سیاسی محاذ آرائی: خیبر پختونخوا شدید مالی بحران کی زد میں

سیاسی محاذ آرائی: خیبر پختونخوا شدید مالی بحران کی زد میں

خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ تیمور جھگڑا نے صوبائی مالی معاملات بارے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے صوبے کو درپیش مالی بحران کی ایک بھیانک تصویر پیش کرتے ہوئے تمام تر مشکلات، مسائل اور مالیاتی عدم توازن کے لیے وفاقی حکومت کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ ایک طرف تو وفاقی حکومت خیبر پختونخوا کو بجلی کی رائلٹی اور وفاقی محاصل میں صوبے کو اس کے جائز حصے سے محروم کر رہی ہے تو دوسری طرف وفاق سابقہ قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے وقت کئے گئے کئی وعدوں کو ایفا کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دیتا ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ کے بقول وفاقی حکومت کے معاندانہ رویے کے نتیجے میں وفاق سے ملنے والے محاصل، بجلی خالص منافع، ضم اضلاع بجٹ کی مد میں صوبے کو173  ارب روپے شارٹ فال کا سامنا ہے تاھم صوبائی وزیر کا دعوی ہے کہ ان کی حکومت وفاقی حکومت سے محاصل، بقایا جات وغیرہ کے باوجود صوبائی حکومت نے معاشی و مالی اصلاحات کی بدولت فنڈز و بجٹ میں توازن برقرار رکھے ہوئی ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ضم اضلاع کے فنڈز، بجلی خالص منافع، حالیہ سیلاب اور وفاق سے محاصل کی عدم ادائیگی کے باعث خیبر پختونخوا کو موجودہ حالات میں275  ارب کی کمی کا سامنا ہے جو ترقیاتی منصوبے متاثر کر رہی ہے اور وفاق  ان کے بقول خیبر پختونخوا کو مالی ڈیفالٹ کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ان حالات میں تیمور جھگڑا کے بقول ضم شدہ قبائلی اضلاع کی ترقی، امن و امان کی صورتحال، سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال سے  نمٹنے بالخصوص سڑکوں، نہروں اور پلوں کی ازسر نو تعمیر جیسے معاملات اب صوبائی حکومت کے لئے بہت بڑے چیلنجز کے طور پر سامنے آ رہے ہیں۔ اور ان حالات میں ٹیکسز کی وصولی بھی مشکل سے مشکل تر ہوتی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بھی تصدیق کی کہ اس مخدوش صورتحال میں وفاق سے صوبے کو ملنے والے محاصل میں65  ارب تک کمی واقع ہو سکتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مختلف داخلی اور خارجی  وجوہات کی بنا پر ملک کو پچھلے کئی برسوں سے معاشی بحران کا سامنا ھے جبکہ حالیہ سیلابوں نے اس بحران میں مزید اضافہ کر دیا ھے۔ کوئی مانے یا نہ مانے دنیا بھر کے اداروں، ممالک، انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے سرگرم افراد اور مخیر حضرات کو پاکستان اور پاکستان کے معاشی، انتظامی، سیکورٹی بحرانوں اور قدرتی آفات سے متاثرہ افراد کی بہت فکر ھے مگر بدقسمتی سے اپنے ملک کے سیاسی رہنماؤں، دانشوروں، سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے اھم عہدوں پر براجمان شخصیتوں کو کوئی فکر و غم نہیں۔ وہ ماضی کی طرح یا تو اھم عہدوں کے حصول کیلئے سرگرداں ہیں یا حکومتوں کے ہٹاؤ اور بٹھاؤ کے گھناؤنے کھیل میں ہمہ تن مصروف دکھائی دیتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوٹیرس نے حال ہی میں سیلاب سے پیدا شدہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے دورے کے بعد وزیراعظم سمیت تمام تر پاکستانی عہدیداروں کے سیلاب سے متاثرین کے ساتھ رویوں پر کڑی تنقید کی ہے۔ اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے رواں غیرمعمولی اھم اجلاس میں پاکستان کے سیلاب اور سیلاب سے متاثرین اھم موضوع کے طور پر سامنے آ رہے ہیں مگر مملکت عزیز کی سیاسی قیادت کی تمام تر توجہ اقتدار کے حصول پر مرکوز ھے۔ یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں بلکہ بہت پرانا ھے جس سے ملک ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف جا رہا ہے۔ تیمور جھگڑا یا صوبائی حکومت کی وفاقی حکومت پر تنقید اپنی جگہ مگر جب تک ملک میں محاذ آرائی کی یہ سیاست جاری ہے تب تک اس ملک کے معاشی، انتظامی، سیکورٹی اور دیگر مسائل کسی بھی طور پر حل نہیں ہو سکتے۔ الزام تراشی کے بجائے اگر فریقین صبر و تحمل سے ایک دوسرے کو سن لیں تو بہت سے مسائل اور مشکلات کے بہ آسانی حل ہونے کے قوی امکانات میسر آ سکتے ہیں۔