پاکستانی بنی اسرائیل

پاکستانی بنی اسرائیل

                                                               محمد سہیل مونس
کئی مورخین و محققین پختونوں کو بنی اسرائیل سے جوڑتے ہیں اب چاہے جس کی تحقیق جس بنیاد پر ہی ہو لیکن ضیاء الحق کے مارشل لائی ملاؤں سے ہم نے لڑکپن میں یہی سنا تھا کہ بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کے طفیل ان کو تاقیامت نہ حکومت نصیب ہوگی اور نہ سکھ پائیں گے۔ ان ملاؤں کی بات میں کتنی صداقت ہے وہ تو وقت ہمیں دکھا رہا ہے کہ تمام کے تمام خطہ عرب نے ان کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں باقی وہ چند فرلانگ زمین سے ایک ملک کے مالک بن گئے ہیں۔ ایک مزید نئی پیش رفت جو ہوئی ہے تو میڈیا اور خصوصاً سوشل میڈیا کے ذریعے اب انھوں نے اپنے گم شدہ بھائیوں کی کھوج شروع کر دی ہے، یہ ویڈیوز تسلسل سے گردش میں ہیں۔ ان میں ان کے بڑے بیٹھ کر اپنے بھائیوں کو اپنے وطن واپس آنے کا کہہ رہے ہیں اور جلدی اس لئے کر رہے ہیں تاکہ ان کا مسایا جلد از جلد آن پہنچے۔ اب ان کے گم شدہ بھائیوں کا شک اوولف کیرو ہم پختونوں پر کر رہا ہے، خیر ان کی بات اپنی جگہ لیکن ہمیں ان سے شکایت ضرور ہے کیونکہ اگر وہ ہمیں اپنے بچھڑے ہوئے بھائی سمجھتے ہیں تو امریکہ اور دوسرے تیسرے کے ساتھ مل کر ایک زمانے سے ہمیں بم و بارود کا نشانہ کیوں بنا رہا ہے۔ کیا حقیقت ہے اور کیا فسانہ لیکن ملاؤں کی بات میں دم ضرور ہے کیونکہ پختونوں نے کبھی چین و سکھ کا منہ نہیں دیکھا، نہ تو افغانستان میں ان کو جینے دیا جارہا ہے اور نہ پاکستان میں، اپنا ملک ہوتے ہوئے بھی وہ خانہ بدوش ہیں اور دنیا میں در در کی ٹھوکریں کھانے پہ مجبور ہیں۔ ہم نے انھیں افغانستان میں لاکھوں کی تعداد میں مرتے، اپاہج ہوتے، رسوا ہوتے، یتیم اور ہزاروں کی تعداد میں وہاں کی عورتوں کو بیوہ ہوتے دیکھا اور یہی حال پختونوں کا پاکستان میں بھی رہا۔ لگ بھگ 80 ہزار کی تعداد میں مارے گئے، گھروں سے بے دخل کر دیئے گئے، اٹھائے گئے الغرض طرح طرح کے مظالم ان پر ڈھا دیئے گئے۔ ان کے گھر تباہ، روزگار تباہ، پوری قوم کی تعلیم و صحت تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی حتی کہ ان کو افغان جنگ کے دور سے ایسی مضر صحت خوراکیں جیسے تیل، آٹا اور دیگر چیزیں دی گئیں کہ جو جانوروں کے کھانے لائق بھی نہیں تھیں۔ اب اس کو نسل کشی نہ سمجھا جائے تو کیا سمجھا جائے جب آپ ایک قوم کے سکول جاتے بچوں کو بھی نہ بخشیں اور ان سے امید رکھیں کہ وہ پرامن زندگی گزاریں اور شانت رہیں، یہ کچھ عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے۔ آج پھر سے ایک مدت بعد پاکستان کے پختون علاقوں میں کسی نئی مہم جوئی کا آغاز ہوا چاہتا ہے، اس ڈرامہ کے لئے پھر سے سوات کا اسٹیج تیارکیا جا رہا ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے وزیرستانوں میں بے گناہ لوگوں کا قتل، ایک رکن پارلیمان پر قاتلانہ حملہ جس میں تین افراد جان سے گئے جبکہ سوات واقعہ کی ویڈیوز تو ہر خاص و عام نے ملاحظہ کیں جن میں پاک فوج کے میجر اور ڈی ایس پی سمیت کئی افراد کو طالبان نے اغواء کر لیا تھا۔ اب اگر ایک خطے میں اغواء برائے تاوان، قتل مقاتلے اور ڈرانے دھمکانے کا سلسلہ جاری ہو حتٰی کہ آپ کے ملک کی ایک بڑی سیاسی پارٹی کے صوبائی قائدین سے خلائی مخلوق بھتہ وصول کر رہی ہو تو ایسی جگہ پر زندگی گزارنے کا تک کیا بنتا ہے۔ پختون اگر اصل میں بنی اسرائیل ہیں بھی نہیں لیکن ان سے روا رکھا جانے والا سلوک کیا ہٹلر کے مظالم سے کم ہے؟ آخر یہ کیا ہو رہا ہے اس بات کی سمجھ تک نہیں آ رہی۔ اگر ایک ملک کے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے شہریوں کو تحفظ دینے سے قاصر ہوں جہاں شہریوں کی جان و مال ایک کھیل تماشہ بن گئی ہو صرف ایک مخصوص قوم جو فیڈریشن میں ریڑھ کی ہڈی تصور ہوتی ہو ان کے ذخائر اور زمینوں پہ قابض ہونے واسطے یہ ڈھونگ رچائے جا رہے ہوں تو پھر اپنے پاسپورٹ سے اسرائیل کو ایک ملک ماننے اور وہاں کے لئے اس کے استعمال کو جائز قرار دینے کی شق ڈال کر ان پاکستانی بنی اسرائیل کو وہاں جانے دیجئے کیا خبر ان کے پہنچتے ہی اللہ تعالیٰ سب کی مشکلیں آسان کر کے اسرافیل کو پھونک مارنے کا اشارہ کر ہی ڈالے کیونکہ اس طرح کا ظلم و جبر تو تاریخ میں نہیں ملتا کہ بنا کسی قصور اور زیادتی کا ارتکاب کرنے کے آپ کسی کو اتنی اذیت دیں کہ جس کی مثال نہ ملتی ہو۔ میرے خیال میں پختون قوم کو اب جاگنا چاہیے کیونکہ وقت آن پہنچا ہے کہ وہ اتحاد و اتفاق کا مضاہرہ کرتے ہوئے ان تمام چیلنجز سے نمٹنے کا مقابلہ کرنے کے لئے کمر کس لیں جو اب کی بار دوبارہ سے ان کو ذلیل و خوار کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اگر فیڈریشن آف پاکستان چاہتی ہے کہ حالات سدھرے رہیں اور ملک میں امن ہو تو فوراً سے پہلے پہلے ان تمام واقعات کی انکوئری کر کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چوکس کیا جائے اور دشمن کے تمام تر عزائم کو خاک میں ملا کر ملک کو کسی بھی بڑے سانحہ سے محفوظ کر لیا جائے۔ اس طرح کے کام دھندا کرنے والوں سے بھی التماس ہے کہ یہ آج سے بیس پچیس سال پرانا دور نہیں کہ آپ لوگ ڈرامہ بازیاں کرتے رہتے اور ہر کوئی یقین کر لیتا، ملک ہمت اور محنت سے چلتے بھی ہیں اور قائم بھی رہتے ہیں مانگے تانگے کی زندگی ہو یا ڈرامہ بازیاں اس کا اختتام نہایت ہی کربناک ہوتا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ کہ اس خطے میں موجود انگریز باقیات اگر بزور ملک کے حصے بخرے کرنا چاہتی ہیں تو شوق سے کرے لیکن یہ یاد رہے کہ پختون اپنی سرزمین پر آنچ نہیں آنے دیں گے۔