پاک چین لازوال رشتے کا عملی ثبوت

پاک چین لازوال رشتے کا عملی ثبوت

داسو ڈیم پر پیش آنے والے واقعہ کی وجہ سے چینی کمپنی کی جانب سے کام روکے جانے کا فیصلہ کیا گیا تھا جسے دو دن بعد ہی واپس لیتے ہوئے عندیہ دیا گیا ہے کہ اعلی حکام کے کہنے پر چائنا کی کمپنی نے کام روکنے کا فیصلہ واپس لے لیا، اس سے بھی دونوں ممالک کے مابین دوستی کے لازوال رشتے کا عملی ثبوت ملتا ہے جہاں مشکلات درپیش ہونے کے باوجود داسو ڈیم پر کام روکنے اور ملازمین کے ساتھ معاہدوں کے ختم کرنے کا اعلامیہ رد کرتے ہوئے کام جاری رکھنے کا کہا گیا ہے۔ چینی سفیر نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چائنا کی کمپنی غضوبہ کی جانب سے معاہدوں کی معطلی کا فیصلہ واپس لیتے ہوئے کام جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ڈی سی اپر کوہستان عارف یوسف زئی کے مطابق چینی سفیر نے یقین دلایا ہے کہ چین پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا، ساتھ ہی چینی سفیر نے تحقیقاتی کمیشن پر اطمینان کا اظہار بھی کیا ہے، داسو واقعہ کی تحقیقات کرنے کیلئے چین سے8  رکنی ٹیم بھی براستہ قراقرم پہنچ چکی ہے اور اس سلسلے میں انہوں نے ابتدائی ہوم ورک بھی مکمل کر لیا ہے۔ یہ8  رکنی ٹیم چار ہیلی کاپٹرز کے ذریعے جائے وقوعہ پہنچی جبکہ ان کے ساتھ چینی سفیر اور متاثرہ کمپنی کے سی ای او بھی موجود ہیں۔ چائنا کی تحقیقاتی ٹیم وقوعہ سے متعلق شواہد اکٹھا کرنے میں مصروف ہے جس کے بعد بریفنگ بھی دی جائے گی۔ اس موقع پر تحقیقاتی ٹیم کی حفاظت کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی طرح ملک دشمن عناصر کو دوبارہ وار کرنے کا موقع نہ مل سکے۔