نوجوانوں کی سیاسی عمل میں شرکت مضبوط جمہوریت کی ضمانت ہے

نوجوانوں کی سیاسی عمل میں شرکت مضبوط جمہوریت کی ضمانت ہے

   تحریر: عمیر نواز 

نوجوان ملک و ملت کا مستقبل اور قوم کے معمار ہوتے ہیں۔ نوجوان ملت کی تعمیر و ترقی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے تحریک پاکستان کے دوران نوجوان طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں آپ کی طرح جوان نہیں ہوں لیکن آپ کے جوش و جذبے نے مجھے بھی جواں کر رکھا ہے، آپ کے ساتھ نے مجھے مضبوط بنا دیا ہے۔ 
نوجوان دماغی و جسمانی لحاظ سے باقی عمر کے طبقوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں، کٹھن حالات کا جواں مردی سے مقابلہ ان کی خوبی ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی کی ضمانت نوجوانوں کی اہلیت و صلاحیتوں میں مضمر ہے۔ اس قوم کی ترقی کی راہ میں کوئی بھی رکاوٹ حائل نہیں ہو سکتی جس کے نوجوان محنتی و ذمہ دار ہوں۔ 
وطن عزیز میں 35 سال سے کم عمر کی 13 کروڑ آبادی ایسا قیمتی اثاثہ ہے جو ملک کی تقدیر بدلنے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ کامن ویلتھ یوتھ گلوبل ڈویلپمنٹ انڈیکس رینکنگ کے مطابق پاکستان کی پوزیشن جو سال 2013 میں89 ویں نمبر پر تھی، جو کم ہو کر154 ویں پوزیشن پر آ گئی ہے جبکہ تعلیم، صحت، روزگار کے مواقع، سیاسی عمل اور دیگر امور میں شمولیت کے حوالے سے بھی پاکستانی نوجوانوں کی شرح انتہائی کم ہے، اس لئے یہ بات ضروری ہو گئی ہے کہ موجودہ منتخب حکومت نوجوان افرادی قوت کو زیادہ منظم و فعال بنائے تاکہ وہ قومی زندگی میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کر سکے۔
ڈاکٹر علامہ اقبال  نے بھی انہی نوجوانوں کو مخاطب کر کے بہت سی نظمیں کہیں، ان کے اشعار نوجوانوں کی اصلاح اور شعور کی بیداری کے لئے تھے، کیونکہ جب تک کسی قوم کو جگایا نہ جائے وہ کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتی، اپنے ایک شعر میں مسلم جوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
پچھلے اٹھارہ سال میں ایک نسل جوان ہوئی ہے جو جمہوری دور میں پروان چڑھی۔ یہ نوجوان جمہوری روایات کو ماضی کی نسل سے زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔ پاکستان شاید دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں سیاست دان ریٹائرمنٹ نہیں لیتے اور بلند ترین عہدے تک پہنچنے کے باوجود اسی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ پارلیمان میں موجود رہیں اور عہدوں کی دوڑ نہ چھوڑیں۔ پاکستان کو نہ صرف ایک نئی جمہوریہ کی ضرورت ہے بلکہ اب اس ملک کی باگ ڈور نوجوان رہنماؤں کو اپنے ہاتھوں میں لینی چاہیے۔
مردان صوبے اور ملکی سیاست میں اپنا ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ جہاں سے وفاق اور صوبے میں کلیدی عہدوں پر پارلیمنٹیرین فائز ہو چکے ہیں اور موجود ہیں لیکن پھر بھی مردان میں یوتھ اور خواتین کو سیاست میں کردار ادا کرنے کا وہ موقع نہیں ملا جو دوسرے جمہوری ممالک میں خواتین کو میسر ہوتا ہے۔ خواتین اور نوجوان نسل ہمارے معاشرے اور سیاست میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ 
جذبہ پروگرام کے تحت مردان ٹی ایم اے ہال میں ''نوجوانوں کی سیاسی عمل میں شرکت مضبوط جمہوریت کی ضمانت'' کے موضوع پر ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ مردان سے تعلق رکھنے والی خاتون ایم پی ایز شاہدہ وحید، ساجدہ حنیف، سابق ضلع ناظم و سابق ممبر قومی اسمبلی حمایت اللہ مایار ایڈوکیٹ، ضلعی مصالحتی کمیٹی کے چیئرمین احسان باچہ، جذبہ پروگرام کی کوآرڈنیٹر نصرت آرا، سوشل ورکر نعیم چوہدری، محمد شاہد خان، حسن حساس اور دیگر نے مردان میں ساؤتھ ایشیا پارٹنرشپ کے اشتراک سے جذبہ پروگرام کے زیراہتمام یوتھ پیپلز اسمبلی سے خطاب  کیا۔ نصرت آرا نے جذبہ پروگرام کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ سیپ پاکستان، خواتین کی بہبود اور سماجی ترقی کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے اور جذبہ پروجیکٹ کے تحت ضلعی سطح پر خواتین کی معاشی اور سیاسی عمل میں موثر شمولیت کے حوالے سے اقدامات اٹھا رہی ہے۔ 
مقررین نے کہا کہ آج کی سیاست میں نوجوانوں کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، ان میں سیاسی شعور بیدار ہو چکا ہے، ترقی یافتہ معاشرے کے قیام کے لئے نسل نو کا سیاست میں کردار بہت اہم ہے، جب تک نوجوان اس شعبے میں نہیں آئیں گے تب تک ملک و قوم کس طرح ترقی کر سکیں گے، محض برا بھلا کہنے سے ملک کی تقدیر نہیں بدلتی ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ قوم کو اپنے نوجوانوں سے قوی امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ ان کی توقعات پر پورا اتریں گے، توقع کی جا رہی ہے کہ نسل نو جس جماعت کو سب سے زیادہ سپورٹ کرے گی، وہی جماعت جیتے گی، آج ہمارے ڈھیروں مسائل ہیں، ایک سے بڑھ کر ایک مسئلہ سر اٹھا رہا ہے، ایسے میں نوجوان ہی اس ملک میں فعال کردار ادا کر سکتے ہیں اور انہی کی قوت سے پاکستان کی جیت بھی ہو گی۔ شرکاء نے خواتین کی سیاسی عمل میں شرکت پر زور دیا۔ 
تقریب کے آخر میں یوتھ خواتین لیڈرشپ، وومن ووٹرز نیٹ ورک کی ممبران، جذبہ ڈسٹرکٹ گرو پاور، سماجی و صحافتی تنظیموں کے اہلکاروں کو ایوارڈ بھی دیئے گئے۔