اٹھانا تھا وہ بدقستی سے نہیں اٹھا سکے سنٹرل ا یشیاء کے ممالک میں ازبکستان اہم کردار ادا کرتا ہے چار دہائیوں سے افغانستا ن جنگ کی صورتحال میں ہے اور افغان جنگ سے پاکستان براہ راست متاثر ہو رہا ہے افغانستان میں لوگوں کے پا س اپنی ضروریات پوری کرنے کیلئے اخراجات نہیں ہیں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے تانے بانے افغانستان سے ملتے  رہے نائن الیون کے بعد ہم نے دہشگردی کے خلاف جنگ میں بے بہا قربانیاں دیں۔ ہم افغانستان میں امن و استحکام کی بات کر تے ہیں اور ہماری ضرورت ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام ہو افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان اور ازبکستان مل کر کام کریں گے ۔

 

 انہوں نے کہا کہ پاکستان کی      م کو 150ارب ڈالر کا نقصان ہوا، چین کے ساتھ سی پیک منصوبے پر کام جاری ہے وسطی ایشیا کے ساتھ ہماری اس طرح انگیجمینٹ نہیں رہی جس طرح ہونی چاہیے تھی اس حوالے سے وزیر اعطم اور ازبک صدر نے گذشتہ ہفتے فون ہر بات بھی کی تھی۔  وزیر اعظم بار بار یہ بات کرتے ہین کہ پاکستان جیو اکنامک پیراڈائم میں اپنے آپ کو ٹرانسفارم کر رہا ہے افغانستان پر پاکستان اور ازبکستان کا موقف ایک ہے دونوں ممالک کا موقف ہے کہ اس وقت افغانستان پر اسطرح تعمیری بات چیت کی جائے کہ افغانستان پر کوئی انسانی المیہ جنم نہ لے ہم دہشت گردی کے سب سے بڑِے وکٹم ہیںہماری سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ افغانستان میں امن ہو ہمارے پاس افغانستان سے ڈس انگیج کرنے کا کوئی آپشن نہیں ہے ازبکستان اور پاکستان ایس سی او کے فورم پر بھی اکٹھے کام کر رہے. ہیںاس پروٹوکول میں منشیات و دہشت گردی کے انسداد,  نانسداد منشیات فورس و دیگر معاملات پر بات چیت ہوگی ازبکستان کے ساتھ پہلے ہی اچھے دفاعی تعلقات موجود ہیں نیشنل سیکیورٹی ڈویژن اس پروٹوکول کی مرکزی اساس ہو گی اتفاق ہوا کہ سیکیورٹی کے حوالے سے سابقہ معاہدوں کو آگے لے کر چلیں گے۔

 

ازبکستان کے مشیر پاکستان کے تین روزہ دورے پر پاکستان میںہیں اور یہ ان کا دورہ تاریخی ہے ازبک مشیر قومی سلامتی وزیر اعظم, وزیر خارجہ سے ملاقاتیںکریں گے وہ جی ایچ کیو کا دورہ کرنے کے ساتھ ساتھ آج ( بدھ) کو طور خم سرحد کا دورہ بھی کر یں گے  ان کے ہمراہ رزاق دائود بھی ہوں گے وہ پی ایم اے کو دورہ بھی کر یں گے ۔

 

مشیر قومی سلامتی امور  کا کہنا تھا کہ  میں بھارت میںمشیر قومی سلامتی کی کانفرنس میں نہیں جائوں گا کیونکہ ایک سپائلر پیس میکر کا کام نہیں کر سکتا۔ دنیا افغان حکومت سے تعاون کرے افغانستان سے متعلق معاملہ سیاسی نہیں بلکہ انسانیت کا ہے پاکستان اور ازبکستان کو موقف سب کے سامنے ہے۔