افغان عوام کی سزا اور عالمی برادری کی توقعات

افغان عوام کی سزا اور عالمی برادری کی توقعات

روس نے کابل کے نئے حکمرانوں پر واضح کیا ہے کہ اگر وہ چاہتے ہیں کہ اقوام عالم ان کی حکومت کو تسلیم کریں تو انہیں انسانی حقوق  کے حوالے سے دنیا کی توقعات پر پورا اترنا ہو گا۔ ماسکو میں افغانستان کے حوالے سے منعقدہ کثیرالملکی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے لئے روس کے نمائندے ضمیر کابولوف نے کہا ہے کہ انتہاپسندوں کی حکومت کو اس وقت تسلیم کیا جائے گا جب وہ جامع حکومت اور انسانی حقوق کے حوالے سے دنیا کی توقعات پوری کرنا شروع کر دیں، طالبان کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ انتظامی مسائل اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے پر کام کیا جا رہا ہے، اس سلسلے میں بہتری لانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم اس ضمن میں افغانستان میں ہونے والی پیش رفتوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور اس کی روشنی میں افغانستان کی نئی حکومت کے مستقبل کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ ضمیر کابولوف نے دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا کہ عالمی برادری جانبداری ترک کر کے افغانستان کی مدد کے لئے متحد ہو جائے کیونکہ کابل کے نئے حکمرانوں کو سزاوار قرار دیتے ہوئے ہم افغان عوام کو سزا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں شریک تمام ممالک کی جانب سے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا جائے گا جس میں اقوام متحدہ سے افغانستان کی امداد کے لئے فنڈز جمع کرنے کی خاطر ڈونرز کانفرنس کے انعقاد کا مطالبہ کیا جائے گا۔ ہم روس کے اس موقف کی مکمل تائید اور اس سے کلی طور پر اتفاق کرتے ہیں تاہم اس حقیقر سے بھی انکار ممکن نہیں کہ افغان عوام پہلے سے ہی سزایافتہ ہیں، افغانستان کے نئے حکمرانوں کے ساتھ اختلافات یا بہ الفاظ دیگر ان ممالک کے اپنے اپنے مفادات کی قیمت افغان عوام ہی چکا رہے ہیں، بلکہ گذشتہ چار دہائیوں سے زائد عرصہ سے چکاتے چلے آ رہے ہیں، اس لئے عالمی برادری کی توقعات یا اعتماد سے بڑھ کر موجودہ حکومت پر افغان عوام کے اعتماد یا ان کی توقعات پر نئی حکومت کے پورا اترنے کو ہی بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔ ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ افغان طالبان سے انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کا مطالبہ کرنے والی عالمی برادری کو خود بھی اس سلسلے میں انسانیت اور انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ لیکن افسوس کہ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں امریکہ ہو یا چین، روز ہو یا اقوام متحدہ یا دیگر عالمی و علاقائی طاقتیں، سبھی افغانستان یا افغان عوام کے مفادات کی بجائے اپنے اپنے مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ محولہ بالا قوتوں میں سے بعض کا مفاد افغانستان میں امن کی بجائے بدامنی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ آج اگرچہ سوویت افغان ''جہاد'' ہی نہیں امریکہ کی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ سے متعلق بھی بنیادی حقائق منظرعام پر آ چکے ہیں، وسائل، اختیار اور بالادستی سمیت اپنے دیگر مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے لڑی جانے والی ان جنگوں سے پیدا ہونے والی طرح طرح کے انسانی المیوں، اور ہر ایک المیہ کا رونا بھی الگ الگ رویا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود ایک نئی عالمی (سرد) جنگ کے لئے نئی بساط بھی بچھائی جا رہی ہے، ایسے میں اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری کے کردار پر سوالات تو ضرور اٹھائے جائیں گے، بنیادی سوال جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ افغانستان میں انسانی حقوق کے تحفظ کی بات کرنے والے یہ ممالک، بشمول امریکہ نے ڈیڑھ دو ماہ قبل افغانستان کی اس حکومت کو تن تنہا کیوں چھوڑ دیا تھا جس کے قیام کے لئے مسلسل بیس سال جنگ لڑی گئی تھی، اربوں کھربوں کا سرمایہ خرچ کیا گیا تھا، ہزاروں جانیں ضائع کی گئی تھیں، افغان مسئلہ کے بنیادی سٹیک ہولڈروں، امریکہ اور طالبان کے مابین مائنس غنی کے فارمولے پر اتفاق پر کیوں خاموشی اختیار کی گئی، آج افغانستان کے موجودہ حالات کی بنیادی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے، اور جس جس پر عائد ہوتی ہے، آج ان کا کردار کیا ہے؟ اور سب سے اہم مگر مشکل سوال یہ بھی ہے کہ افغانستان میں جاری عدم استحکام یا بدامنی کی فضاء پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گی، اس کی کیا گارنٹی ہے؟ اس لئے ضروری ہے کہ عالمی برادری توقعات کے ساتھ ساتھ ان خدشات و خطرات پر بھی غور کرے۔