این ایف سی ایوارڈ پر جرگہ بلایا جائے ہم بات کریں گے، امیر حیدر ہوتی

این ایف سی ایوارڈ پر جرگہ بلایا جائے ہم بات کریں گے، امیر حیدر ہوتی

اسلام آباد: عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی امیر حیدر ہوتی نے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اڈے نہ دینے کا فیصلہ درست لیکن اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سرحد پار دہشت گردوں کی آمد و رفت نہ ہوں۔

 

امیر حیدر ہوتی کا کہنا تھا کہ  امریکہ ہر قیمت پر افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے۔ پہلے کی طرح اگر افغانستان دوبارہ خانہ جنگی کی طرف گیا تو خدانخواستہ وہاں پر بھی تباہی پھیلے گی اور یہاں پر بھی تباہی پھیلے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کرلیں کہ افغانستان سے پاکستان اور پاکستان سے افغانستان دہشتگردوں کی مداخلت نہیں ہوگی۔

 

اس موقع پر اسپیکر قومی اسمبلہ اسد قیصر نے معاملے کو اہم قرار یا اور کہا کہ یہ اہم معاملہ ہے اس پر ان کیمرہ اجلاس طلب کیا جا سکتا ہے، افغانستان سے امریکی فوج کا انخلا اور اس کے بعد کی پالیسی اہم معاملہ ہے، بجٹ اجلاس کے بعد افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

 

اسپیکر  کا کہنا تھاکہ پورے ایوان کو معاملے پر ان کیمرہ بریفنگ دینے کی تجویز ہے جبکہ کمیٹی بنا کر بھی افغانستان کے معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

 

امیر حیدر خان ہوتی نے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 20فیصد اضافہ کیا جائے ،نیشنل فنانس کمیشن تشکیل اور نئے این ایف سی ایوارڈ کے ذریعے اٹھارہویں ترمیم کے مطابق صوبوں میں وسائل تقسیم کئے جائیں، پن بجلی کے منافع اور این ایف سی ایوارڈ کے معاملے پر جرگہ بلایا جائے ہم بات کریں گے

 

 انہوں نے کہا کہ ہمارے بجلی کے خام منافع کو اے جی ایم قاضی فارمولے کے تحت اسے ٹیرف کے ساتھ لنک کردیا گیا تھا اس فارمولے کے تحت ہمیں ہمارا حصہ نہیں دیا جارہا۔

 

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما کا کہنا تھاکہ پارلیمنٹ کو بے توقیر کرایا جا رہا ہے، افسوس سےکہناپڑتاہےکہ آج وزیرستان ،سکھر، سیالکوٹ کی نمائندگی نہیں، اگر یہ عوامی نمائندےاس پارلیمان میں ہوتےتواپنے عوام کی نمائندگی کر لیتے۔

 

انہوں نے کہا کہ جب این ایف سی کی بات ہوتی ہےکہاجاتا ہےکہ 18ویں ترمیم نے صورتحال خراب کر دی، این ایف سی ایوارڈ کے معاملات پر حکومت کا کردار افسوسناک ہے، 18 ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو وسائل فراہم نہیں کیے گئے۔