ستائیس سال قید بامشقت کاٹنے والا صدر

ستائیس سال قید بامشقت کاٹنے والا صدر

تحریر: ڈاکٹر جمشید نظر

آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ دنیا کے ساڑھے سات ارب سے زائد انسانوں میں نیلسن منڈیلا وہ واحد شخصیت ہیں جن کا جنم دن اقوام متحدہ ایک عالمی دن کے طور پر مناتا ہے۔ نیلسن منڈیلا 18 جولائی  1918ء میں ترانسکی، جنوبی افریقہ میں پیدا ہوئے اور اسی دن ہر سال منڈیلا ڈے منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا فیصلہ اقوام متحدہ نے 2009ء میں کیا تھا۔ عالمی منڈیلا ڈے منانے کا مقصد لوگوں کو اس بات کی ترغیب دینا ہے کہ وہ اپنے آس پاس لوگوں کی خدمت کریں بالکل اسی طرح جیسے نیلسن منڈیلا نے سیاہ فام کے حقوق کے لئے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ چار دہائیوں پر مشتمل سیاہ فام کے حقوق کی پرامن تحریک و خدمات کی بنیاد پر انہیں250  سے زائد انعامات سے بھی نوازا گیا جن میں سب سے قابل ذکر 1993ء کا نوبل انعام برائے امن ہے۔ 
یہ کوئی نہیںجانتا تھا کہ جنوبی افریقہ کی جیل میںستائیس سال قید بامشقت کاٹنے والا ایک عام سیاہ فام ایک روز اسی ملک کا پہلا جمہوری صدر بن جائے گا۔ یہ منفرد اعزاز آنجہانی نیلسن منڈیلا کو حاصل ہوا ہے جو1994  سے 1999ء تک پانچ سال جنوبی افریقہ کے صدر رہے۔ صدر منتخب ہونے سے پہلے تک نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کے کٹر مخالف اور افریقی نیشنل کانگریس کی فوجی ٹکڑی کے سربراہ بھی رہے۔ جنوبی افریقہ میں سیاہ فاموں سے برتے جانے والے نسلی امتیاز کے خلاف انھوں نے تحریک میں بھرپور حصہ لیا جس پر جنوبی افریقہ کی عدالتوں نے انہیں قید بامشقت کی سزا سنائی۔ نیلسن منڈیلا اسی تحریک کے دوران لگائے جانے والے الزامات کی پاداش میں تقریباً 27 سال پابند سلاسل رہے، انہیں جزیرہ رابن پر قید رکھا گیا۔11  فروری 1990 کو جب وہ رہا ہوئے تو انہوں نے تحریک کو خیرآباد کہہ کہ مذاکرات کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا جس کی بنیاد پر جنوبی افریقہ میں نسلی امتیاز کو سمجھنے اور اس سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مدد حاصل ہوئی۔ نسلی امتیاز کے خلاف تحریک کے خاتمے کے بعد نیلسن منڈیلا کی تمام دنیا میں پذیرائی ہوئی جس میں ان کے مخالفین بھی شامل تھے۔ جنوبی افریقہ میں نیلسن منڈیلا کو ''ماڈیبا'' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے جو منڈیلا خاندان کے لیے اعزازی خطاب ہے۔ نیلسن منڈیلا کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے اقوام متحدہ ہر پانچ سال بعد انسانیت کی خدمت اور معاشرتی ترقی کے لئے نمایاں کارکردگی انجام دینے والے ایک مرد اور ایک خاتون کو نیلسن منڈیلا ایوارڈ بھی دیتا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے پہلی مرتبہ 2015 نیلسن منڈیلا ایوارڈز دیئے گئے۔2015  میں نیلسن منڈیلا کے عالمی دن کے حوالے سے ایک تقریب کے دوران نیمبیا کی ایک خاتون آپتھامالوجسٹ ڈاکٹر ہیلینا کو آنکھوں کے امراض میں مبتلا تیس ہزار مریضوں کے مفت آپریشنز اور دیگر فلاحی کام کرنے پر دیا گیا، جبکہ مرد کیٹیگری میں یہ ایوارڈ پرتگال کے اٹھارہویں صابق صدر جارج فرنینڈو برانکو کو پرتگال میں آمریت کے خاتمے، جمہوریت کو فروغ اور اس کے قیام کے حوالے سے خدمات پر دیا گیا تھا۔ نیلسن منڈیلا کے اقوال آج بھی دنیا بھر میں ایک مثال کے طور پر پیش کئے جاتے ہیں۔ ''زندگی میں کبھی ناکام نہ ہونا عظمت نہیں، بلکہ گرنے کے بعد اٹھنا عظمت کی نشانی ہے۔'' ''والدین کے لیے ایک کامیاب اولاد سے بہتر کوئی انعام نہیں۔'' ''آپ اس وقت تک اس قوم کی اخلاقی حالت کے بارے میں نہیں جان سکتے جب تک آپ وہاں کی جیلوں میں وقت نہ گزار لیں۔'' ''کسی قوم کی شناخت اس کے اس رویے سے نہیں ہوتی جو وہ اپنے اعلیٰ طبقے کے ساتھ روا رکھتا ہے، بلکہ اس رویے سے ہوتی ہے جو وہ اپنے نچلے طبقے سے اپناتا ہے۔'' ''زندگی میں اہم یہ نہیں کہ ہم کیسی زندگی گزار رہے ہیں، بلکہ اہم یہ ہے کہ ہم نے اپنی زندگی میں دوسروں کی بہتری کے لیے کیا کیا۔'' ''ہمیشہ پیچھے سے رہنمائی کرو، دوسروں کو یہ باور کرواؤ کہ رہنما وہ ہیں۔'' ''جب تک کوئی کام نہ کر لیا جائے تب تک وہ ناممکن محسوس ہوتا ہے۔'' ''اگر آپ اپنے دشمن کے ساتھ امن چاہتے ہیں تو اس کے ساتھ کام کریں، اس کے بعد وہ آپ کا پارٹنر بن جائے گا۔'' ''باہمت لوگ امن کے لیے کبھی بھی معاف کرنے سے نہیں گھبراتے۔'' قید میں گزارے گئے اپنی زندگی کے ستائیس سالوں کو یاد کرتے ہوئے نیلسن منڈیلا کا کہنا تھا کہ ''جیل میں ڈال دیے جانے کے بعد چھوٹی چھوٹی چیزوں کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ جیسے جب دل چاہے چہل قدمی کر لینا یا قریبی دکان تک جانا اور اخبار خرید لینا۔'' جیل سے آزاد ہونے کے بعد منڈیلا کا کہنا تھا کہ ''جب میں اس دروازے کی طرف بڑھا جو مجھے آزادی کی طرف لے جا رہا تھا، تب میں جانتا تھا کہ اگر میں نے اپنی نفرت اور تلخ یادوں کو یہیں نہ چھوڑ دیا تو میں ہمیشہ قیدی ہی رہوں گا۔'' موت کے بارے میں منڈیلا کا خیال تھا ''موت ناگزیر ہے جب کوئی شخص اس ذمہ داری کو پورا کر لیتا ہے جو قدرت نے اس کی قوم اور لوگوں کی بہتری کے لیے اس کے ذمے لگائی ہوتی ہے، تب وہ سکون سے مر سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ میں اپنی ذمہ داری نبھا چکا ہوں۔ اب میں ابدیت کی زندگی میں سکون سے سو سکتا ہوں۔'' بالآخر بیسویں صدی کی قدآور سیاسی شخصیت نیلسن منڈیلا5   دسمبر2013  کو95   برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ایک مرتبہ ایک انٹرویو کے دوران ان سے سوال کیا گیا کہ وہ کیا چاہیں گے کہ لوگ انہیں کس طرح یاد کریں تو نیلسن منڈیلا کا جواب تھا کہ ''میں چاہوں گا کہ لوگ کہیں ایک ایسا شخص تھا جس نے دنیا میں اپنا فرض نبھایا۔'' آج دنیا انہیں انہی الفاظ سے یاد کرتی ہے کہ منڈیلا ایک ایسا شخص تھا جس نے دنیا میں اپنا فرض نبھایا۔