مہنگائی کے مارے عوام حکومت سے مایوس ہو چکے ہیں، سردارحسین بابک

مہنگائی کے مارے عوام حکومت سے مایوس ہو چکے ہیں، سردارحسین بابک

پشاور(شہباز نیوز)اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری و پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا  ہے کہ مہنگائی کے ہاتھوں پریشان عوام حکومت سے مایوس ہو چکے ہیں۔ حکومت عوام کو ریلیف پہنچانے اور عوامی مشکلات کے حل میں غیر سنجیدہ ہے۔ عوام بے روزگاری اور خصوصا کرونا کے ماحول میں ہمارے صوبے کے لاکھوں اوور سیز روزگار اور کاروبار بند ہونے کی وجہ سے بے روزگار ہو گئے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ حکومت حالات کا بغور مشاہدہ کرے اور عوامی مسائل کی حل میں دلچسپی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ غریب عوام دو وقت کی روٹی کی تلاش میں مشکلات سے دوچار ہیں۔ حکومت عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا تماشہ دیکھنا ترک کردیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ہمارا صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، لیکن بد قسمتی سے ہمارے صوبے کے وسائل اور ذرائع آمدن کو صوبے کے غریب عوام کو نصیب نہیں  ہونے دیا گیا ہے اور بزور طاقت غصب کئے گئے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ صوبے کی بجلی اور دیگر قدرتی ذرائع آمدن پر ہمیں منافع دینے سے حکومت منہ چھپا رہی ہے۔صوبے کے عوام کو آئینی حقوق کیلئے آواز اٹھانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔ خیبر پختونخوا کو آئینی حقوق ملنا شروع ہو گئے تو یہ صوبہ ملک کا مالدار ترین صوبہ بن جائے گا۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ صوبے کا انفراسٹرکچر اور سڑکیں باالخصوص اپوزیشن اراکین کے علاقوں میں کھنڈرات کی شکل پیش کر رہی ہیں۔ صوبہ بھر میں دیگر اداروں سمیت تعلیمی اور صحت کے شعبے بھی روبہ زوال ہو چکے ہیں۔ ہنر اور روزگار کے مواقع ڈھونڈنے کیلئے نوجوان دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور رہیں۔ صوبہ بھر میں ترقی کا عمل انتہائی سست ہیاور اپوزیشن اراکین کو نظر انداز کرکےحکومتی اراکین کے علاقوں کو برتری دی جارہی ہے جوکہ ناانصافی اور عوام دشمنی کے مترادف ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت صوبے کے بقایاجات کیلئے آواز نہیں اٹھارہی، صوبے کے عوام اپنا حقوق لینے کیلئے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔ کیونکہ مالدار ترین صوبے کے عوام کو کس طرح مصنوعی طریقے سے پسماندہ رکھنے کی نہ ختم ہونے والی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے صوبے کے عوام بیدار ہو چکے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے صوبے کو کیوں کر پسماندہ رکھنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔