پختونوں کو اندھیروں میں دھکیلنے کی تیاری کی جا رہی ہے، ایمل ولی خان

پختونوں کو اندھیروں میں دھکیلنے کی تیاری کی جا رہی ہے، ایمل ولی خان

بونیر: عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ریاست پختونوں کو پھر سے اندھیروں میں دھکیلنے کی تیاری کررہی ہے۔ پختون قوم پچھلے پانچ دہائیوں سے پرائی جنگ کا ایندھن بن رہے ہیں، لیکن مقتدر حلقے غلطیوں سے سیکھنے کی بجائےتاریخ واپس دہرارہے ہیں۔دنیا کی طاقتور قوتوں نے اپنے مفادات کے لئے پختونوں کی زمین پر فساد برپا کیا ہوا ہے۔ امریکہ، طالبان اور پاکستان ایک دہشتگردی کے حوالے سے ایک پیج پر ہیں اور تینوں ایک ہی سوچ کی عکاس ہیں۔

 

بونیر شلبانڈئی میں شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئےایمل ولی خان نے کہا کہ امریکی افواج کے انخلاء سے ایک دفعہ پھر افغانستان کی خود مختاری سے کھیلنے کی کوشش کی جارہی ہے، پچھلی دفعہ بھی ہمارے اکابرین نے خبردار کیا تھا کہ یہ فساد ہے اور اس کی تپش پاکستان تک آئے گی لیکن ان کی کسی نے نہیں سنی اور ان کو غدار اور ایجنٹ کہا گیا۔ اے این پی باچا خان کے فلسفہ عدم تشدد پر عمل پیرا ہے اور دہشتگردی کے خلاف ایک واضح موقف رکھتی ہے۔ہماری تاریخ گواہ ہے کہ نا ہم دہشتگردوں کے سامنے تسلیم خم ہوئے ہیں اور نا ہوں گے۔ایک دفعہ پھر بتانا چاہتے ہیں کہ اگر اس دفعہ افغانستان میں آگ لگی تو اس کی تپش اس جگہ کو بھی لپیٹ میں لے گی جہاں سے اس کا آغاز ہوا تھا۔اباسین میں اتنی طاقت نہیں کہ خونریزی کو صرف افغانستان تک محدود رکھ سکے۔ہم فلسطین کےعوام کے غم میں شریک ہیں لیکن یہ منافقت ہے کہ پڑوسی میں لگی آگ پر خاموشی اختیار کی جائے۔اے این پی رنگ نسل اور مذہب سے بالاتر ہوکر پوری دنیا کے لئے امن کے خواہاں ہیں۔دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ افغانستان کی منتخب حکومت کا ساتھ دے اور قیام امن کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔

 

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں گزشتہ روز جوکچھ بھی ہوا وہ تاریخ کا شرمناک باب ہے۔پارلیمان کی جو بے حرمتی پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ہوئی اتنی ڈکٹیٹروں کے دور میں بھی نہیں ہوئی۔ یہ پارلیمان، جمہوری نظام، جمہوریت اور سیاست کو بدنام کرنے کی سازش ہے  جس کو کٹھ پتلیوں کے ذریعے انجام تک پہنچایا گیا۔ قومی اسمبلی میں جو کچھ ہوا اس نے سلیکٹرز اور سلیکٹڈ کو عوام کے سامنے بے نقاب کردیا۔اے این پی نے وفاقی حکومت کے پیش کردہ بجٹ کو مسترد کیا ہے۔ یہ کونسا انصاف اور آئین ہے کہ پنجاب اور سندھ کا حصہ تو بڑھتا ہے لیکن پختونوں کا حصہ مزید کم ہوتا ہے۔ بجلی، گیس، ماربل اور دیگر معدنیات پختونخوا پیدا کرتا ہے لیکن مزے دوسرے کرتے ہیں۔

 

اے این پی صوبے کے عوام کے حقوق کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھاتی رہے گی۔پاکستان کو اتنا نقصان کورونا نے نہیں پہنچایا جتنا نئے پاکستان کے دعویداروں نے پہنچایا۔ بے روزگاری اور مہنگائی نے عوام کا جینا حرام کردیا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ پختونوں کواپنی آنے والی نسلوں کی بقا کی خاطر بیدار ہونا پڑے گا۔ اپنے مدارس اور مساجد کا اختیار ایک مخصوص حلقے سے واپس لینا ہوگا اور یہ عزم کرنا ہوگا کہ مزید مذہب اور اسلام کے نام پر دھوکے کا شکار نہیں ہوں گے۔