اپر چترال میں پیراگلائیڈنگ فیسٹیول اختتام پذیر 

اپر چترال میں پیراگلائیڈنگ فیسٹیول اختتام پذیر 

تحریر: انور زیب

اپر چترال  ہوا کے دوش پر اڑنے والے پیراگلائیڈرز کا پسندیدہ مقام ہے۔ یہاں ماضی میں مختلف اونچی چوٹیوں سے ملکی اور غیر ملکی مہم جو کھلاڑیوں نے آڑان بھری ہے۔ یکم اکتوبر سے تین اکتوبر تک پہلی مرتبہ یہاں ملکی سطح پر پیراگلائڈرز کے درمیان باقاعدہ مقابلے کئے گئے۔ مقابلوں میں مہم جو کھلاڑیوں نے بارہ ہزار آٹھ سو فٹ بلند مقام زینی پاس سے اڑان بھری اور قاقلشٹ کے  کھلے میدان میں اتر گئے۔ سلسلہ ہندوکش کی 25 ہزار 230 فٹ بلند چوٹی ترچ میر کے دامن میں پہلی مرتبہ اس نوعیت کے یہ پہلے مقابلے تھے۔ زینی پاس پیراگلائیڈنگ مقابلوں میں ملک بھر سے 70   کے قریب مہم جو کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ بلندی سے آڑان بھرنے والوں میں وفاقی وزیر عمر ایوب اور ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد علی خان بھی شامل تھے۔ زینی پاس سے پہلی مرتبہ 2007 میں چترال سے تعلق رکھنے والے سید مظفر حسین نے پیراگلائیڈنگ کا مظاہرہ کیا تھا۔ مظفر حسین کے مطابق اس دن موسم کی خرابی کے باوجود انہوں نے یہاں سے اڑان بھری اور سیدھے اپنے گھر کے سامنے کھیتوں میں اتر گئے۔ اس کے بعد دیگر لڑکے  بھی پیراگلائڈنگ کی طرف راغب ہوگئے جو کہ اب بہترین کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں۔ 

 

مقابلوں میں حصہ لینے والی تیرہ سالہ لاریب کہتی ہیں کہ  انہیں پرندوں کی طرح ہوا میں اڑنا اچھا لگتا ہے، اس لئے پیراگلائیڈنگ کررہی ہیں۔ لاریب ایک عرصے سے اس کھیل سے وابستہ ہیں ان کے بقول وہ تقریبا چار سال کی تھیں کہ جب پہلی مرتبہ انہوں نے پیراگلائیڈنگ کی تھی۔ ڈی سی چترال محمد علی خان کے مطابق جو کھلاڑی یہاں سے اڑان بھرتا ہے وہ بہترین پیراگلائیڈر تصور کیا جاتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ زینی پاس اس کھیل کیلئے دنیا کے بہترین مقامات میں سے ایک ہے جو ایک دفعہ یہاں سے پرواز کرجاتا ہے وہ دنیا کے کسی بھی مقام پر پیراگلائینڈنگ کرسکتا ہے۔ 

 

پاکستان  آرمی کے ریٹائرڈ آفیسر راو اختر حسین کے مطابق پیرا گلائیڈنگ کوئی خطرناک کھیل نہیں ہے تاہم موسم کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ پیراگلائیڈنگ کے شوقین لوگوں کو یہاں ضرور آنا چاہئیے۔ 
چترال کو سیاحوں کی جنت کہا جاتا ہے۔ پیراگلائیڈننگ کا خوبصورت مظاہرہ دیکھنے سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں موجود تھی۔ پشاور سے تعلق رکھنے والی خاتون پیراگلائیڈر بینظیر اعوان  2017 سے اس کھیل سے وابستہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ خوشی کی بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ اپر چترال میں اس  قسم کے ایونٹ کا اغاز ہوا۔  اس سے پیراگلائیڈنگ کو فروغ ملے گی۔ 

 

تین روزہ پیراگلائیڈنگ کے مقابلے اتوار کے روز اختتام پذیر ہوگئے۔ ایکوریسی لینڈینگ میں کراچی کے میر عثمان نے پہلے پوزیشن حاصل کی  جبکہ مبارک شاہ  دوسرے نمبر پر رہے۔ کلوز لینڈنگ فلائٹ میں ظہیر الدین بابر نے پہلی پوزیشن  جبکہ مختار  عاصم نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ جینے والے کھلاڑیوں میں مہمان خصوصی وفاقی وزیر عمرایوب اور مشیر برائے اقلیتی امور وزیر زادہ نے ٹرافیاں تقسیم کیں۔ آخر میں شرکاء نے چترال کے روایتی دھنوں پر رقص کرکے سماباندھ دیا۔ ملک بھر سے آنے والے سیاحوں سے ضلعی انتظامیہ کے اس کاوش کو خوب سراہا۔