لوگ بے خبر نہیں ہیں، سب دیکھ رہے ہیں

لوگ بے خبر نہیں ہیں، سب دیکھ رہے ہیں

    ساجد ٹکر

تبدیلی کا روگ ملک کو لگ گیا رے
تبدیلی نہیں، مہنگائی آئی رے۔۔۔

عمران خان کی حکومت کو چالیس ماہ یعنی کوئی ساڑھے تین سال ہونے کو ہیں اور اگر ممکن ہوا اور ان کی حکومت اپنی مدت پوری کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو ان کے ساتھ اب صرف اٹھارہ یا انیس ماہ رہ گئے ہیں۔ ایک وقت تھا جب عمران خان کے ہاں وقت ہی وقت اور حمایت ہی حمایت تھی۔ اب لیکن حالات نے ایسا پلٹا کھایا ہے کہ وقت اور ان کو حاصل سپورٹ دونوں ان کے ہاتھ سے نکلے جا رہے ہیں۔ 

 

عمران خان تبدیلی کے بلنگ و بانگ دعوے کے ساتھ آئے تھے۔ انہوں نے100  دن میں حالات کو سیدھا کرنے کا کہا تھا۔ بلکہ کبھی کبھی تو وہ کہتے تھے کہ سب کچھ ایک ہفتہ میں ٹھیک کر دوں گا۔2011  کے بعد ان کی تقاریر میں ایک خاص قسم کی یکسانیت نمایاں تھی، ایک طرف اگر تبدیلی کا راگ الاپا جا رہا تھا تو دوسری جانب مخالفین پر الزامات کی بوچھاڑ تھی۔ تبدیلی کو ایک ایسے انداز میں پینٹ کر رہے تھے جیسے وہ ایک مصور ہوں اور خود اپنے ہاتھوں سے اپنی پسند کی رنگوں سے پرانے رنگوں کو اڑا کر نئے رنگوں سے ایک نئی تصویر بنا رہے ہوں، اسی لئے تو عمران خان نے نئے پاکستان کا نعرہ مستانہ لگایا۔ ساتھ ہی ان کے اس نئے پاکستان کے لئے پرانے لوگوں کا نہ ہونا بھی ضروری تھا، تو عمران خان نے اپنے سارے مخالفین پر الزمات کا ایک ایسا سلسلہ شروع کر دیا جس کی مثال ملک کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ہر وہ شخص جو ان کی جماعت میں نہیں تھا، اسے اپنا مخالف تصور کرتے۔ ہر مخالف ان کی نظر میں چور، ڈاکو، کرپٹ اور بے ایمان تھا۔ ان کی جانب سے کہا جاتا تھا کہ یہ نااہلوں کا ٹولہ ہے جن کی اکٹھ نے ملک کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ بہرحال ان کی تبدیلی کے نعرے اور کرپشن کی اس راگنی کے ساتھ2018  کے الیکشن آ گئے اور عمران خان وزیراعظم کی کرسی پر بیٹھنے میں کامیاب ہو گئے۔ انہوں نے100  دن کا وعدہ کیا تھا لیکن آج ان کی حکومت کو ساڑھے تین سال ہو گئے۔ انہوں نے باہر کے ممالک میں پڑی دولت کو لانے کا کہا تھا بلکہ یہ تک کہا تھا کہ حلف اٹھاؤںگا نہیں جب تک لوٹی ہوئی دولت واپس نہ لے آؤں۔ آج ان کی حکومت کو ساڑھے تین سال ہو گئے، کوئی ایک پیسہ اگر باہر سے آیا ہو تو برائے مہربانی ہمیں اطلاع کیجئے۔ 

 

اس کے ساتھ ساتھ ان کے چہیتے وزیر کہا کرتے تھے کہ دو بلین ڈالر باہر ممالک میں پڑے ہیں اور ان کو امریکہ کے منہ پر ماریں گے، ہم ابھی تک اس آواز کے انتظار میں ہیں کہ کب ڈالر امریکہ کے منہ پر لگیں گے۔ یہ باتیں تو ابھی اتنی زیادہ کہی گئی ہیں کہ استعارے بنے ہیں لیکن ہم ایک بار پھر یاد کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ عمران خان نے یہ باتیں اس ملک کی غریب عوام سے کہی تھیں اور ان کے جذبات کو اکسایا تھا اور اب ہم حق بجانب ہیں یہ کہنے میں کہ عمران خان نے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ1  کروڑ نوکریاں دیں گے، پچاس لاکھ گھر ہوں گے اور فرط جذبات میں یہاں تک کہا تھا کہ روزگار کے اتنے وسیع مواقع ہوں گے کہ لوگ باہر سے آ کر یہاں نوکریاں کریں گے۔ گھر اور نوکریاں تو خیر کب ملنی تھیں، ملک میں بے روزگاری کے اگلے پچھلے سارے ریکارڈز ٹوٹ گئے، غیرملکی جب آئیں گے تو دیکھیں گے لیکن اپنے لوگ اپنے ملک میں بے روزگار گھوم رہے ہیں۔ ملکی معیشت کو سنبھالنے کا کہہ کر آئے تھے لیکن اب حالت ایسی ہے کہ معیشت چاروں شانے چت ہو کر اوندھے منہ پڑی ہے۔ ڈالر کو قابو کرنے کا کہہ کر آئے تھے لیکن ڈالر بے لگام ہو گیا۔ مہنگائی کے جن کو قابو کرنے کا کہہ کر آئے تھے لیکن پتہ نہیں کیوں؟ اور منگائی کا جن بوتل توڑ کر پوری طرح آزاد ہو گیا۔ حکمران جماعت کے ان ساڑھے تین سالوں میں ملک اس مقام پر پہنچ گیا ہے جہاں اب ہر چیز 'ترین' 'ترین' ہے یعنی ڈالر ملک کی تاریخ میں مہنگا ترین، سونا مہنگا ترین، چینی مہنگی ترین، تیل مہنگی ترین، گیس مہنگی ترین، آٹا مہنگا ترین، ٹرین اور ہوائی سفر کے ٹکٹ مہنگے ترین، بجلی مہنگی ترین اور دوائیاں بھی مہنگی ترین۔ صرف ایک چیز سستی ہے جو کہ ہر روز مفت میں بڑھ رہی ہے اور وہ ہے مہنگائی۔ 

 

المیہ مگر یہ ہے کہ حکمران جماعت اب بھی اس حقیقت کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہے اور وزیراعظم سے لے کر وزرا صاحبان تک اپنے اپنے بیانات پر قائم و دائم ہیں۔ یا تو ان کو مہنگائی دکھ نہیں رہی یا ان کی آنکھوں پر پٹیاں لگی ہوئی ہیں۔ لوگ لیکن دیکھ رہے ہیں؛ عوام سوئی ہے نہ غافل، عوام کو سب دکھ رہا ہے۔ عوام کو حکمران جماعت کے دعوے بھی یاد ہیں اور اب ان کے یوٹرنز بھی دیکھ رہے ہیں، عوام کو ملک کی معاشی حالت بھی دکھائی دے رہی ہے اور حکمران جماعت کی نااہلی بھی، عوام کو بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی صاف نظر آ رہی ہیں اور حکمران جماعت کا مسلسل جھوٹ بھی۔ عوام اندھی تو نہیں ہے، وہ دیکھ رہے ہیں کہ پہلے ادوار میں اس ملک پر قرض کتنا تھا اور اب ان تین سالوں میں کتنا قرضہ لیا گیا ہے۔ پہلے قرض کا حجم کتنا تھا اور اب کتنا ہو چلا ہے۔ جی ڈی پی پہلے کتنی تھی اور اب کتنی ہے، فی کس آمدنی پہلے کتنی تھی اور اب کتنی ہے۔ قوت خرید پہلے کتنی تھی اور اب کتنی ہے۔ عمران خان کچکول توڑنے کے نعرے کے ساتھ آئے تھے لیکن اب کچکول اتنا بڑا ہوگیا ہے کہ بھرنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ پہلے قرض لینے کو شرمندگی کا باعث قرار دیتے تھے، خودکشی کرنے کو ترجیح دینے کی باتیں ہوتیں، لیکن اب قرضہ پیکج بن گیا اور عوام کو قرض ملنے پر مبارکبادیاں دی جاتی ہیں۔ 

 

پہلے دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ لگایا جاتا تھا اور اب بھی لگاتے ہیں لیکن عوام نے دیکھ لیا کہ یہ سب ان کی اپنی ذات کے لئے تھا۔ پہلے قوم کی حمیت اور غیرت کے بھاشن دیئے جاتے تھے لیکن اب لنگرخانوں میں ان کو دھکیلا جا رہا ہے۔ نہ تو ایک قوم بنا سکے، نہ ملکی معیشت کو ٹھیک کر سکے، نہ چوروں کو پکڑ سکے، نہ لوٹی ہوئی دولت واپس لا سکے، نہ گھر دے سکے، نہ نوکریاں دے سکے، نہ100  دن میں نظام کو ٹھیک کر سکے، نہ انصاف دے سکے، اور نہ احتساب کر سکے؛ یعنی ان کا ہر نعرہ اور ہر دعوی جھوٹا ثابت ہوا۔ کچکول توڑنے کا خواب بھی جھوٹ، احتساب کا نعرہ بھی جھوٹ، قرضہ ختم کرنے کا قصہ بھی جھوٹ، وعدے بھی جھوٹ اور بالآخر تبدیلی کا لالی پاپ بھی جھوٹ۔ پہلے کہا کرتے تھے کہ تیل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ حکمران چور ہوتا ہے۔ اب جب تیل کو آئے روز مہنگا کرتے ہیں تو خود ہی اس کے لئے توجیحات بھی پیش کرتے ہیں۔ پہلے کہا کرتے تھے کہ کپتان ٹھیک ہو تو نیچے سارے کام ٹھیک ہو جاتے ہیں، اب کہتے ہیں کہ ٹیم اچھی نہیں ملی۔ پہلے کہا کرتے تھے کہ پچھلی حکومتوں کے لوگ نااہل تھے، نالائق تھے اور اب کہتے ہیں کہ ان کو اچھی ٹیم نہیں ملی۔ اگرچہ پہلے خود ہی دعوے کرتے پھرتے تھے کہ ان کے ساتھ200  لوگوں کی ایسی معاشی ٹیم ہے جو ایک ہی ہفتہ میں ملک کو صحیح ٹریک پر لگا دے گی۔ آج تک200  سقراطوں کا وہ ٹولہ پاکستان میں کسی کو نظر نہیں آیا۔ شاید نظر بد سے بچانے کے لئے وہ ٹولہ خفیہ طور پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہوں۔ یہاں یہ بھی عرض کر دیں کہ پہلے کپتان صاحب وژن کی باتیں کرتے پھرتے تھے، کہتے تھے کہ ان کے ساتھ ٹیم کے ساتھ ساتھ وژن بھی ہے۔ اب وژن تو وژن ہوتا ہے، دیکھنے کی صلاحیت تو ہر انسان کے پاس ہوتی ہے، کپتان صاحب غلط نہیں کہہ رہے تھے لیکن جب ایک سیاستدان وژن کی بات کرتا ہے تو اس کا مطلب کچھ اور ہوتا ہے، اس وژن کا مطلب خود کو پیچھے رکھ کر قوم کا سوچنا ہوتا ہے، پرانی غلطیوں کو سدھار کر نئی اچھائیوں کا سوچنا ہوتا ہے۔ اور جب کوئی ایک شخص ایک ملک اور قوم کے بارے میں اپنے وژن کا ورد کرتا ہے تو لامحالہ انسان کے ذہن میں افلاطونی خیالات، فیثا غورثی فارمولے اور نیوٹن چاچا کے نظریات کروٹ لیتے ہیں، وژن جب سیاسی لیول کا ہوتا ہے تو ملک دوڑنے لگتا ہے، قومیں آگے بڑھتی ہیں اور قوم بنتی دکھائی دیتی ہے۔ یہاں لیکن وژن کے نام پر لنگرخانے کھول دیئے گئے، لوگوں کو مرغا مرغیوں اور انڈوں کے فوائد بتائے گئے، کٹا کٹی پالنے کے فوائد سے لوگوں کو بہرہ ور کیا جاتا رہا۔ پہلے کہتے تھے کہ احتساب بے لاگ ہو گا اور خود کو سب سے پہلے احتساب کے لئے پیش کریں گے لیکن پھر کیس پر کیس آتا گیا اور احتساب ہنستا گیا۔ توشہ خانہ کیس، پنڈی رنگ روڈ، پرویز خٹک، بی آر ٹی، علیمہ باجی اور نہ جانے کتنے کیس آئے اور احتساب انتطار کر رہا ہے۔ 

 

مثالیں ریاست مدینہ کی دیتے ہیں لیکن جب ان سے اور ان کے وزرا سے ان کی حکومتی کارکردگی بارے پوچھا جاتا ہے تو جھٹ سے کہہ اٹھتے ہیں کہ یہ سارا کیا دھرا پچھلی حکومتوں کا ہے۔ کیسے لوگ ہیں یہ کہ ان سے جب بھی کوئی سوال پوچھا جاتا ہے تو کتنے اعتماد کے ساتھ کہتے ہیں کہ قرضہ بھی پچھلی حکومتوں کی وجہ سے بڑھتا ہے، ڈالر بھی ان کا کارنامہ ہے اور معیشت بھی ان کی وجہ سے بیٹھ گئی ہے، اور جب پوچھا جاتا ہے کہ آپ لوگ کیا کر رہے ہیں تو کہتے ہیں کہ کوئی اور سوال کرو۔ ایک طرف ان لوگوں نے ملک کی معیشت کا بیڑا غرق کر دیا ہے تو دوسری جانب جس میڈیا نے ان کی حکومت بنانے میں مدد کی، الٹا اب اسے پا بہ زنجیر کر رہے ہیں۔ کون سی ایسی قدغن ہے جو میڈیا پر نہ لگائی گئی، حامد میر جیسی آواز کو آف ائیر کر دیا گیا، اخبارات کو اشتہارات کے ذریعے قابو کر لیا گیا تاکہ ان کی ناکامیاں دکھائی نہ دیں۔ ایک طرف ان کی میڈیا پر  مختلف پابندیوں کی بات ہے تو دوسری جانب ان کی خوش قسمتی ملاحظہ کیجئے کہ ان کو اوائل میں بلکہ حکومت سے پہلے ہی ایک چینل، کئی ایک بڑے اینکرز اور تجزیہ کار جھولی میں دے دیئے گئے تھے جو پی ٹی آئی کی بے سر و پا بات کو بھی اقوال زرین بنا کر پیش کر دیتے تھے۔ کسی کو مجال نہیں تھی کہ کپتان سے کوئی ایرا غیرا سوال کرے، ہر اینکر جو کپتان کا انٹرویو کرتا، پہلے کپتان کی تعریف کرتا تھا، ہنستے مسکراتے انٹرویوز ہوتے تھے اور اینکرز حضرات فیس بک اور ٹویٹر پر خان صاحب کے ساتھ اپنی انٹرویو کی تصویر لگا لیتے جیسے قوم پر بہت بڑا احسان کر کے آئے ہوں۔ کیا کامران خان، کیا کامران شاہد، کیا ارشاد بھٹی، کیا مبشر لقمان، کیا صابر شاکر اور کیا حسن نثار، یہ اور ان جیسے دیگر لوگ صبح و شام کپتان کی تعریف میں رطب اللسان ہوا کرتے تھے بلکہ خان کی تعریف کو اپنے لئے کوئی بہت بڑی سعادت سمجھتے تھے۔ یہ لوگ بھی لیکن اب مایوس ہو چلے ہیں اور اپنے اپنے لیول پر مایوسی کا اظہار کر کے ہواؤں کا رخ بتا رہے ہیں۔ جتنا اونچا اور گلہ پھاڑ پھاڑ کر کامران خان کپتان کی حمایت میں بولتے تھے، انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں عمران خان کو خدا حافظ کہہ دیا۔ ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے، اس طرف آتے ہیں لیکن اس سے پہلے دم اور توہمات کی طرف ایک نظر دوڑاتے ہیں۔


6 اکتوبر سے اب تک ملک کی ایک اہم پوسٹنگ پر عمران خان نے سارے ملک کو شش و پنج میں رکھا، چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں کیونکہ آئی ایس پی آر نے معمول کے مطابق اس حوالے سے خبر بھی جاری کر دی تھی لیکن عمران خان نے سمری پر دستخط کرانے میں لیت و لعل سے کام لیا یہاں تک کہ بات بہت بگڑ گئی۔ اب کسی کام کو یا تو کیا جاتا ہے اور یا پھر نہ کرنے کی وجہ بتا دی جاتی ہے، یہاں لیکن پراسرار سی خاموشی سے کام لیا گیا جس سے کہ مختلف اندازے اور ''گنگوسے'' پھیلنے لگے۔ کسی نے کہا کہ یہ مہینہ عمران خان کے لئے ٹھیک نہیں تو کسی نے کہا کہ کچھ ستاروں کی چال ابھی کپتان کے حق میں نہیں، خیر جتنے منہ اتنی باتیں۔ کسی ایک شخص نے تو یہاں تک کہ دیا کہ ''ن'' حرف کا بھی کچھ قصہ ہے لیکن ہمیں اس سے لینا دینا نہیں اگر چہ حرف ''ع'' کی پراسرار اور معنی خیز لیکن نامعلوم اہمیت نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کا بیڑا ہی غرق کر دیا ہے؛ کچھ لوگ تو تین ''ع'' کا کوئی قصہ بھی میدان میں لانے کی کوشش کرتے ہیں یعنی ع سے عثمان بزدار، ع سے عارف علوی اور ع سے عمران خان اور باقی آپ سمجھدار ہیں۔ ہم یہاں صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان سب چیزوں کی اہمیت کسی کی نظر میں اپنی جگہ کیونکہ ہم کسی کی پرسنل اور ذاتی زندگی اور عقائد و نظریات میں دخیل ہونے کے حق میں نہیں لیکن بھئی یہاں بات صرف ذات تک محدود نہیں، ایک ملک اور22  کروڑ لوگوں کی زندگیوں کا سوال ہے، ملک کے مستقبل کا سوال ہے، ملک کے اڑوس پڑوس میں پیدا ہوئے حالات اور بدلتی ہوئی دنیا کا سوال ہے، کیا ہم ان حالات میں ان جیسی باتوں پر تکیہ کر کے ملک چلا سکتے ہیں۔ 

 

ایک طرف بدقسمتی سے ملک کا قرضہ بڑھتا چلا جا رہا ہے اور عوام خوار ہو رہے ہیں تو دوسری جانب اسی بابت عوام کو دلاسہ دینے والا بھی کوئی نہیں، خود حکومتی ارکان اور وزرا بار بار پتہ نہیں کیوں ایسے بیانات دیتے ہیں جن سے کہ غربت اور مہنگائی کی ستائی ہوئی عوام کی زخموں پر نمک پاشی ہوتی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ پاکستان دنیا کا سستاترین ملک ہے تو کوئی کہتا ہے کہ جرمنی میں بھی مہنگائی کا تیس سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے، کوئی تیل مہنگا ہونے پر انگلینڈ کی مثالیں دیتا پھر رہا ہے تو کوئی انڈیا کی غربت کو بیچ میں لا رہا ہے۔ مطلب ان لوگوں کو شاید یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ مہنگائی کے فوائد بیان کئے جائیں تاکہ عوام حکومت کا شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہو جائیں ورنہ حکومتیں اور حکمران ایسے کڑے وقتوں میں عوام کی ڈھارس بن جاتے ہیں، کوشش کرتے ہیں کہ عوام کو دلاسہ دیا جا سکے، کوشش کرتے ہیں کہ مشکل کو چیلنج کے طور پر لیں اور آگے آ کر مسئلے کا حل ڈھونڈ نکالیں، لیکن یہاں ہمیں ایسی مثالیں دی جاتی ہیں جو کہ ایک طرف عوام کے زخموں پر نمک پاشی ککے مترادف ہوتی ہیں تو دوسری جانب اس حکومت کے نااہل ہونے کا ثبوت بھی پیش کرتی ہیں۔ 

 

اس سے بھی زیادہ اس ملک کی بدنصیبی یہ ہے کہ یہاں کے جو حکمران ہیں وہ غلطی لینے کے لئے تیار ہی نہیں بلکہ الٹا پچھلی حکومتوں کو بیچ میں لا کر اپنا وقت نکالنا چاہتے ہیں۔ اور حکمرانوں کا ایسا طرز اور رویہ کسی ملک کی بربادی کی طرف پہلا قدم ہوتا ہے اور ایسا رویہ حکمرانوں میں نرگسیت، خبط عظمت اور غرور کی وجہ سے جنم لیتا ہے۔ گو نواز گو کے تخلیق کردہ نعروں نے ان حکمرانوں کو پتہ نہیں کیوں ایک ایسے سحر میں مبتلا کر دیا ہے کہ اب اس سے نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہے ورنہ سیاست میں جو نعرہ آج آپ کو سوٹ کر رہا ہے کل آپ کے لئے وبال جان بن سکتا ہے۔ اگرچہ اس حکومت کو کراچی اگر نسبتاً بہتر حالت میں ملا ہے تو نواز حکومت کی وجہ سے، اس حکومت کو ایل این جی بھی پچھلی حکومت کی برکت سے ذرہ سی سستی ملی تھی، بجلی پلانٹس بھی اور اکانومی بھی لیکن پتہ نہیں کس کی نظر ہے یا نااہلی ہے کہ ملک نے آگے جانے سے انکار ہی کر دیا ہے۔ شکر ہے اس ملک میں موٹروے ہے اور ملک چلائی دے رہا ہے ورنہ موجودہ حالات میں تو ملک نے رکنا ہی تھا۔ ایسے حالات میں جب کہ ملک مشکل صورتحال سے دوچار اور عوام پریشان ہوں تو وزرا دن رات ایک کر کے اپنے متعلقہ وزارتوں میں کام نکالتے ہیں، عوام کو اعتماد میں لیتے ہیں اور کچھ کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے یہاں وزرا کا پتہ نہیں  کیوں ایسا لگ رہا ہے کہ بس صرف خان صاحب کو سپورٹ کرنے کی ڈیوٹی لگی ہو۔ دوسری طرف اپوزیشن بھی نہ کھل کر سامنے آتی ہے اور نہ مکمل طور پر چپ سادھ لیتی ہے۔ 

 

بہرحال، ہم اگرچہ خان صاحب کو مشورہ دینے کی پوزیشن میں نہیں لیکن تجزیہ کرنے کے مجاز ضرور ہیں۔ ہم بس صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ جو وزرا آج گلا پھاڑ پھاڑ کر خان صاحب کی حکومت اور اقدامات کی حمایت میں لگے ہیں یہ صرف اپنی مدت بڑھا رہے ہیں اور کپتان کے غم میں نہیں لگے ہوئے کیونکہ کچھ سال پہلے یہ لوگ کسی اور کے لئے لڑتے جھگڑتے تھے۔ خان صاحب کو یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ ان کے اردگرد بہت سے ایسے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جن کی مثال پنچھیوں جیسی ہے اور وہ ہواؤں کے رخ کے ماہر ہیں اور لگتا ہے کہ ملک میں ہواؤں کا رخ عمران خان کے لئے کروٹ لے کر بدل رہا ہے۔ کل کیا پتہ یہ لوگ کہاں اور کس جماعت کے سٹیج سے کپتان کے خلاف ہرزہ سرا ہوں۔ ایسے میں عمران خان کو ان کی سچائی ہی بچا سکتی ہے کہ قوم کے سامنے سچ بول دیں کیونکہ ہواؤں کا رخ تیزی سے بدل رہا ہے اور حکومت کو پچھلے ڈیڑھ ایک ماہ میں ایک نہیں بلکہ تین چار ٹریلرز دکھائی دیئے یا پھر ''دکھائے'' گئے ہیں، کسی کو یقین نہیں آتا تو ٹی ایل پی مارچ، پی ڈی ایم میں ایک بار پھر اٹھک بیٹھک، اتحادیوں کا آنکھیں دکھانے کا سلسلہ، شکوے شکایات اور سیاسی بے چینی۔ ورنہ جو حکومت تین سالوں میں پارلمینٹ کو گھاس نہیں ڈال رہی تھی اب وہ اتحادیوں اور اپنے پارلمینٹرینز کو گھنٹوں دے رہی ہے، کیا ہوا کہ مشترکہ پارلیمانی اجلاس کو ملکی تاریخ میں پہلی بار ملتوی کرنا پڑا۔ کیا ضروت پیش آئی کہ عمران خان نے کور کمیٹی کا اجلاس بلایا اور میڈیا میں بات پھیلائی گئی کہ مہنگائی پر اجلاس تھا جبکہ لوگ جانتے ہیں کہ کور کمیٹی ایسا فورم ہے جس کا اجلاس سیاسی نازک حالات کے پیش نظر بلایا جاتا ہے کیونکہ مہنگائی جیسے مسائل کے لئے کابینہ ہوتی ہے۔ 

 

ہواؤں کا رخ تیزی سے بدلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے اور ہر کوئی اپنے اپنے رخ کا تعین کر رہا ہے۔ جاتے جاتے ان حالات میں حکومت کی ایک اور پھلجڑی بھی دیکھتے یا سنتے جائیں کہ اب لوگوں کو دن میں صرف تین بار گیس ملے گی۔ یعنی آپ ناشتہ کیجیے، دوپہر اور شام کا کھانا اور باقی آپ کے ہاں بچے ہوں، بیمار ہوں، دودھ گرم کرنا ہو یا پانی تو بندوبست اپنا خود کر لیں۔ تبدیلی نہیں، مہنگائی آئی رے!