پشاور سیف سٹی منصوبہ، تاخیر کے باعث لاگت 12 ارب سے بڑھ کر 20 ارب تک پہنچ گئی

پشاور سیف سٹی منصوبہ، تاخیر کے باعث لاگت 12 ارب سے بڑھ کر 20 ارب تک پہنچ گئی

پشاور کو دہشتگردی سے محفوظ بنانے اور جرائم سے پاک رکھنے کیلئے شروع ہونے والا جدید ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبہ ’سیف سٹی پراجیکٹ‘ 9 سال میں بھی مکمل نہ ہوسکا۔

 

دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پشاور نے فرنٹ لائن شہر کا کردار ادا کیا۔ 2004 سے 2013 کے دوران پشاور میں600سے زیادہ دہشتگردی کے واقعات ہوئے جن میں 3 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے۔ 

 

ایسے میں شہر کو محفوظ بنانے کے لیے سیف سٹی منصوبہ شروع کیا گیا جس کےلیےرقم مختص کی گئی تاہم 9 سال سے زیادہ کا عرصہ گزرنے کے باوجود منصوبہ مکمل نہ ہوسکا۔

 

پراجیکٹ کے تحت 1000 کلومیٹر فائبر آپٹک کیبل اور 3 ہزار سے زیادہ کیمرے لگائے جانے تھے جو جدید پولیسنگ کے لیے مدد گار ثابت ہوتے۔

 

پشاور میں رواں سال دہشتگردی سمیت مختلف نوعیت کے 2 ہزار 500 سے زیادہ جرائم رپورٹ ہوئے، جدید پولیسنگ کا اثاثہ سیف سٹی منصوبہ نہ ہونے سے بیشتر جرائم میں ملوث ملزمان کو قانون کی گرفت میں نہ لایا جاسکا۔

 

صوبائی حکومت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیف سٹی پراجیکٹ مکمل نہ ہونے کا ذمہ دار پولیس کو قرار دیا ہے۔

 

سرکاری ذرائع کے مطابق نیب کی مختلف پراجکٹس کے حوالے سے کی جانے والی کارروائیوں کے باعث صوبائی افسران سیف سٹی منصوبے کی فائل پر دستخط کرنے سے گریز کرتے رہے۔

 

سیف سٹی منصوبے کا ابتدائی تخمینہ 12 ارب روپے سے زیادہ لگایا گیاتھا تاہم منصوبے میں تاخیر کے باعث اس کی لاگت بڑھ کر 20 ارب روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔