لوگ ہمارا چہرہ ہی تو دیکھتے ہیں

لوگ ہمارا چہرہ ہی تو دیکھتے ہیں

تحریر: ارم رحمان
اکثر سوشل میڈیا پر کچھ عرصے بعد ایک پوسٹ آتی ہے کہ عورت کی سیرت دیکھنی چاہیے ، صورت میں کیا رکھا ہے، یاحسن اور جوانی تو ڈھل جاتے ہیں ۔اس پہ مان کیسا۔۔!! اور پھر لوگ دھڑا دھڑ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں ، عظیم لکھاریوں کے مقالات اور احادیث کے حوالے دیے جاتے ہیں۔۔ گویا سب اپنے علم و فضل سے سب کو مرعوب اور محظوظ کرنا چاہتے ہیں۔۔ پوسٹ کرنے والا اپنے لائکس کی تعداد دیکھ کر خوش ہوتاہے۔۔ اور ابلیس انکل اس کے حسن ذوق کو بڑھاوا دیتے ہیں کہ بیٹا تو نے بہت تخلیقی کام کیاہے۔۔۔لگارہ پیارے لگارہ۔۔  بات صرف اتنی سی ہے بھائیوں اور بہنوں ۔۔۔درحقیقت ۔۔۔لوگ عورت کا صرف چہرہ ہی تو دیکھتے ہیں،  چاہے وہ کسی بھی عمر کی ہو ، پھر باقی جسم اور باقی لوازمات۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو ساری نیک سیرت بیبیاں گھر بسائے بیٹھی ہوتیں اور ساری خوبصورت خواتین گھر بوڑھی ہو رہی ہوتیں۔۔ سارے بیوٹی سیلون غریبوں کی فلاح گاہ بن جاتے، میک اپ کا سامان بنانے والی انڈسٹریز غریب اور بے سہارا خواتین کو کوئی ہنر سکھانے میں مصروف عمل ہوتیں۔ بوٹوکس اور جھریوں سے پاک جلد کا سازو سامان بنانے اور استعمال کرنے والے ڈاکٹرز اور ماہرین  وغیرہ سب بے روزگار ہوتے، رنگ گورا کرنے والی کریم بنانے والے اربوں کمانے کی بجائے محدود وسائل کے تحت بریانی اور نان چنے کی ریڑھی لگانے پہ مجبور ہوتے، جدید ملبوسات تیار کرنے والے برانڈڈ ڈریسز کی قسمیں بنانے والے اورپھر ایسی نمائشوں میں  اول آنے والے صرف برقعے، عبائے اور چوغے سیاکرتے۔ غرضیکہ ساری ہماہمی اور جدیدیت کی شدت مسجد سے مسجد تک محدود رہ جاتی، زندگی کے آدھے سے زیادہ مسئلے مسائل ختم ہو جاتے اور لوگ فراغت سے بور ہوا کرتے، ساری خواتین مصلے پہ بیٹھی ملا کرتیں۔ کسی کی بہن بیٹی کے نین نقش کی چغلی اور غیبت نہ ہوا کرتی، کسی غریب کی نیک پروین بیٹی کو ٹھکرایا نہیں جاتا۔ معمولی شکل و صورت کی بچیوں کو والدین کو لمبے چوڑے جہیز دینے کے چکر سے نجات مل جاتی اور بوڑھے لاچار والدین کو دہلیز پہ بوڑھی ہوتی بیٹی دیکھ کر خون کے آنسو نہ رونا پڑتا۔ غور کیجیے گا، راستے میں چلنے والا پیدل یو، بائیک یا کار کسی بھی سواری پر راہ چلتی عورت کو ضرور دیکھتا ہے۔  اچھی صورت ہو تو گندے اشارے بھی دیکھنے کو ملیں گے۔ المختصر صرف ایک کشش نے ساری دنیاکو مشغول کر رکھا ہے  بوریت کے احساس سے بچایا ھوا ہے، سوشل میڈیا، ٹی وی، ساری فلم انڈسٹری، میک اپ، ملبوسات اور ہر طرح کے انتظام و انصرام کے پیچھے صرف ایک ہی راز مضمر ہے۔ اور اس ساری کارگزاری میں ''نیک سیرت'' عورت کا کوئی ذکر فکر نہیں، لینا دینا نہیں، تعلق واسطہ نہیں۔ فقط حسن، دلکشی، لبھانا دکھانا کیونکہ لوگ ہمارا چہرہ ہی تو دیکھتے ہیں۔