ٹھہراؤ اور برداشت

ٹھہراؤ اور برداشت

تحریر: محمد سہیل مظہر  

میرے ایک روم میٹ نے، جو کہ ابھی ابھی گاؤں سے اسلام آباد بی ایس کمپیوٹر سائنس پڑھنے کے لیے آئے ہیں، پوچھا کہ آپ لوگ اگر تھوڑی دیر کے لیے بھی باہر جاتے ہیں تو موٹر سائیکل کو وائر لاک اور گھر کے دروازے پر بھی تالے لگا کر جاتے ہیں، یہاں ایسا کیوں ہوتا ہے تو میں نے انہیں بتایا کہ یہ گاؤں نہیں ہے کہ جہاں آپ کو سب لوگ جانتے ہوتے ہیں اور ہمسائے آپ کے گھر کو اپنا گھر سمجھ کر دھیان کرتے ہیں، یا آپ ان کی ذمہ داری پہ گھر ان کے حوالے کر کے چلے جاتے ہیں۔ آپ کے ذہن میں یہ سوال آ رہا ہو گا کہ کیا گاؤں میں چوریاں نہیں ہوتیں تو جواب ہے، ہاں! ہوتی ہیں مگر شہروں کی نسبت بہت کم۔ کیونکہ اگر کوئی ناآشنا شخص آپ کی موٹر سائیکل پہ سواری کر رہا ہو گا تو گاؤں کا کوئی نہ کوئی بندہ اسے دیکھ لے گا اور وہ کسی بھی وقت آپ سے پوچھ لے گا کہ فلاں وقت آپ کی موٹر سائیکل کو کوئی انجان آدمی فلاں جگہ لے کر پھر رہا تھا یا وہاں سے گزر رہا تھا، کون تھا؟ اگر موٹر سائیکل چوری ہوئی ہو گی تو پھر تو خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل جاتی ہے اور ہر شخص اس چوری شدہ موٹر سائیکل کی کھوج میں لگ جاتا ہے۔ یعنی راہ گزرتے موٹر سائیکل پہچان لی جائے گی، اور اس طرح چور جلد پکڑا جاتا ہے بشرطیکہ اس کے پاس کوئی ایسی چیز نہ ہو جس سے لوگوں کو جان کا خطرہ ہو۔ شہروں میں اس طرح کی چوریوں کی اس طرح کھوج لگانا ناممکن ہوتا ہے۔ البتہ اگر آپ پولیس تک آسانی سے پہنچ جائیں اور آسانی سے ایف آئی آر بھی درج کروا لیں تو پھر آپ مہان ہیں۔ اگر آپ شہر میں اپنی اشیاء کی حفاظت خود نہیں کریں گے یا لاپرواہی برتیں گے تو کچھ نہ کچھ چوری ہونے کا امکان رہے گا۔ اور اگر آپ اپنی موٹرسائیکل اپنے گھر کے باہر کھڑی کرتے ہیں اور اسے وائر لاک لگا دیتے ہیں اور ایک بار چیک بھی کرتے ہیں کہ آیا لاک اچھی طرح لگا دیئے گئے ہیں اور مارکیٹ جاتے ہوئے گھر کے دروازے لاک کر دیے ہیں تو یہ آپ اپنی چیز کی خود حفاظت کر رہے ہیں کیونکہ اور کوئی بھی آپ کے سامان کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ ان چھوٹے مگر ذمہ دارانہ کاموں کے کرنے سے آپ کی زندگی میں حوصلے اور ٹھہراؤ کا عمل شروع ہو جاتا ہے جو کہ نوجوانوں میں بہت  کم پایا جاتا ہے۔ اسے میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کہ حوصلہ و برداشت کا ہماری زندگیوں میں کیا عمل دخل ہے۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک18  یا19  برس کا نوجوان اپنی ذمہ داریوں سے باغی ہوتا ہے اور اسے زندگی کے نشیب و فراز کا تجربہ بھی کم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پہ اسے گھر کے کام کاج سے بہت کم دلچسپی ہوتی ہے۔ وہ کبھی بازار اس غرض سے نہیں گیا ہو گا کہ اسے گھریلو ضرورت کی اشیاء خریدنی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح کے کام گھر کے بڑے یعنی والدین سرانجام دیتے ہیں یا وہ جوان جو ان ذمہ داریوں کو نبھانے میں آر محسوس نہیں کرتے۔ مثال اس لیے ضروری تھی کہ اس طرح کا نوجوان چونکہ بنی بنائی چیزوں پر زیادہ اکتفا کرتا ہے اور ہر کام میں تیزی اور چالاکی کی مشقیں بھی کر چکا ہوتا ہے، وہ جب ایک دم سے ایسی ذمہ داریوں کا سامنا کرتا ہے جن میں آہستگی اور ٹھہراؤ کا عنصر پایا جاتا ہو تو فوراً اس کے ذہن میں اس طرح کے سوال جنم لیتے ہیں جن میں سے ایک کا ذکر میں پہلی سطور میں کر چکا ہوں۔ ان میں سے کچھ نوجوان تو ایسی چھوٹی چھوٹی ذمہ داریوں کو پہاڑ سمجھ لیتے ہیں مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر وہ بڑی بڑی ذمہ داریوں سے بھی مقابلے کے اہل ہو جاتے ہیں اور ان کا آسانی سے سامنا کرتے بھی ہیں یعنی آہستگی اور ٹھہراؤ زندگی کو خوبصورت بنانے اور معاشرے کو قانون شکنی سے بچانے کا ذریعہ ہے۔ اس کے بر عکس وہ نوجوان جو ان چھوٹی ذمہ داریوں کو پہاڑ سمجھ بیٹھتے ہیں وہ حساس مگر جذباتی طبیعت کے مالک ہوتے ہیں، وہ ایسی چھوٹی باتوں کو بھی منفی انداز میں سوچنے کے عادی ہو جاتے ہیں اور مستقبل میں وہ اپنی زندگی کے لیے بھی اور معاشرے کے لیے بھی ایک پیچیدہ مسئلہ بن جاتے ہیں۔ اس کی مثال کے لیے اگلی سطور ملاحظہ فرمائیں۔ صحافی کامران شاہد کے پروگرام میں علی احمد کرد اور ریٹائرڈ جنرل امجد شعیب کی گفتگو میں ٹھہراؤ اور جذبات کا بغور مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ بہت سے لوگوں کا فوکس اسی بات پہ رہا ہو گا کہ کون کس کی وکالت کر رہا تھا مگر مجھے اس میں جو نقطہ ملا وہ علی احمد کرد اور ریٹائرڈ جنرل امجد شعیب کے درمیان بحث تھی۔ علی احمد کرد کو، جن کی تقاریر اکثر جذباتی انداز میں ہوتی ہیں، پروگرام میں حوصلے اور ٹھہراؤ کے ساتھ بات کرتے دیکھا اور یہ ان کا دہرا معیار نہیں تھا البتہ یہ ان کا اصل روپ تھا۔ مگر امجد شعیب صاحب کا لہجہ ہمیشہ کی طرح جارحانہ اور جذباتی تھا۔ یہ زندگی میں حاصل کئے گئے پیشہ وارانہ طور پر ٹھہراؤ اور عدم برداشت کا موازنہ ہے جو علی احمد کرد اور امجد شعیب نے گزشتہ زندگی کے تجربات سے حاصل کیا اور اسے یہاں صرف مثال کے طور پر بتایا گیا ہے۔ اسی طرح جب آپ سرخ اشارے پر رکتے ہیں تو دوسروں کی جان کی حفاظت کے ساتھ ساتھ آپ ٹھہراؤ اور برداشت کے عمل کی پریکٹس بھی کر رہے ہوتے ہیں۔ اس پوری تحریر کا اصل مقصد یہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے کام یا چھوٹی چھوٹی باتوں کو، جنہیں عام سمجھ کر رد کر دیا جاتا ہے، عملی زندگی میں لانے سے آپ میں حوصلہ، برداشت اور ٹھہراؤ آ جاتا ہے جو کہ زندگی کے ہر شعبہ میں مفید اور کارگر ثابت ہوتا ہے۔ پھر چاہے وہ آپ کے لاک لگانے کا کچھ منٹ انتظار ہو، بات کرتے ہوئے حوصلہ ہو یا خبر دیتے ہوئے تحقیق، یہ زندگی میں انسان کو کامیاب اور بااصول بناتے ہیں۔