عوام سلیکٹڈ اور حقیقی نمائندوں میں فرق جان چکے ہیں، ایمل ولی

عوام سلیکٹڈ اور حقیقی نمائندوں میں فرق جان چکے ہیں، ایمل ولی

چارسدہ۔۔۔ عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ صوبے کے عوام سلیکٹڈ اور حقیقی نمائندوں میں فرق جان گئے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات میں عوام لالٹین کے حق میں اپنا فیصلہ سنا چکے ہیں۔ صوبہ بھر میں انتخابی میدان میں سرخ جھنڈے کے سامنے کرنے کیلئے کوئی نہیں ۔ باچا خان کے پیروکاروں نے سیاسی مخالفین بالخصوص حکومتی جماعت کی نیندیں حرام کردی ہیں۔

 

صوبائی صدر نے کہا کہ انتخابات چوری کرنے کاہر حربہ ناکام بنایا جائے گا۔ افسر شاہی حکومتی آلہ کار بننے کی بجائےووٹ کی حفاظت کو یقینی بنائے۔ افسران اگر اپنی آئینی ذمہ داری بروئے کار لانے کی بجائے فریق بنیں گے تو عوام انکو معاف نہیں کریں گے۔

 

سرڈھیری چارسدہ میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ تبدیلی لانے والے آجکل عوام سے منہ چھپا کر گھوم رہے ہیں۔ صوبے میں آٹھ سالہ دوراقتدار نے تحریک انصاف کی نااہلی اور نالائقی کوبے نقاب کردیا ہے۔ عوام جان گئے ہیں کہ نئے پاکستان کے نام پر انکے ساتھ دھوکہ کیا گیاہے۔اصل تبدیلی تب ہی ممکن ہے جب عوام موجودہ حکمرانوں سے نجات حاصل کریں گے۔

 

انہوں نے کہا کہ اے این پی نے پانچ سالہ دور اقتدار میں صوبہ بھر میں ریکارڈ ترقیاتی کام کئے۔اٹھارہویں آئینی ترمیم اور صوبائی خودمختاری کی شکل میں مرکز سے صوبے کے حقوق حاصل کرنا اے این پی ہی کا کارنامہ ہے۔صوبہ بھر میں مشکلات حالات کے باوجود نو نئی یونیورسٹیوں کا قیام پاکستان کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہے۔آج صوبے اور مرکز میں ایک ہی جماعت اقتدار پر مسلط ہے لیکن صوبہ آئینی حقوق سے محروم ہے۔مرکز بجلی اور گیس کی مد میں رائیلٹی دینے سے انکاری ہے لیکن صوبائی حکومت تماشہ دیکھ رہی ہے۔  جب سے موجودہ حکمران اقتدار میں آئے ہیں صوبے کے عوام کو محض مہنگائی اور بے روزگاری ہی ملی ہے۔ پچھلے 9 سالوں میں جتنے منصوبے شروع کئے گئے سارے کرپشن کی نذر ہوگئے۔  آج حکومت عدالتوں سے تحقیقات رکوانے کیلئے منتیں کررہی ہیں۔

 

 انہوں نے کہا کہ پختونوں کیلئے ووٹ کا حق باچا خان اور خدائی خدمتگاروں نے 1930 میں جیتا تھا۔ پختونوں کی تاریخ میں پہلا سیاسی جلسہ خدائی خدمتگاروں نے کیا تھا۔ انگریز اور قیوم خان سےلے کر آج تک عوامی نیشنل پارٹی کی تاریخ قربانیوں سے عبارت ہے۔ خدائی خدمتگاروں اور اے این پی کو ختم کرنے کے دعوے کرنے والے خود ختم ہوگئے۔ آج ان کا کوئی نام لینے والا بھی کوئی نہیں باچا خان کے پیروکار آج بھی میدان میں کھڑے ہیں۔

 

انہوں نے مزيد کہا کہ اسلام کے نام پر سیاست کرنے والے اسلام کو بدنام کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔  پختون من حیث القوم مسلمان ہیں، پختون سرزمین پر اسلام اور کفر کی کوئی لڑائی نہیں۔ مذہب کو ڈھال بناکر اپنے مفادات حاصل کرنے والے پختونوں کو گمراہ کررہے ہیں۔پختون مذہب کے نام پر تجارت کرنے والوں کی سازشوں میں مزید نہیں آئیں گے۔

 

انہوں  نے کہا کہ ملک میں اصل جمہوریت اور آئین وقانون کی بالادستی عوامی نیشنل پارٹی کا خواب ہے۔ اے این پی نے اس مقصد کیلئے لازوال اور ناقابل فراموش قربانیاں دی ہیں۔ 19 دسمبر کو عوام پورے صوبے میں لالٹین کے امیدواروں کو بھرپور کامیابی سے ہمکنار کرائیں گے۔