اپنے دل کی حفاظت کریں

اپنے دل کی حفاظت کریں

شہاب اعوان 
اللہ تعالی نے انسان کو بہترین سے بہترین بنایا ہے۔ ویسے تو انسان کے جسم کا ہر حصہ نازک ہے اور اپنا کام کرتا ہے مگر انسان کے جسم میں دل کی اہمیت سب سے زیادہ ہے اور اسی طرح جسم کا سارا دارومدار دل کی بہتر کارکردگی پر ہوتا ہے کیونکہ جسم میں خون کی آمدورفت کی ذمہ داری دل کی ہوتی ہے اس لئے اپنی بہتر صحت کے لئے دل کی حفاظت اور احتیاط بہت زیادہ ضروری ہے۔ 

 

انسانی دل تقریباً2000  گیلن تک خون پمپ کرتا ہے اور اسی طرح نسوں کے ذریعے پورے جسم کو خون مہیا ہو جاتا ہے اور اسی طرح یہ عمل جاری رہتا ہے۔ انسان کا دل دن میں تقریباً 1 لاکھ15  ہزار دفعہ دھڑکتا ہے اور خون مہیا کرتا ہے اور تقریباً1.5  گلین خون پورے دن میں پمپ کرتا ہے۔ دل کی اہمیت کا اندازہ اس کی کارکردگی سے لگایا جا سکتا ہے اس لئے اس کا خیال رکھنا اور اس کی بیماریوں کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے کیونکہ ایک اندازے کے مطابق سالانہ تقریباً17  لاکھ سے زائد لوگ دل کی بیماریوں کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ اس لئے دل کی بیماریوں اور ڈائیٹ کے بارے میں آگاہی اور معلومات رکھنا بہت ضروری ہے۔ اس ضمن میں ہر سال29  ستمبر کو ورلڈ ہارٹ ڈے کے طور پہ منایا جاتا ہے جس کا مقصد پوری دنیا میں دل کی بیماریوں کے حوالے سے آگاہی دینا ہے۔

 

دل کے حوالے سے بین الاقوامی دن کی تجویز ورلڈ ہارٹ فیڈریشن کے صدر انٹونی بائیس دی لونا کی جانب سے دی گئی اور اسی طرح1999  فیڈریشن اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے باقاعدہ طور پہ29  ستمبر  کو ورلڈ ہارٹ دے منانے کا اعلان کیا۔ دل کے حوالے سے بین الاقوامی دن پہلی دفعہ29  ستمبر2000  کو باقاعدہ منایا گیا۔ اور اسی طرح ہر سال یہ دن منایا جاتا ہے اور تقریباً90  ممالک اس انٹرنیشنل آگاہی مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ ورلڈ ہارٹ ڈے کا مقصد ایک پلیٹ فارم کے ذریعے دل کی بیماریوں کو کم کرنے کے لئے اقدامات اور آگاہی پھیلانا ہے اور اسی طرح دل کو نقصان پہنچانے والی چیزوں اور خوراک کے حوالے سے بھی لوگوں کو آگاہی دینا ہے۔ 



دل کی اہمیت کا اندازہ اس کی کارکردگی سے لگایا جا سکتا ہے اس لئے اس کا خیال رکھنا اور اس کی بیماریوں کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے کیونکہ ایک اندازے کے مطابق سالانہ تقریباً17  لاکھ سے زائد لوگ دل کی بیماریوں کی وجہ سے مر جاتے ہیں
 



دنیا میں لاکھوں افراد ہر سال دل کی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، پاکستان میں ہر سال تقریباً2  لاکھ افراد دل کے امراض کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ برائے صحت(World Health Organisazion)  نے خبردار کیا ہے کہ سن 2 ہزار30  تک دنیا بھر میں دل کے امراضِ کے سبب اموات کی شرح17  اعشاریہ3  ملین سے بڑھ کر23  اعشاریہ6  ملین تک پہنچ سکتی ہے۔ دل کے امراض کی بڑی وجوہات میں تمباکو نوشی، غیرصحت بخش غذا اور جسمانی سرگرمیوں کا فقدان ہے۔

 

دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی29  ستمبر کو ورلڈ ہارٹ ڈے بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد پاکستان میں لوگوں میں دل کی بیماریوں کے متعلق مکمل آگاہی اور ان سے بچاؤ کے لیے شعور پیدا کرنا ہے۔ آج دنیا میں سب سے زیادہ جبکہ پاکستان میں ہونے والی ایک تہائی اموات شریانوں اور دل کی بیماریوں کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق بلڈ پریشر، کولیسٹرول اور گلوکوز کا بڑھنا، تمباکو نوشی، خوراک میں سبزیوں اور پھلوں کا ناکافی استعمال، موٹاپا اور جسمانی مشقت کا فقدان دل کے امراض میں مبتلا ہونے کی بڑی وجوہات ہیں۔ اسی طرح ڈاکٹروں کے مطابق ہلکی پھلکی سادہ غذا اور دن میں صرف آدھے گھنٹے کی ورزش کو معمول بنا کر دل کے بہت سے امراض سے بچا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ ہر سال کی طرح دل کے امراض سے بچاؤ کے عالمی دن پر دنیا بھر میں سیمینار، ریلیاں اور آگاہی واک کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ 

 

پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح خیبر پختونخوا میں بھی امراض قلب کا ہسپتال پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی بنیاد 2006  میں رکھی گئی تاہم2020  میں پایہ تکمیل تک پہنچا، اس کا افتتاح وزیر عمران خان نے دسمبر2020  میں کیا۔ پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ہسپتال خیبر پختونخوا کا امراض قلب کے لئے مختص واحد ہسپتال جو295  بیڈز پر مشتمل ہے یہ ہسپتال نہ صرف صوبے کا پہلا اسٹیٹ آف دی آرٹ بلکہ پاکستان کے بہترین ہسپتالوں میں سے ایک ہے جس میں6  کیتھ لیبز  اور6  آپریشن تھیٹرز،2  آئی سی یوز،4  سیس یوز ہیں۔ اس ہسپتال کا خصوصی حصہ اس کی ایمرجنسی ہے جو امراض قلب کے مریضوں کے لیے 24 گھنٹے فعال رہتی ہے۔



دل کے امراض سے بچنے کے لیے تمباکو نوشی ترک کی جائے، روزانہ پھل اور سبزیوں کا استعمال کیا جائے اور دن بھر میں ایک چائے کے چمچ سے زیادہ نمک کے خوراک میں استعمال سے پرہیز کیا جائے، دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے روزانہ کم از کم آدھا گھنٹہ جسمانی سرگرمیوں میں گزارا جائے
 



پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ایڈلٹ مریضوں کے لئے7  جبکہ پیڈز کے لیے ایک سرجن تعینات ہیں جبکہ10  ایڈلٹ اور2  پیڈز کارڈیالوجسٹ کام کر رہے ہیں۔ پی آئی سی میں تمام ڈاکٹرز باہر ممالک سے وسیع تجربہ لے کر یہاں خدمات سر انجام دے رہے ہیں ۔ نو ماہ کے دوران پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی نے اب تک 19612 مریضوں کا او پی ڈی میں معائنہ کیا جس میں تین سو سے زائد افغان اور2  ہزار تک بچے شامل ہیں۔ صحت کارڈ کے تحت چار ہزار چار سو باسٹھ مریضوں کو علاج مہیا کیا گیا۔ آٹھ ماہ کے قلیل عرصہ میں سات سو سے زائد دل کے آپریشن کئے گئے جن میں ایک سو بیس سے زائد بچے اور چودہ افغان شہری شامل ہیں۔ ڈھائی ماہ کے مختصر ترین عرصہ میں سو سے زائد بچوں کے کامیاب آپریشن کیے جا چکے ہیں، تقریباً چار ہزار مریضوں کی انجوگرافی، انجوپلاسٹی پروسیجرز کئے گئے جن میں بیالیس بچے اور چالیس افغان مریض شامل ہیں۔ ایمرجنسی ساڑھے چار ہزار سے زائد مریضوں کو لایا گیا جن میں32  افغان شہری شامل ہیں جن کو مفت ایمرجنسی علاج معالجہ فراہم کیا گیا۔

 

پشاور انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی ہسپتال صرف خیبر پختونخوا کا نہیں بلکہ سرحد کے اس پار افغان شہریوں کے لئے بھی ایک نعمت ہے۔ ہسپتال میں ای سی جی، ایکو، ای ٹی ٹی، دل کی رفتار کو24  گھنٹے مانیٹر کرنے کا آلہ یہ سب اسٹیٹ آف دی آرٹ  سہولیات پی آئی سی میں موجود ہیں۔ 
دل کی بیماری کے اسباب کے حوالے سے ماہرین کیا کہتے ہیں؟ 

 

امرض قلب کی بڑی وجوہات اور دل کی بیماریوں میں عمومی طرز زندگی کے عمل دخل کے بارے میں ڈاکٹر سلیم نے بتایا، کسی عام آدمی کی نسبت فربہ انسان کو ہارٹ اٹیک ہونے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ اسی طرح تمباکو نوشی، ناقص اور غیر متوازن غذا اور ورزش کا فقدان بھی امراض قلب کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔ دل کے امراض سے بچنے کے لیے تمباکو نوشی ترک کی جائے، روزانہ پھل اور سبزیوں کا استعمال کیا جائے اور دن بھر میں ایک چائے کے چمچ سے زیادہ نمک کے خوراک میں استعمال سے پرہیز کیا جائے، دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے روزانہ کم از کم آدھا گھنٹہ جسمانی سرگرمیوں میں گزارا جائے یا ورزش کی جائے۔