زرعی زمینوں کا تحفظ؛ وقت کا تقاضا!

زرعی زمینوں کا تحفظ؛ وقت کا تقاضا!

صوبائی حکومت نے صوبے کی زرعی زمینوں کے تحفظ اور ان زمینوں پر غیر قانونی تعمیراتی کاموں اور سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے قانون کا مسودہ تیار کر لیا ہے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے جس سے نہ صرف اصولی اتفاق کیا ہے بلکہ متعلقہ حکام کو اس مسودے کو جلد از جلد منظوری کیلئے کابینہ میں پیش کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ دیکھا جائے تو یہ ایک انتہائی اہم اقدام ہے کیونکہ بدقسمتی سے زرعی زمینیں نہ صرف ختم ہو رہی ہیں بلکہ جو ہیں ان پر بھی غیر قانونی سوسائٹیز اور بستیوں کی بھرمار ہے۔ پاکستان کا شمار آبادی بڑھنے کے تناسب سے دنیا  بھر کے اولین ممالک میں ہوتا ہے۔ ایسا نہیں کہ باقی ممالک میں آبادی بڑھنے کے ساتھ وہاں آبادکاری اور نئی سوسائٹیز نہیں بنتیں، مگر وہاں ہر کام ایک طریقے، قانون اور ضابطے کے تحت ہوتا ہے۔ یہاں بدقسمتی سے جس طرح زندگی کے دوسرے شعبوں میں قانون پر عمل نہیں ہوتا، اسی طرح زیادہ تر نئی آبادیاں، سوسائٹیز اور کالونیاں بھی بالکل قانون کے خلاف اور عصری تقاضوں سے متصادم بن رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف اگر غیر قانونی لینڈ گریبنگ اور زمینوں پر قبضے ہورہے ہیں تو ساتھ ساتھ زرعی زمینیں بھی ختم ہورہی ہیں۔ کہنے کو تو پاکستان ایک زرعی ملک ہے لیکن اس حوالے سے قوانین پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ ورنہ کہاں خود کو زرعی کہنے والے ملک میں زرعی اور پیداواری زمینیں اس بے رحمی سے کنکریٹ میں بدلی جاتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر جگہ غیر قانونی بستیاں، سوسائٹیز بھی اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ زمین کے حوالے سے احکامات پر قانون کے مطابق عمل نہیں ہوپارہا ہے۔ سارے ملک کی بات نہیں کرتے کہ بات طول پکڑ لے گی لیکن ہم اس بات سے حالات کی نزاکت اور لاپرواہی کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ صرف پشاور شہر میں ایک اندازے کے مطابق 196 غیر قانونی سوسائٹیز ہیں۔ اب اگر صرف پشاور کا یہ حال ہے تو صوبے کی حالت کیا ہوگی۔ اس کے علاوہ ہمارے صوبے میں فصلوں کے ساتھ ساتھ مختلف پھلوں کے بھی باغات ہیں جن کے ساتھ ہزاروں لاکھوں لوگوں کا روزگار وابستہ ہے مگر بدقسمتی سے ان باغات کی زمینیں بھی بے دردی کے ساتھ سوسائٹیز کے منہ میں چلی جارہی ہیں۔ اس ضمن میں صوبائی حکومت کا  یہ قانونی مسودہ بہت پہلے آجانا چاہیے تھا لیکن دیر آید درست آید کے مصداق اب بھی یہ بات قابل داد ہے۔ ہاں مگر اس قانونی مسودے کو صرف حکومت اپنی کارکردگی دکھانے اور متعلقہ محکمہ وقت گزاری کی نذر نہ کرے بلکہ اس کو جلد سے جلد کابینہ سے منظور کراکے اس پر سختی سے عمل درآمد شروع کرے۔ ہمارے صوبے کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور زمینیں پہلے سے کم ہیں، یہی وقت ہے کہ اس قواعد وضوابط پر عمل کرکے نہ صرف زرعی زمینوں کو تباہ ہونے سے بچایا  جائے بلکہ جو زمینیں غیر قانون قبضے میں ہیں، ان کو بھی واگزار کرایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ نئی سوسائٹیز اور کالونیوں کیلئے بھی قوانین کا  نہ صرف از سر نو جائزہ لیا  جائے بلکہ ان پر کڑی نظر بھی رکھی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کی زمینوں کا بہت سا حصہ ہر سال دریا برد بھی ہوجاتا ہے، حکومت کو اس طرف بھی توجہ دینی چاہیے اور پشتوں کا باقاعدہ انتظام کرنا چاہیے۔ ہم اس قانونی مسودے کو ایک احسن اقدام کے ساتھ ساتھ وقت کا تقاضا  سمجھتے ہیں،تاہم اصل کام کسی قانون پر فوری عمل درآمد ہوتا ہے۔صرف نعرے،دعوے اور وعدے پانی کے بلبلوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ٓ