صوبائی اسمبلیاں تحلیل،  عمران خان قومی مفاد میں یوٹرن لیں 

صوبائی اسمبلیاں تحلیل،  عمران خان قومی مفاد میں یوٹرن لیں 

قاضی محمد شعیب (ایڈووکیٹ) 

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اپریل 2022 سے عدم اعتماد کے نیتجے میں حکومت کے خاتمے اور قومی اسمبلی سے استعفے کے بعد وفاق میں مسلم لیگ (ن)کی برسر اقتدار اتحادی حکومت کے خلاف لاہورمیں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے راولپنڈی میں 26 نومبر 2022 کو عوامی جلسے میںحکومت پر نئے الیکشن کے لیے دبائو ڈالنے کے لیے پنجاب اور خیبر پختون خوا اسمبلیاںچھوڑنے کا اعلان کیا۔ جس کے بعد پورے ملک میں سیاسی بحران میں تیزی آ گئی مگر انھوںنے کوئی خاص تاریخ کا حتمی اعلان نہیں کیا۔ جس پر اتحادی حکومت کی جانب سے شدید موقف اختیار کرتے ہوئے عدم اعتماد کی تحریک لانے اور گورنر راج نافذ کرنے کا اشارہ دیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے نائب چیئرمین نے دیگر سیاسی عہدیداران کے ہمراہ 7 دسمبر2022 کو زمان پارک لاہور میں عمران خان کے ساتھ اجلاس کے بعد نیوز کانفرنس میں انکشاف کیا کہ اگر حکومت نے فوری الیکشن کرانے کی تاریخ نہ دی تو عمران خان آئندہ چندروز میں دونوں صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا باضابط اعلان کریں گئے۔ سیاسی ماہرین کے مطابق دونوں اسمبلیاں توڑنے سے پنجاب اور خیبرپختون خوا میں نگران سیٹ اپ آئے گا جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کا اثرو رسوخ ختم ہو جائے گا اور عمران خان کی پارٹی کا سیاسی گراف خطرے میں پڑ جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے ہاتھ سے ساری گیم نکل جائے گی جبکہ وفاق، سندھ  اور بلوچستان میں اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی۔  ملک کی بدلتی ہوئی سیاسی کیفیت کے پیش نظر سابق صدر پاکستان آصف زرداری نے گزشتہ روز وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی کے بڑے بھائی اور مسلم لیگ (ق) کے سینئر راہنماء سابق وزیر اعظم پاکستان چوہدری شجاعت حسین سے ان کی رہائش گاہ پر ایک اہم نشت کے دوران طویل ملاقات کی۔ جس میں انھوںنے چوہدری شجاعت حسین کو یقین دہانی کرائی کہ حمزہ شریف نئے سیٹ اپ میں شامل نہیں ہوں گے اس لیے چوہدری پرویز الہی کو پنجاب اسمبلی تحلیل کرنے سے منع کریں۔ پاکستان تحریک انصاف کے زمان پارک لاہور میں منقعدہ اجلاس کے دوران جب عمران کو  چوہدری پرویز الہی کی پنجاب کابینہ میں توسیع کرتے ہوئے اختیارکاسترو کو بطور نئے صوبائی وزیرکی  شمولیت کا  علم ہوا  تو انھوںنے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس عمل سے ان کی پارٹی کے بیانیہ کو نقصان پہنچے گا۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پنجاب کے چوہدری گروپ عمران خان کے زیر اثر نہیں رہے۔ پنجاب اسمبلی اپنی مدت پوری کرے گی جس سے پنجاب میں مسلم لیگ(ق) کے ووٹ بنک میں روز بروز اضافہ ہور ہا ہے۔ وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے گزشتہ روز پنجاب پولیس کو نئی گاڑیاں خریدنے کے لیے پانچ ارب روپے گرانٹ کے ساتھ ساتھ پنجاب کے نئے اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل کا آعادہ کیا ہے  جس پر پاکستان تحریک انصاف کے منتخب ارکان اسمبلی نے پارٹی کے مختلف اجلاسوں کے دوران  عمران خان سے اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے۔  الیکشن کمیشن کے ذرائع کے مطابق اگر دونوں صوبائی اسمبلیاںتحلیل ہوتی ہیں تو ساٹھ دنوں کے اندر ضمنی انتخابات ہوں گے جس پر 25 ارب روپے کے اخراجات آئیں گے۔ معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان میں سیاسی بحران کے باعث ڈیفالٹ کے سائے منڈلا رہے ہیں۔ بجٹ کا خصارہ پہلے ہی ریڈ لائن کراس کر چکا ہے۔ عوام مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں۔ ملک سے ڈالر سمگل ہو رہے ہیں۔  پاکستان سٹاک ایکسچنچ کے کاروبار میں شدید مندی کا رجحان ہے۔ اس دوران اسمبلیا ں توڑ کر نئے انتخابات پر 25 ارب روپے ضائع کر کے غریب عوام پر اضافی بوجھ ڈال دیا جائے گا جس کا فائدہ عوام کی بجائے  ملک کی اشرافیہ کو ہو گا۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے 7 دسمبر2022 کو وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ساتھ ایک اہم اجلاس کے دوران کہا ہے کہ سیاسی منظرنامے پر ہیجانی کیفیت طاری ہے ۔ عمران خان نے ہر معاملے پر ان پر بھروسہ کیا ہے۔  نئے آرمی چیف کی تعیناتی سے قبل عمران خان سے مشاورت کے بعد سمری منظور کی تھی۔ آرمی چیف کی تعیناتی میرٹ پر ہوئی اور سارا معاملہ انتہائی خوش اسلوبی سے حل ہوا۔ نئی فوجی قیادت سیاست سے دور رہنا چاہتی ہے۔ ملک میں جمہوریت مضبوط ہوئی ہے ۔ مارشل لاء نہیں لگے گا۔ اسحاق ڈار کی سیاسی بصیرت کا اعتراف کرتے ہوئے صدر پاکستان نے کہا کہ اسحاق ڈار نے دھرنے کے دوران بھی مفاہمت کی کوشش کی تھی۔ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا۔  صدر پاکستان کی یقین دہانی کے بعد ملک کی معاشی صورتحال کے دیوالیہ ہونے کی افواہوں میں کسی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ ملک کی اقتصادی اور معاشی پوزیشن بہتری کی جانب بڑھے گی۔ صدر پاکستان نے اپوزیشن اور حکومت کو ساتھ مل بیٹھ کر الیکشن سے متعلق  بات کرنے کا بھی مشورہ دیا۔ انھوںنے عمران خان کے اسمبلیاں چھوڑنے کے حوالے سے کہا کہ اگر عمران خان ان سے مشورہ کرتے تو وہ ان کو اسمبلیاں چھوڑنے کا مشورہ نہ دیتے۔ ادھر پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم شہبار شریف کے ساتھ ملاقات کے دوران حکومت کو عمران خان کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے اور اپنی آئینی مدت پوری کرنے پر زور دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے راہنمائوں پرویز خٹک اور فواد چوہدری کے مطابق حکومت سے مذاکرات کے لیے رابطے ہو ر ہے ہیں جبکہ وفاقی وزیر سیاسی امور  ایازصادق نے ایک نجی  ٹی وی پروگرام میں حکومتی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے بتایاکہ موجودہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اور آنے انتخابات اگست2023کے بعد ہوں گے۔ اس سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف جنوری2023 میں پاکستان واپس آئیں گے اور مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں میں ٹکٹ تقسیم کریں گے۔ پاکستان میں اگلے عام انتخابات اکتوبر 2023 میں ہوں گے مگر پی ٹی آئی کے سربراہ عمران اس کے قبل انتخابات کرانے پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ موجود ہ حکومت عوام میں اپنی مقبولیت کھو چکی ہے اور حکومت کا کوئی اخلاقی جواز نہیں رہتا لیکن اتحادی حکومت نے باربار اپنے موقف میں کہا ہے کہ جب تک عمران خان اپنے منفی رویے میں تبدیلی نہیں لاتے ان کے ساتھ مذکرات نہیں ہو سکتے اور ان کے ساتھ کوئی پیشگی شرائط پر بات چیت نہیں ہو سکتی۔ قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کے استعفے قانونی کاروائی کے لیے تاحال زیر التواء رہنے کی وجہ سے تمام ارکان قومی خزانے سے تنخوائیں اور دیگر مراعات لے رہے ہیں لیکن مفاد عامہ کے لیے قانون سازی کے عمل میں شامل نہیں ہو رہے جس کا بوجھ پاکستان کی عوام کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے جس پر پاکستان کے عوام کو بھی آئندہ عام انتخابات میں  ووٹ ڈالتے ہوئے سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا ہو گا۔ عمران خان  سائفر، رجیم چینج، امریکی سازش، عدلیہ، فوج، الیکشن کمشنر سمیت دیگر کئی مواقع پر اپنا رکارڈ درست کرنے کے لیے یو ٹرن لے چکے ہیں۔ اس لئے اب وہ قومی مفاد میں ایک مرتبہ پھر یوٹرن لیں تاکہ وطن عزیز کے جمہوری ادارے مضبوط ہو سکیں۔