پشاور پولیس کے ہاتھوں قتل باڑہ کے نوجوان کو کیا انصاف مل جائے گا؟

پشاور پولیس کے ہاتھوں قتل باڑہ کے نوجوان کو کیا انصاف مل جائے گا؟

تحریر: اسلام گل آفریدی

ضلع خیبر تحصیل باڑ ہ کے رہائشی عادل خان چار نومبر شام کے وقت پشاور کے علاقہ پشتحرہ پولیس تھانے کی حدود میں پولیس کی فائرنگ سے جاں بحق ہوا۔ واقعہ کے بارے میں عادل خان کے والد حاجی شیرازہ خان نے بتایا کہ شام ساڑھے سات بجے جب وہ گھر نہیں پہنچا تو میں نے اس کے نمبر پر کال کی تو پولیس کے اہلکار نے کال ریسیو کر کے کہا کہ عادل معمولی زخمی ہے اور خیبر تدریسی ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بار بار سوالات پوچھنے کے باوجود بھی مجھے صحیح معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور پورا خاندان انتہائی پریشانی کا شکار ہوا جس کے بعد پشاور میں کچھ دوستوں اور رشتہ داروں سے کہا کہ وہ جلد ہسپتال پہنچ کر صحیح معلومات حاصل کریں۔ 

 

شیرازہ خان کا کہنا ہے کہ ساڑھے نوبجے جب وہ خود وہاں پر پہنچے تو پہلے سے موجود میرے دوستوں و رشتہ داروں پر پولیس اہلکاروں اور ایس ایچ او تھانہ پشتخرہ نے لاش اٹھانے کے لئے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ پولیس کا موقف تھاکہ مقتول کے ساتھ موٹر سائیکل کے کاعذات نہیں تھے لیکن عادل کی جیب سے جب اصلی اسناد مل گئیں تو پولیس نے موقف تبدیل کر دیا اور اس پر علاقے میں موٹر سائیکل چوری کے واقعے میں ملوث ہونے کا الزام لگایا تاہم اس موقع پر موجود ایس ایچ او باڑہ نے ایس ایچ او پشتحرہ کے ان بے بنیاد الزامات اور غیرذمہ درانہ رویے کومسترد کرتے ہوئے کہا کہ متاثر ہ خاندان کو انصاف فراہم کیا جائے جبکہ دوسری طرف ضلعی پولیس افسر خیبر وسیم ریاض نے بھی پولیس کے اعلی حکام سے ٹیلی فونک رابطے پر پشاور پولیس کے اس قسم کے اقدامات کو غیرتسلی بحش قرار دے کر ملوث اہلکار کے خلاف قتل کے مقدمے کے اندراج اور فوری طور پر گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

 

باڑہ سیاسی اتحاد کے صدر شاہ فیصل آفریدی نے باڑہ پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرس میں میڈیا کو بتایا کہ علاقے کے سیاسی رہنماؤں کے دباؤ پر پولیس اہلکار کے خلاف مقدمہ درج ہوا اور اس کو گرفتار بھی کر لیا گیا لیکن اگر اس کے خلاف موثر کارروائی نہیں کی جاتی جس سے عادل خان کا خاندان مطمئن نہیں ہوتا تو سیاسی اتحاد پرامن احتجاج کا راستہ اختیارکرے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مختلف ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ چند اعلی پولیس اہلکار عادل کے خااندن کے ساتھ راضی نامے کے کوشش کر رہے ہیں، اگر خاندان والے اس فیصلے پر راضی ہو جاتے ہیں تو سیاسی اتحاد اس کے مطابق لائحہ عمل طے کرے گا۔ عادل کے والد اور رشتہ داروں نے اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا۔ 

 

''رات کو ایس پی کینٹ جنید چیمہ، ڈی ایس پی سلام، ڈی ایس پی کینٹ رب نواز نے ایس ایچ او باڑہ سولزار خان، انسپکٹر انوسٹی گیشن عابد آفریدی اور جماعت اسلامی یوتھ کے قاضی مومین کی موجودگی میں غلطی کا اعتراف کیا، معافی مانگی اور باقاعدہ طور پر ملوث اہلکار کے خلاف قانونی کارروائی کا وعدہ کیا لیکن اس کے باوجود بھی اگلے روز تمام قومی اخبارات میں پولیس کی طرف سے عادل کو مختلف وارداتوں میں مبینہ طور پر ملوث قرار دے کر ہماری مصیبت میں مزید اضافہ کیا گیا۔'' مقتول کے خاندان کا موقف تھا کہ پولیس نہ صرف تردیدی بیان جاری کرے بلکہ ان بیانات پر معافی بھی مانگے تاہم پولیس کا موقف ہے کہ واقعے کے فوراً بعد میڈیا کو بیان جاری کیا گیا تھا تاہم صبح تین بجے ایف آئی آر درج ہونے کے بعد پولیس نے اپنا موقف تبدیل کر کے میڈیا کو بیان جاری کیا جس کو چند اخبارات نے شائع بھی کر دیا ہے۔ 

 

واقعے کو دبانے کے لئے پولیس کی جانب سے بھرپور کوشش کی گئی تاہم اس میں کامیاب نہ ہو سکے۔ پولیس کے ایک اعلی افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ عادل کے خاندان کو انصاف دلانے کے لئے ہرممکن کوشش کی جائے گی۔ ان کے بقول خیبر پختونخوا کے اعلی پولیس اہلکار ان کی نمازہ جنازہ میں شرکت کرنے اور متاثرہ خاندان سے تغزیت کے لئے باڑہ جائیں گے۔ 

 

دو ہفتے پہلے کارخانوں مارکیٹ سے جمرود شاکس کے رہائشی کو چوری شدہ موبائل کی خریدوفروخت کے الزام میں پولیس نے گرفتارکر لیا تاہم دس د ن گزر جانے کے باوجود اسے بھی عدالت میں پیش نہیں کیا اور نہ اس پر کوئی مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ تاہم تھیلیسمیا کا شکار چھوٹی بیٹی کے انتقال کے بعد مقامی لوگوں نے کارخانوں مارکیٹ میں احتجاجی مظاہر ہ کیا جس کے کئی گھنٹے بعد پولیس نے اسے رہا کر کے اس کے ساتھ خفیہ راضی نامہ کر لیا۔


15 مارچ 2021 کو باڑہ کے رہائشی شاہ زیب کی مبینہ گرفتاری اور تھانہ غربی کینٹ میں خودکشی کے نتیجے میں ہلاکت کے بعد بھی باڑہ سیاسی اتحاد کے شدید دباؤ کے نتیجے میں ایس ایچ او تھانہ اور دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کر دیا گیا تھا، نامزد ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا لیکن چند ہفتے بعد عدالت نے سب کو ضمانت پر رہا کر دیا۔ جو ن 2020 میں باڑہ کے رہائشی اور نجی سکول کے استاد عرفان کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف باڑہ سیاسی اتحاد کے طویل احتجاج کے نتیجے میں اس کے خاندان کو شہدا پیکج دیا گیا اور اس کے سرکاری سکول میں نئی تعیناتی کے بدلے مقتول کی بیوی کو ایک سکول میں عارضی نوکری دی گئی۔

 

عادل خان کو ن تھا؟


21 سالہ عادل کا تعلق تحصیل باڑہ قبیلہ شلوبر قمبرخیل سے تھا اور بہن بھائیوں میں وہ چوتھے نمبر پر تھا۔ پیشے کے لحاظ سے گاڑیوں کا مستری تھا اور پچھلے چھ سال سے تہکال پشاور میں کام کرتا تھا۔ ہر جمعرات کو گاؤں آ کر ہفتے کی صبح واپس کام پر چلا جاتا تھا۔ حال ہی میں دبئی ویز ے کھلنے کے بعد والدین کے مشورے سے وہ بیرونی ملک جانا چاہتا تھا جس کے لئے تمام تیاریاں بھی مکمل کر لی تھیں لیکن افسوس کہ پولیس کی غفلت اس کے سارے ارمانوں کا، اور خود اس کا خون کر گئی۔