جنرل قمر جاوید باجوہ کا خطاب،تاریخ کو طاقت کے چھڑی سے بدلا نہیں جاسکتا حقائق حقائق ہوتے ہیں،عوام کا ردعمل

جنرل قمر جاوید باجوہ کا خطاب،تاریخ کو طاقت کے چھڑی سے بدلا نہیں جاسکتا حقائق حقائق ہوتے ہیں،عوام کا ردعمل

شہباز رپورٹ

پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے کل آرمی جنرل ہیڈ کوارٹر میں ایک تقریب میں اپنے الوادعی خطاب میںدیگر کچھ باتوں کے علاوہ فوج کی طرف سے آنیدہ سیاست میں مداخلت نہ کرنے اور سانحہ مشرقی پاکستان کے حوالے سے بھی اظہارخیال کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری سیاستدانوں پر ڈالی تھی ان کے خطاب کے بعد سے اس پر سیاسی اور عوامی سطح پر بحث جاری ہے اس حوالے سے جو ردعمل سامنے آرہا ہے اس میں روزنامہ شہباز کو بھی اس حوالے سے کچھ عوامی ردعمل بھیجے گئے ہیں جس سے عوام کے جذبات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے اس سلسلے میں اسلام آباد کے  سینئر صحافی احمد حسن نے جنرل باجوہ کی تقریر پراپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ میں شدید بیمار ہوں لیکن صحافی ہونے کے ناطے خبروں سے خود کو الگ نہیں کر سکتا، جنرل باجوہ نے جاتے جاتے جو لکھی ہوئی تقریر پڑھ گئے اسے سن کر مجھے بہت حیرت ہوئی شرم بھی محسوس ہوئی کہ یہ ہماری بہادر افواج کا چھ سال کمانڈر رہا اور اس کی باتوں میں اس قدر تضاد یعنی انہوں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کو بھی بد نصیب سیاستدانوں کے ذمے لگا دیا اور جنرل صاحب وہ جو آپ کی فیملی پر ناجائز دولت اکٹھی کرنے کا الزام لگا ہے اس کا جواب ہی دے دیتے اور اس کی صفائیاں ہی پیش کر دیتے ،آپ نے فروری میں جرنیلوں سے مل کے فوج کو سیاست سے الگ کرنے کا فیصلہ تو کیا مگر اپریل میں عمران حکومت کو چلتا کیا اور کرپٹ اور نالائق ٹولے کو ملک پر مسلط کردیا۔

رانا محمد آصف اسلام آباد 
جنرل باجوہ نے کہا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی فوج کی نہیں سیاسی غلطی تھی۔ وی او اے کے لیے ہم نے گزشتہ برس مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے 50برس مکمل ہونے پر ڈاکیومنٹری سیریز میں اس سوال پر بھی بحث کی تھی۔

ڈاکٹر سہیل خان، چارسدہ 
بی ایڈ میں میرے ایک سابقہ شاگرد اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور  سے پاکستان سٹڈی میں ایم فل کر رہے تھے ۔ انکے تھیسز کا موضوع تھا ۔''سانحہ مشرقی پاکستان کے محرکات '' یہ تھیسز جب ایکسٹرنل ایگزامینر کے پاس پہنچا تو انہوں نے اسے مسترد کرتے ہوئے از سر نو لکھنے کا کہا ۔ وہ یہ تمام آبزرویشن لیکر میرے پاس آگئے جس میں ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ سانحہ کے وقت مشرقی پاکستان میں موجود سیاستدانوں ، بیورو کریٹس اور فوج کے افسران کے انٹرویوز شامل کیے جائیں لہذا یہ کٹھن مرحلہ شروع ہوا، ہم نے جنرل عمران اللہ خان سے لے کر روئیداد خان تک تیس انٹرویوز کئے ، دس سیاستدانوں میں سے سات نے مشرقی پاکستان کے سانحہ کی ذمہ داری فوج جبکہ تین نے سیاستدانوں پر ڈالی ، دس بیوروکیٹس میں آٹھ نے اسکی ذمہ داری فوج پر ڈالی اورآ پ حیران رہ جائیں گے کہ دس کے دس سابقہ فوجی افسران نے ذمہ داری اپنے اوپر لیتے ہوئے ماضی سے سیکھنے کا کہا ۔یہ اکیسویں صدی ہے ۔ تحقیق کا زمانہ ہے ۔ ماضی سے سیکھ کر حال میں منصوبہ بندی سے مستقبل میں جایا جاسکتا ہے ۔

ویب ڈیسک، ایک عام شہری 
مشرقی پاکستان کا سانحہ فوجی نہیں سیاسی ناکامی تھی،جنرل قمر جاوید باجوہ اگر جان کی امان ہو تو کچھ پوچھ سکتا ہوں اس وقت ایک فوجی جرنیل یحیی خان کی مارشل لا حکومت تھی تو یہ سیاسی غلطی تھی یا جرنیلی سیاسی غلطی؟جنرل یحیی سے پہلے انکے ایک اور پیٹی بند بھائی جنرل ایوب  نے 11سال حکومت کی تھی تو سیاست کہاں تھا؟تاریخ کو طاقت کے چھڑی سے بدلا نہیں جاسکتا حقاق حقاق ہوتے ہیں۔جنرل یحیی خان نے اقتدار ذوالفقار علی بھٹو کو 20دسمبر 1971کو حوالے کیا اس وقت جب سقوط ڈھاکہ کو چار دن ہوگئے تھے تو ذمہ دار کون ہوا جنرل یحیی یا سیاسی قیادت؟میں کتابیں پڑھ کر سانحہ مشرقی پاکستان کو مزید سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں ہوسکتا ہے میری رائے غلط ہو لیکن اب تک جتنا پڑھا ہے اس کا نتیجہ یہ ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد جنرل ایوب نے اپنی غلط پالیسیز کی صورت رکھی تھی اور جنرل یحیی نے یہ ناپاک مشن پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ باقی لڑنے والے سپاہیوں اور افسرز کی بہادری اور جرات کسی بھی شک وشبے سے بالاتر ہے لیکن یہ اس وقت کے فوجی قیادت کے غلط فیصلوں کا نتیجہ تھا۔اگر جرنیل ضیاالحق اسی ذوالفقار علی بھٹو کو اپنے اقتدار کی خاطر اور شاید امریکہ بہادر کے کہنے پر (کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو کو اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے دھمکی دی تھی)پھانسی دے سکتا تھا تو جنرل یحیی نے انکو پاکستان توڑنے پر کیوں پھانسی نہیں دی؟رہی بات انڈین آرمی سے زیادہ تنقید کرنے کی تو پچھلے 75 سال میں تقریبا چالیس سال فوجی آمروں نے براہ راست مارشل لا لگا کر حکومت کی جبکہ باقی مدت میں بلاواسطہ طور پر سیاست میں مداخلت کرتے رہے جس کی لاتعداد مثالیں ہیں اور خود حال ہی میں اعتراف بھی کیا گیا ہے انڈین آرمی کی ایک مثال دی کہ جہاں انہوں نے مارشل لا لگایا ہو۔تاریخ کو توڑ مروڑ کر ہم تاریخ کو بدل نہیں سکتے بلکہ تاریخی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ہی ہم پاکستان کو دیگر ترقی یافتہ اقوام کے صف میں لاسکتے ہیں ورنہ تو یہی حال ہوگا جو 75 سال سے جاری ہے اور ہم ترقی کرنے کی بجائے مزید مشکلات کی دلدل میں دھنستے جاینگے۔#عام_شہری

شعیب احمد گوجرانوالہ 
جعلی اور جھوٹا بیانیہ بنا کر قوم میں ہیجان کی کیفیت پیدا کی گئی اور اب اس سے راہ فرار اختیار کی جارہی ہے،لوگ اور پارٹیاں آتی جاتی رہتی ہیں،کیا یہ ممکن ہے کہ ملک میں بیرونی سازش ہو اور فوج ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھی رہے ، جنرل قمر جاوید باجوہ صاحب یہ نا ممکن ہے، گناہ کبیرہ ہے۔مرشد نے الوداعی تقریب میں منجھی پیڑھی ٹھوکنے کا فریضہ سر انجام دیا

ڈاکٹر عثمان علی کینیڈا 
فوج 75 سال سے ملک میں اور ملک کیساتھ جو کچھ کرتی رہی ہے وہ کوئی رازنہیں ۔ آج کے معاشی بحران ، غیر یقینی صورتحال اور ہیجانی کیفیت کی بڑی  ذمہ داری بھی فوج پر ہی عائد ہوتی ہے ۔ فوج ، بار بار براہ راست اقتدار پر قبضہ نہ کرتی یا ملاپ اور جوڑ توڑ سے اپنے کٹھ پتلی مسلط نہ کرتی اور حقیقی جمہوریت کو پھلنے پھولنے دیتی  تو آج یقینناََ ملک میں حالات مختلف ہوتے ۔ سیاستدان بھی اس سب کچھ سے مبرا نہیں ، وہ بھی عوامی طاقت کے بجائے اقتدار کے لیے پہلے اپنے کندھے پیش کرتے ہیں اور جب نکال دئیے جاتے ہیں تو پھر ان سے بڑا انقلابی کوئی نہیں ہوتا ایسے میں سیاسی کارکنوں (فینز نہیں)کو بھی سمجھ نہیں آتی کہ کریں تو کیا کریں ۔ بد قسمتی سے ہماری تاریخ یہ ہے کہ ہم تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے ۔ لیکن کیا معلوم کہ بار بار قوم کو دھکے دینے اور خود بھی ٹھوکریں کھانے سے  واقعی فوج نے سیاست سے دستبرداری کا فیصلہ کیا ہو اور جس کا اظہار وہ بار بار کر بھی رہی ہے ۔ کیا تھوڑا سا بھی یقین نہ کیا جائے بیشک خوش فہمی میں ہی سہی ۔(ویسے تھوڑی سی خوش فہمی توشیخ رشید کا چہرہ دیکھ کر بھی ہو جاتی ہے)۔ میری ذاتی رائے میں کسی نتیجے پر پہنچنے کی بجائے تھوڑا سا انتظار کیا جائے ، اگر فوج غیر سیاسی ہوتی ہے تو اس سے اوراچھی بات کوئی دوسری نہیں ، ورنہ  تالاب میں پڑا گیلا اور کیا گیلا ہوگا ، حقیقی جمہوریت کے لیے جدوجہد اسی طرح جاری رہے گی ،اپ دوستوں کا کیا خیال ہے ؟

نثار باز باجوڑ 
آرمی چیف باجوہ نے آج سیاسی تقریر کرکے سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا فیصلہ کیا، اور کھل کر کہا کہ ہم نے سوچ بیچار کرکے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم سیاست میں مداخلت نہیں کرینگے !تو اسکا سیدھا سادہ مطلب یہ ہوا کہ بالکل اس سے پہلے یہ مداخلت کرتے رہے اور 2018 کے الیکشن میں عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈال کر حکومت بنائی اور جب باجوہ ڈاکٹرائن فیل ہوئی اور اسے ناکامی کا سامنا ہوا، تو آج اس نہج پر پہنچ کر نیوٹرل شو کرنے کے کوشش کررہے ہیں، اور حد تو یہ ہے کہ موصوف فرما رہے ہیں کہ 1971سقوط ڈھاکہ سیاستدانوں کی ناکامی تھی، لگتا ہے اپنے سابقہ ڈکٹیٹرز کو موصوف سیاستدان سمجھ بیٹھے، کچھ تو خدا کا خوف کریں اس وقت اس ملک پر ایک جرنیل مسلط تھا، تاریخ کوبگاڑ کر نوجوان نسل کو گمراہ نہیں کرنا چاہیے،آج اپنی تمام تر غلطیوں کا خود اعتراف کرکے اچھی روایات ڈالی ہے خدا کرئے  کہ اب یہ نیوٹرل رہیں اور اپنے آئینی دایرہ کار تک محدود رہیں، جو انکی اخلاقی ، قانونی اور آئینی فرض ہے، اور اپنے حلف سے وفاداری ! لیکن ہمیں ایسا نہیں لگ رہا کہ ایسا ہو گا کیونکہ جرنیلوں کو اقتدار اور طاقت کی لت پڑ چکی ہے اور ایسے وعدے ہزار بار ہوچکے ہیں، نہ تو یہ لوگ اپنے پرائیویٹ بزنس امپایر جو بنائے ہیں وہ چھوڑنے کیلے تیار ہیں، اور نہ داخلہ اور خارجہ پالیسی جو انہوں نے قبضہ کرکے اپنے مرضی سے بنائی ہے وہ چھوڑنے کو تیار ہیں، جبکہ یہ کام آئین کی رو سے پارلیمان کا حق ہے کہ وہ پالیساں بنائے، آج بھی ہر محکمے کا سربراہ یا تو ریٹائر بریگیڈیئر ہے یا باوردی جرنیل کیا یہ کھلی مداخلت نہیں ؟ علی وزیر انکے حکم پر جیل میں قید ہے کیا یہ عدالتوں میں مداخلت نہیں؟ آج بھی پختونخواہ وطن کا ہر شہری امن کیلے مارچ کرتا ہے اور ہزاروں کی تعداد میں نکلتے ہیں لیکن ملکی میڈیا اس کوریج نہیں دیتا  کیوں یہ کس کے حکم پر ہورہا ہے ؟ کیا یہ مداخلت نہیں ؟

محمد الیاس پبی پریس کلب 
محترم حاجی  صاحب ،میں سیاستدانوں کے بارے میں اور خصوصا مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے حوالے سے آپ کے ایک گھنٹے سے طویل سیاسی تقریر کو مسترد کرتا ہوں ۔شاید آپ نے حمودالرحمن کمیشن رپورٹ کا مطالعہ نہیں کیا ہے ۔ آپ نے بریگیڈئر صدیق سالک کی کتاب ''میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا ہے ''بھی نہیں پڑھا ؟ ۔ آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ سیاستدانوں کی غلطی تھی کیا جنرل یحیی ،جنرل نیازی ،جنرل عمر ،جنرل شیر علی اور جنرل ٹکا خان سیاستدان تھے ؟ چاہیے تو یہ تھا کہ آپ بنگالی اور پاکستانی عوام خصوص پشتونوں اور بلوچوں سے ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور سقوط ڈھاکہ پر معافی مانگتے لیکن نہ تو آپ سیاست سے باز آئیں گے اور نہ ہی کبھی اپنی غلطیوں سے باز آئیں گے ،اور تو اور آپ نے تو بھٹو کو پھانسی دے کر بھی اپنی غلطی کو آج تک نہیں مانا اگرچہ جسٹس نسیم شاہ نے خود اس غلطی اور گناہ کا اعتراف کیا تھا ۔ نہ جوڈیشری نے اعتراف جرم کیا اور نہ ہی آپ نے ۔

محفوظ جان لندن 
ایک آرمی چیف کا یہ اعتراف کہ فوج گذشتہ ستر سال سے سیاست میں مداخلت کرتی آرہی ہے بڑی بات ہے حالانکہ گذشتہ ستر سال سے میں تمام DGISPRکی پریس کانفرنسیں نکال کے دیکھ لیں وہ تواتر سے فوج کی سیاست میں مداخلت کی تردید کرتے رہے ہیں ،ان کا یہ کہنا بھی خوش آئند ہے کہ فوج نے سیاست میں مداخلت نہ کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے( غضب کیا جو تیرے وعدے کا اعتبار کیا)ان کا یہ کہنا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ملک کے خلاف کوئی بیرونی سازش ہو اور فوج سوئی رہے یہ بھی درست ہے کیونکہ ہماری خارجہ پالیسی خصوصا امریکہ سعودی عرب،ہندوستان اور افغانستان کے حوالے سے فوج کبھی لا تعلق نہیں رہی ہے  ان کا یہ کہنا بھی سو فیصد سچ ہے کہ فوج سب کچھ کرسکتی ہے مگر صبر سے کام لے رہی ہے(اس سب کچھ کامطلب نواز، زرداری سمیت سب اچھی طرح جانتے ہیں البتہ خان صاحب نے ابھی صرف ٹریلر ہی دیکھا ہے جس دن پوری فلم چلا دی خان صاحب کو ہوائی گھوڑے سے اتر کر زمین پر آنے میں منٹ نہیں لگے گا)اور آخر میں جو بات کہہ دی ہے وہ سمجھنے والوں کے لیئے کافی ہے کہ یہ بات سب کو ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ صبر کی بھی ایک حد ہوتی ہے ،لہذا یہ جو  زیادہ اکڑ رہے ہیں ان سے درخواست ہے کہ خدا را اوقات میں رہیں ورنہ جس دن یہ صبر تمام ہوا پھر نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری رہے نام اللہ کا

کاشف الدین سید پشاور 
اہم تعیناتی پرزیادہ جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔لیکن کیا کریں مجبوری ہے ہم ہیں ہی ایسی قوم کہ ہر معاملہ میں انتہا پر پہنچ جاتے ہیں اب سپہ سالار کی تقرری ایک معمول کی کارروائی ہے نامزد آرمی چیف جنرل عاصم منیر ایک پروفیشنل سولجر ہے اور ہونا چاہئی تین ستاری یا چار ستاری منصب تک پہنچنا بجائے خود ایک اعزاز ہے اور ایسے افراد کئی کھٹن مراحل اے ہوکر گزر جاتے ہیں ۔ ہمیں یقین ہے کہ جنرل عاصم منیر کو ملک کی موجودہ حالت اور عوامی جذبات کا ادراک اور احساس ہوگا ۔ لیکن توقعات کی اڑان بے قابو ہو تو معاملات کا رخ بدل جاتا ہے ۔ کچھ لوگ انہیں حافظ قرآن، شاہ جی ، بخاری اور پتہ نہیں کن مناصب پر پہنچاکر ایک دیومالائی کردار  بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔بلکہ آئندہ چند دنوں میں کرامات کا ظہور بھی ممکن بنانا چاہتے ہیں ۔ بھئی وہ انسان ہے کل کلاں کو ئی غلطی بھی سرزد ہوسکتی ہے۔ ان کی ذاتی پسند ناپسند بھی ضرور ہوگی۔ ادارہ جاتی مجبوریاں بھی ہوں گی اور جس منصب پر وہ ہیں اس کے تقاضے بھی ناموافق ہوسکتے ہیں لہذا انہیں انسان ہی رہنے دیں ۔ کل کی سینہ کوبی سے بہتر ہے آج ہی سے اعتدال پر رہیں تو یہ ہمارے حق میں بہتر ہوگا۔