کارگردگی کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا!

کارگردگی کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا!

تحریر: شیخ خالد زاہد

مضمون جب لکھنا شروع کیا تو حکومت کی تین سالہ میعاد مکمل ہوئی تھی یعنی ایک ماہ قبل، زندگی کے جھمیلے پیروں میں بیڑیاں بن جاتے ہیں اور اپنی مرضی سے وہاں لے جاتے ہیں جہاں لے جانا چاہتے ہیں اور وہاں جانے سے روک لیتے ہیں جہاں آپ جانا چاہتے ہیں، ایسا ہی کچھ ہمارے ساتھ ہوتا رہتا ہے۔ تقریباً دنیا میں تقریباً دو فیصد انسان ہیں جو اپنی آرام دہ یا طے شدہ زندگی سے باہر نکلتے ہیں یا بنائی گئی دیوار پر چڑھ کر دوسری طرف دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں (وضاحت کرتے چلیں کے آرام دہ سے مراد وہ مقام جہاں سے آپ آگے نہیں جاتے یا جانا نہیں چاہتے اس میں ہر طبقے کے افراد شامل ہوتے ہیں) یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں اپنا نام نا بھی چھوڑیں مگر کوئی نا کوئی نایاب کام ضرور چھوڑتے ہیں۔ بڑے افسوس کے ساتھ لکھنا پڑھ رہا ہے کہ اٹھانوے فیصد لوگ وہ ہیں جو صبح سے رات اور رات سے صبح کیلئے زندگیاں وقف کرتے ہیں۔ وقت گزاری اور کارگردگی میں فرق ہوتا ہے وقت گزاری کہتے ہیں جیسے چل رہا ہے ایسے ہی چلا تے جائیں لیکن کارگردگی کی پیمائش کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ آپ پچھلے والے سے موازنا کریں اور کیا جدیدیت یا وقت سے ہم آہنگی کام میں پیدا کی گئی ہے۔ جب کوئی مقصد ہوتا ہے تو وہ عمل سے بھی ہوتا جاتا ہے پھر اس پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اس طرح سے آگے بڑھتے ہوئے کارگردگی کے پیمانے بھی متعین کئے جاتے ہیں تاکہ یہ جانا جا سکے کے گزرے ہوئے کل سے آج میں کیا فرق لایا گیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اسلام سے قبل دنیا جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی جس کی ایک سب سے بڑی گواہی کافی ہو گی کہ بچیوں کو پیدا ہوتے ہی دفن کرنے کا رواج تھا۔ خاتم النبین حضرت محمد ۖ کو اللہ ربا العزت نے دنیا پر علم و دنائی کے سورج کی مانند روشن کیا جنہوں نے جہالت کے اندھیروں میں ڈوبی دنیا کوعلم و عمل کے چراغوں سے روشن کیا اور انتہائی قلیل وقت میں دنیا میں ایک ایسی تہذیب وجود میں آئی جس نے دنیا کی تہذیبوں کے خال و خد کو ترتیب دیا۔ آج تہذیب کے آمین اپنا سب کچھ بغیر کتبہ لگائے کسی گمنام مقام پر اجتماعی قبر میں دفنا چکے ہیں۔ کارگردگی کی جانچ کرنے کیلئے سب سے اہم ہے جز یہ ہوتا ہے کہ کوئی پیمانہ طے کیا جائے، موازنے کیلئے اداروں کی کارگردگی یا اداروں کے اندر کام کرنے والوں کی کارگردگی جانچنا قدرے آسان کام ہوتا ہے کیونکہ وہاں اس کام کیلئے میعاری پیمانہ طریقہ کار موجود ہوتے ہیں۔ دوسری طرف جب ہم بات کرتے ہیں سیاست کی تو سوائے الزام تراشیوں کے اور کچھ بھی سنائی نہیں دیتا اور یہ آج کا وطیرہ نہیں ہے یہ ہمیشہ سے رہا ہے کہ آنے والا جانے والے کے شائد ہی کسی کام پر اطمینان کا اظہار کرتا ہے اور سوائے اس کے کہ کوئی کارگردگی دکھانے والے کاموں کا آغاز کرے وہ تمام وقت انہیں منصوبوں کو اوپر نیچے کرتے اپنا وقت پورا کردیتا ہے جس سے شائد اس کی جیبوں کو خاطر خواہ افاقہ ہوتا ہو گا جیسا کہ اس سے پہلے کیا جاتا تھا، ملک کی زبوں حالی اور معیشت کی تباہی کا ہر ممکن اقدام اٹھایا جاتا ہے۔ اب آتے ہیں موجودہ حکومت پر جو ایک ایسے انسان کی بدولت قائم ہوئی ہے جس کے خاندان کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں تھا جو کہ شائد پاکستان میں پہلی دفعہ ہوا ہو۔ عمران خان صاحب نے ملک میں انصاف کی بحالی کی جدوجہد کا آغاز کیا جس کا فیصلہ انہوں نے کرکٹ کے تابناک دور کو خیرباد کہتے ہوئے کیا، انہوں نے پاکستان کو ایک ایسے دور میں جب عمومی طور پر سہولیات کا فقدان تھا تو ایک ایسے جدید اور بین الاقوامی طرز کے ہسپتال بنایا جو طبی سہولیات کی فراہمی میں اپنی مثال آپ ہے۔ تحریک انصاف کا وجود بھی دیگر بہت ساری سیاسی جماعتوںمیں ایک اور جماعت کے اضافے سے زیادہ نہیں تھا لیکن اس کے ساتھ ایک ایسے الوالعزم شخص کا نام جڑا تھا جو جدوجہد اور تسلسل کی عملی مثال تھا وہ آخری گیند گرنے تک امید اور یقین کے ساتھ لڑنے کا جذبہ رکھتا تھا۔ بائیس سال کی انتھک جدوجہد نے پاکستانی عوام کے دل میں تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے کیلئے جگہ بنائی اور وہ دن آ گیا جب تبدیلی کا نعرہ لگانے والے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو گئے۔ ستر سال کا گند جمع ہوا تھا اور اس کی پاسداری کرنے والے اسے اپنی جگہ سے ہلانے کو تیار نہیں تھے اور یقیناً انہوں نے کبھی ایسا سوچا بھی نہیں ہو گا۔ حکومت کے کئے گئے بڑے بڑے دعوؤں کو عملی جامہ پہنانا اتنا آسان نہیں تھا، سال ہا سال سے بیٹھے ہوئے لوگوں کیلئے جو تقریباً بیٹھے ہوئے ہی تھے اور سرکاری خزانے پر بوجھ بنے ہوئے تھے ہل جل کر کام کرنا بہت مشکل ثابت ہوا۔ یہ وہ لوگ تھے جو پچھلی حکومتوں کو بھرپور حمایت کیا کرتے تھے، جس کے عوض ان سے کوئی کچھ پوچھنے کا جواز نہیں رکھتا تھا۔ لفظ تبدیلی ایک چھوٹا سا لفظ ہے لیکن اس کی وسعت کا اندازہ لگانا بہت مشکل کا ہے ۔ حکومت نے سب سے پہلے جو اہم ترین کام کیا وہ تھا اداروں کو سرکاری امداد (سبسڈی) دینا بند کر دی جو اس لئے ضروری تھا کہ ادارے کی اپنی کارگردگی کا صحیح پتہ لگایا جائے اور حکومت کو عوام پر ٹیکس کی صورت میں دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی گئی۔ پھر بیرون ممالک کے دوروں کو محدود ترین کیا گیا (ساتھ ہی کورونا بھی اس کام کیلئے معقول سمجھا جا سکتا ہے)، اسلام پر لگایا گیا بدنما داغ دھونے کیلئے بھی عملی اقدامات شروع کئے اور باقاعدہ سفارتی سطح پر ان افواہوں کے خاتمے کیلئے سرگرم ہو گئے۔ پاکستان کے وجود کی اہمیت کو ازسرِ نو دنیا کے سامنے بھرپور طریقے سے پیش کیا۔ کشمیر کے معاملے کو اس طرح سے شائد پہلے کبھی نہیں اٹھایا گیا ہو جیسا موجودہ حکومت نے اٹھایا۔ افغانستان کی آزادی کیلئے تاحال کئے جانے والے اقدامات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ موازنہ کرنے والے یہ بتائیں کہ ان دور میں پاکستان کی عوام اور خواص میں کتنا فرق تھا اور آج کتنا ہے، لنگر خانے، پناہ گاہیں اور اس طرح کے فلاحی منصوبے کبھی پہلے کسی حکومت نے شروع کئے۔ حالات کی زد میں آ کر پاکستان کی معیشت کی کشتی بری طرح سے ڈول رہی تھی جس کی بہتری کیلئے ہر ممکن کوششیں کی جاتی رہیں اور کی جا رہی ہیں، ایک سوال جو مخالفین اور ناقدین کی جانب سے مسلسل کیا جاتا ہے کہ تین سال میں تین وزیر خزانہ تبدیل ہو گئے اور ایف بی آر کے سربراہ تبدیل ہو گئے اور اسی طرح سے جو ماہرین بھی معیشت کیلئے کام کر رہے ہیں، تبدیلیوں کے عمل سے گزر رہے ہیں تو اس کا بہت سادہ سا جواب یہ ہے کہ جب کسی سے کام تسلی بخش نہیں ہو گا تو اسے تبدیل کر دیا جائے گا نا کہ انا تسکین کی خاطر ملک کے خزانے پر بے وجہ بوجھ بنا کر رکھا جائے گا، ایسا صرف کام سے محبت کرنے والے رہنماء کر سکتے ہیں جنہیں عوام کے پیسے کی فکر ہو اور وہ کسی حد تک کام کی نوعیت سے بھی واقف ہو، قارئین اس بات سے اتفاق کریں گے کہ ہر فرد اس طرح سے تبدیلیاں کرنے کی جرات نہیں کر سکتا، یہاں یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ ذامہ داری دیتے وقت یہ بھی آگاہ کیا جاتا ہوگا کہ اگر کام نہیں ہوسکے تو وقت ضائع کئے بغیر بتا دیا جائے۔ تبدیلی کو ہضم کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے اور جب لوگ نسل در نسل ایک طرح کے سیاسی مزاج کے عادی ہو چکے ہوں تو یہ کام اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ تحریک انصاف نے ملک کی بقاء کی خاطر اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر لگاتے ہوئے ایسے فیصلے کئے جو بظاہر تو عوام مخالف دکھائی دے رہے ہیں لیکن اس کے اصل فائدے آنے والی نسلوں کو پہنچینگے۔ ہم اگر سیاسی مخالفین کا تجزیہ کریں تو ان کے پاس اپنی اپنی بقاء کی جنگ لڑنے اور اپنا سیاسی مستقبل بچانے کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس سے حکومت کو کسی بھی قسم کا کوئی نقصان پہنچا جا سکے۔ موجودہ صورتحال کو دیکھ لیجئے آج ساری دنیا اپنے لوگوں کی زندگیاں پاکستان کی مرہون منت بچانے کیلئے آگے پیچھے پھر رہے ہیں۔ کیا یہ پاکستان کے استحکام کی جانب پیش قدمی نہیں ہے، کیا بھارت کے عزائم اتنے واضح کسی اور کی حکومت میں سامنے آئے، کیا بلوچستان کی سالمیت کیلئے وہاں کسی بلوچ رہنماء کو بطور وزیراعظم کا نمائندہ خصوصی رکھا گیا، اس سے پہلے کتنے وزرائے اعظم نے اتنے کم بین الاقوامی دورے اور کتنے وزرائے اعظم کی حکمت عملیوں کو سراہا گیا۔ وقت اور حالات ساتھ دے رہے ہیں اور واضح دکھائی دے رہا ہے کہ پاکستان خطے میں تبدیلی کا نمائندہ بن کر پرامن تبدیلی لائے گا۔ بہت جلد امارتِ اسلامیہ افغانستان استحکام کی جانب گامزن ہو جائے گی اور پھر کشمیر بھی اس کے ہم رکاب ہو جائے گا۔ تاریخ لکھے گی دنیا جب اپنی بقاء کی جدوجہد میں مصروف تھی، حالات و واقعات کے سنگین ہونے کے باوجود پاکستان کی ڈولتی کشتی اللہ تعالی کے رحم و کرم سے سربلندی کی جانب گامزن ہو رہا تھا ۔ کارگردگی کا موازنہ دو طرفہ ہوتا ہے اگر باقی وقت گزاری کرنے والے ہوں تو کارگردگی خود بولنا شروع کر دیتی ہے، یہ تو مان سکتے ہیں کہ سچے کو اپنا سچ جتانا نہیں پڑتا وہ خودبخود زبانیں ڈھونڈ لیتا ہے۔