رمیز راجہ قومی کرکٹ کو نمبر ون بنانے کیلئے کوشاں

رمیز راجہ قومی کرکٹ کو نمبر ون بنانے کیلئے کوشاں

 تحریر: حیدر عباس رضوی 

پاکستان کرکٹ ٹیم کا شمار دنیا کی بہترین ٹیموں میں ہوتا ہے، ورلڈ کپ ہو یا چمپئنز ٹرافی ہر میگا ایونٹ میں شاہین مخصوص مقام کی وجہ سے اپنے شکار کو خوف زدہ کرتے رہے، دنیا بھر کی تمام ٹیموں کی جانب سے کامیابی کیلئے لڑی جانیوالی جنگ میں منفرد انداز کھیل اپنایا جاتا ہے، آسٹریلیا کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ آخر بال تک پرفیکٹ کھیل کا مظاہرہ کرتے ہیںچاہے میچ ان کے ہاتھ میں ہو یا نہ ہو، انگلش ٹیم کے بارے میں کرکٹ معلومات رکھنے والے یہ کہتے ہمیشہ سے پائے گئے ہیں کہ برطانوی ٹیم ایک بار وننگ ٹریک پر آ جائے تو پھر اسے کوئی نہیں روک سکتا، بھارتی ٹیم کو اکثر و بیشتر گھر کا بھیدی ہی پایا گیا جبکہ دیار غیر میں ان کی پرفارمنس ملکی گرائونڈز پر کھیلنے سے قطعی مختلف ہوتی ہے جبکہ پاکستانی ٹیم کے بارے میں رائے مختلف ہے، ملکی و غیر ملکی ٹیموں و کمنٹیٹرز کی اکثر رائے یہ رہی ہے کہ یہ ایک غیر یقینی ٹیم ہے کبھی نمبر ون ٹیم کو ایسے زیر کر دیتی ہے جیسے وہ کچھ ہو ہی نہ اور کبھی کبھی نو وارد ٹیم سے بھی ہار جاتی ہے اور ایسی پرفارمنس لاتعداد بار دیکھی گئی ہے، سینئر کرکٹرز ان کی اسی خاصیت کو خطرناک گردانتے ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہر مقابل نے پاکستانی ٹیم کو خطرناک جانا اور ڈٹ کر مقابلہ کیا، تاریخ گواہ ہے کہ جتنے بھی انٹرنیشنل میچز ہوئے ان میں پاکستان کو کسی بھی موقع پر کسی بھی مخالف ٹیم نے آسان نہیں لیا، پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں نے ہر میدان پر ثابت کر دکھایا کہ واقعی کرکٹ صرف بال اور بیٹ کا کھیل نہیں اس میں بہترین حکمت عملی بھی کاآمد ثابت ہوتی ہے، بغیر کسی گیم پلان کے کھیلنا کھلاڑی کو ان دی فیلڈ مشکل میں ڈال دیتا ہے ، اس لئے کوچنگ سٹاف کے زیرک ہونے سے کسی حد تک مسائل حل ہو جاتے ہیں لیکن یہیں مسئلہ حل ہوتا دکھائی نہیں دیتا، کوچنگ کسیاتھ ساتھ دیگر سٹار بمعہ سلیکٹرز کو بھی اہم رول ادا کرنا پڑتا ہے، چیئرمین پی سی بی کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

 

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمینوں کی فہرست پر اگر نظر دوڑائی جائے تو اس میں زیادہ تر کرکٹر نہیں تھے، پی سی بی کے 34 چیئرمین ایسے منتخب ہوئے جن کی کرکٹ سے زیادہ سفارتی تعلقات  میں مہارت تھی اسی لئے بھاری بھرکم سلیکٹرز اور دیگر عہدیداروں کو کام پر لگا دیا جاتا تھا، کوچ کے انتخاب میں بھی تجربات کئے گئے جس کا خمیازہ ایسی صورت میں بھگتنا پڑا کہ ہماری بیٹنگ لائن کا دیرینہ مسئلہ تاحال حل نہ ہو سکا اس کیلئے ایک ایسے چیئرمین کی ضرورت تھی جو ایک پروفیشنل کرکٹر رہا ہو اس لئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے 35 ویں چیئرمین کے طور پر رمیز راجہ کا انتخاب عمل میں لایا گیا، ان کی نہ صرف کرکٹ سے واقفیت بہترین ہے بلکہ آئی سی سی سے جڑے دیگر ممالک سے بھی اچھے تعلقات ہیں اور ان کو کمنٹری باکس کا بھی بخوبی تجربہ ہے جو کسی بھی موقع پر نقاد کا کردار ادا کرتے ہیں جبکہ بہترین کھیل پر داد و تحسین دینے سے بھی نہیں پیچھے نہیں ہٹتے۔ اگر پہلے سے ہی جب یکم مئی 1949 کو پاکستان کرکٹ بورڈ کی ابتداء کی گئی تب سے ہی پروفیشنلز آزمائے جاتے تو آج یہ حالت نہ ہوتی ۔ خیر اگر رمیز راجہ کے بارے میں بات کریں تو وہ کرکٹ بورڈ کے 35ویں چیئرمین ہوں گے، وہ یقینا بورڈ کے انتظامی ڈھانچے سے واقفیت رکھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ جنرل توقیر ضیا دور کے ابتدائی دنوں میں ایڈوائزری کونسل کا حصہ رہے اور بعدازاں اپریل 2003میں اس وقت پی سی بی کے چیف ایگزیکیٹو افسر بنا دیے گئے تھے لیکن بدقسمتی سے وہ صرف 15ماہ تک ہی اس عہدے پر رہے تھے۔ ایسے میں اگر قومی ٹیم کو دوبارہ بام عروج پر پہنچانے کی بات کی جائے تو رمیز راجہ بہترین چوائس معلوم ہوتے ہیں، ان کے انتخاب سے قبل سرفراز نواز نے مشورہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ رمیز بہترین چوائس نہیں لیکن پیٹرن ان چیف وزیراعظم عمران خان جو خود رمیز راجہ کی صلاحیتوں سے واقف ہیں نے ان پر بھرپور اعتماد کیا اور قومی کرکٹ کو اپنا کھویا ہوا مقام دلانے اور تمام مسائل حل کرنے کا ٹاسک دیا، شاید یہی وجہ تھی کہ ابھی جب ان کا نام گورننگ بورڈ ممبرز ہی میں شامل ہوا تھا انہوں نے عالمی سطح پر رابطے شروع کر رکھے تھے اور ساتھ میں ٹیم سلیکشن میں بھی انہوں نے مداخت شروع کر رکھی تھی اور یہ اس لئے بھی کرنا چاہئے تھا کہ اس وقت ٹیم سلیکٹرز اور دیگر پی سی بی عہدیداروں میں شاید سب سے سینئر عہدیدار رمیز راجہ ہی ہیں جو ایک پروفیشنل کرکٹر بھی رہ چکے ہیں۔

 

اب حالات کو درست نہج پر ڈالنے کیلئے رمیز راجہ کو قومی ٹیم بنانے سے پہلے اپنی بہترین ٹیم بنانی ہوگی جو کفایت شعاری سمیت تمام امکانی پوزیشنز پر کھیلنے کا تجربہ رکھنے اور کسی بھی قسم کی کرپشن میں ملوث نہ ہو، کیونکہ اس سے قبل جو بھی آئے کھیل سے زیادہ تر ناواقف ہی تھے اس لئے ہمارا سکواڈ مقاصد سے دور ہوتا چلا گیا اور اقربا پروری کو عروج ملا، پی سی بی میں لاتعداد ایسے عہدے ہیں جن پر براجمان اہلکار لاکھوں تنخواہیں لے رہے ہیں لیکن پھر بھی قومی ٹیم کی پرفارمنس صفر ہی رہی ہے، مصباح الحق سلیکٹر اور ہیڈ کوچ دونوں تھے جبکہ اس وقت ان سے زیادہ سینئر عہدیدار موجود تھے جو بہترین پرفارمنس بھی دے چکے تھے اور ٹیم کے انتخاب میں طاق بھی تھے انہیں نظر انداز کر کے مصباح پر اعتماد کیا گیا جس کا خمیازہ بھگتنا پڑا کہ نمبر ون ٹیسٹ ٹیم بن کر بھی اعزاز سے محروم ہو گئے، یونس خان جیسے ٹیلنٹڈ بلے باز اور کوچ کے ہوتے ہوئے غیر ملکی بیٹنگ کنسلٹنٹ کو لانا پی سی بی ہی کی لاعلمی اور کھیل کے بارے میں کم فہمی ظاہر کرتی ہے، احسان مانی نے وسیم خان کو کیوں بورڈ پر مسلط کیا ان کی کیا ذمہ داریاں تھیں اس بارے میں بھی عوام کو بتایا جانا چاہئے، سلیکشن کمیٹی میں کیوں سینئرز نظر انداز کئے جا رہے ہیں، ظہیر عباس سے لے کر ثقلین مشتاق تک ایسے کھلاڑی قومی ٹیم کو درست ٹریک پر لانے کیلئے حیات ہیں پھر ان سے کیوں استفادہ نہیں کیا جاتا اور بار بار ٹیم کو دو لخت کر دینے کیلئے وقار یونس کو آزمایا جاتا ہے، کیا ٹیم کی بائولنگ سٹرینتھ کو درست لائن و لینتھ پر لانے کیلئے صرف وقار یونس ہی بچے ہیں، اگر یہی ہیں تو پھر یاسر شاہ، سعید اجمل اور جنید خان سمیت عمر گل کو کیوں ضائع کیا گیا جو بہترین تھے، یاسر شاہ کو ٹیسٹ تک محدود کر دینے سے انکی صلاحیتوں کو زنگ لگانے کے مترادف ہے، جنید خان کو کیوں کھڈے لائن لگایا جا رہا ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ پی سی بی میں خیبر پختونخوا کو ہی سائیڈ لائن لگایا جا رہا ہے، اگر ایسا نہیں تو کیوں صبہ خیبر پختونخوا کے کھلاڑیوں کو ایک دو چانسز کے بعد کنارہ کش کر دیا جاتا ہے۔ ایک طویل عرصہ بعد یاسر شاہ جیسا نمبر ون سپنر قومی ٹیم کو میسر آیا تھا پھر کیوں ضایع کر دیا گیا، یاسر شاہ کی پرفارمنس سے خود آسٹریلین سپنر شین وارن خود بھی متاثر رہے ہیں اور بسا اوقات ان کی ڈلیوریز پر داد و تحسین دیتے تھے اکثر تو ایسا بھی ہوا ہے کہ وہ خود یاسر شاہ سے ملنے گرائونڈ آن پنچے تھے، خیر یہ صوبائی ٹکرائو کی بحث بعد کیلئے رکھ لیتے ہیں ابھی تو پی سی بی کو درست خطوط پر چلانے کی ضرورت ہے جسے ایک منافع بخش ادارہ سمجھ کر لوگ انٹری کیلئے کوشاں رہتے تھے، کبھی میوزیکل چیئر کا گیم کھیلا جاتا تو کبھی امپورٹڈ افسران لائے گئے اب ان کا راستہ روکنا ہوگا، ایک اور اہم مسئلہ جو زیادہ تر دیکھا گیا ہے وہ کوچنگ سٹاف کے غیر ملکی ہونے کا ہے، پاکستانی کھلاڑی زیادہ تر انگلش سے کم واقفیت رکھتے ہیں ایسے میں کوچ کے بتائے ہوئے انسٹرکشن اور گائیڈ لائن جو بعض اوقات الفاظ سے زیادہ انداز سے سمجھائے جاتے ہیں کو من و عن سمجھنے سے قومی کرکٹرز ناواقف رہتے ہیں، پھر ملکی سابق کھلاڑیوں کو ہی موقع دینا چاہئے اور ایسے میں سب  کے آئیڈیل عمران خان جو موجودہ وزیراعظم بھی ہیں ان کو براہ راست مداخلت کرتے ہوئے 1992 کی ٹیم کو ایکٹیویٹ کرنا ہوگا تبھی قومی ٹیم راہ راست پر لائی جا سکے گی اور کھلاڑی پرجوش انداز میں کھیل بھی پائیں گے کیونکہ نوجوان کھلاڑیوں کے ہیرو بھی یہی ٹیم اور عمران خان ہیں۔

 

موجودہ حالات میں رمیز راجہ کو معاشی حالات سدھارنے کے ساتھ ساتھ قومی کھلاڑیوں کو سیاسی قلابازیوں سے بھی دور کرنا ہوگا ساتھ میں ٹیم میں گروپنگ اور پیسوں کی ریل پیل چاہے لیگل ہو یا ال لیگل ہو کرپشن ہو یا میچ فکسنگ ان تمام امور کی بیخ کنی کرنی ہوگی، کھلاڑیوں کے ڈوپنگ اور صحت سے جڑے عوامل بھی درست کرنے ہونگے۔ ابھی تو ابتداء کے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا کے مصداق رمیز راجہ کے آنے سے قبل ہی خود کو بوجھ سمجھنے اور خطرات کا شکار ممبرز کو ہٹنے میں ہی عافیت دکھائی دینے لگی اور خود ہی الگ ہوتے گئے، پہلے مصباح الحق اور وقار یونس پھر وسیم خان اور اس دوران اور بھی بہت سے غیر مشہور لوگ کنارہ کش ہو چکے ہوں گے کیونکہ ان کا بے داغ ماضی ہی اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ کسی بھی قسم کی کوئی غلطی برداشت نہیں کرتے اور اصولوں پر کسی قسم کا کوئی سودا نہیں کرتے۔

 

دوسرا آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ  قریب ہے اس کیلئے ٹیم کا انتخاب مکمل سوچ سمجھ کر کرنا ہوگا کیونکہ یہ ایونٹ اومان اور یو اے ای کے میدانوں پر کھیلا جائیگا جس کی میزبانی بھارت کریگا اس سے قبل آئی پی ایل بھی یہیں کھیلا گیا کیونکہ بھارت میں کورانا صورتحال انتہائی خطرناک ہے، اس لئے ٹیموں کا انتخاب یو اے ای اور اومان کی پچز کے مطابق کرنا ہوگا اور اسی مناسبت سے کھلاڑیوں کو بھی تربیت دینا ہوگی۔ فخر زمان اور محمد رضوان سے اوپننگ کرانے کیلئے ووٹنگ سے اجتناب اور بیرونی ہاتھوں کو روکتے ہوئے پی سی بی چیئرمین اور کوچنگ سٹاف کو فیصلہ کرنا ہوگا، کیونکہ دونوں جارحانہ بلے باز ہیں اور ان پچز پر کھیلنے کیلئے قومی ٹیم میں نمبر 6 تک بلے باز رکھنے ہونگے جبکہ ان کے ساتھ دو آل رائونڈرز لازمی ہیں، ایسے میں پارٹ ٹائم بائولرز میں سپنرز کا کردار اہم ہوگا جبکہ سپیڈ سٹارز میں بھی مایہ ناز کھلاڑی قومی ٹیم کے پاس موجود ہیں انہی میں سے بہترین ٹیم کا انتخاب کیا جانا چاہئے۔ کھلاڑیوں کی دستیاب کھیپ میں سے سپاٹ فکسنگ یا کسی بھی قسم کی کرپشن کا حصہ رہے ہوں ان کو مکمل آئوٹ کرنا ہوگا تاکہ آئندہ کسی بھی کھلاڑی کو دوبارہ ملک کا نام داغ دار کرنے کی ہمت نہ ہو سکے، ری ہیپ پیریڈ سے گزار کر کھلاڑی کو دوبارہ کھلانے سے حقدار کھلاڑیوں کی حق تلفی ہونے کا خدشہ ہے۔ آئی سی سی ٹونٹی 20 ورلڈ کپ جو یو اے ای اور عمان میں کھیلا جانا ہے اس میں ٹیموں کی سلیکشن پر نظر ڈالی جائے تو ان میں زیادہ تر وہ کھلاڑی شامل ہونگے جو آئی پی ایل کے جاری ایڈیشن میں امارات میں کھیلتے آئے ہیں ان کا تجربہ سلو اور بیٹنگ پچز پر کافی ہو چکا ہے ایسے میں پاکستانی ٹیم کو بھی اپنی ٹیم سلیکشن میں ماہرانہ انداز اپنانا ہوگا اور پروفیشنلزم کے تحت کھلاڑیوں کا انتخاب کرنا ہوگا جس میں تمام تر تعلقات اور رشتہ داریوں کو ملحوظ خاطر نہیں لایا جائیگا، 17 اکتوبر سے متحدہ عرب امارات اور عمان میں شروع ہونے والے میگا ایونٹ میں پاکستان کو اپنا پہلا میچ روایتی حریف بھارت کیخلاف کھیلنا ہے ایسے میں مضبوط سکواڈ میدان میں اتارنا ہوگا اور کھلاڑیوں کو بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک کی خاطر پرفارمنس دینی ہوگی نہ کہ ذاتی پوزیشن کی بہتری کیلئے، بھارتی ٹیم کی بیٹنگ لائن نمبر 7 پوزیشن تک ہے ایسے میں ہمیں بھی ایسے کھلاڑیوں کا انتخاب کرنا ہوگا جو تکے پر نہیں ماہرانہ انداز میں بلے بازی کے ماہر ہوں، اس کے بعد نیوزی لینڈ سے دوسرا ٹاکرا ہوگا ایسے میں کیویز کے دورہ پاکستان سے انکار کو بھی یاد رکھنا ہوگا اور سارا غصہ پرفارمنس کی صورت میں نکالنا ہوگا تاکہ انہیں شکست دے کر ثابت کیا جا سکے کہ ہم کسی سے کم نہیں۔ 

 

میچ فکسنگ کے دور میں صاف کردار

نوے کی دہائی میں جب پاکستان کی کرکٹ کو میچ فکسنگ سکینڈل نے بری طرح جکڑا ہوا تھا، اس دور میں رمیز راجہ ان چند ہی کرکٹرز میں سے ایک تھے جن پر اس طرح کا کوئی الزام نہیں لگا۔ وہ صاف شفاف کردار کے مالک کے طور پر پہچانے گئے بلکہ میچ فکسنگ کے خلاف انھوں نے آواز بلند کی۔ کرکٹ کرپشن کے بارے میں رمیز راجہ کا ہمیشہ سے واضح اور دو ٹوک موقف رہا ہے کہ جو بھی کرکٹر فکسنگ میں ملوث رہا، اسے دوبارہ پاکستان کی طرف سے کھیلنے کا موقع نہیں ملنا چاہیے بلکہ وہ ایسے کھلاڑی کو جیل بھیجنے کی بات بھی کرچکے ہیں۔ 

 

مائیک اور کمنٹری سے دوستی

رمیز راجہ نے بحیثیت کرکٹر کریئر ختم ہونے کے بعد مائیک سے ایسی دوستی کی جو آج تک برقرار ہے۔بحیثیت کمنٹیٹر انھوں نے دنیا بھر میں اپنی شناخت ایک ایسے تجزیہ کار اور مبصر کے طور پر کرائی جس کی بات کو نہ صرف توجہ سے سنا جاتا ہے بلکہ ان میں وزن بھی ہوتا ہے۔ باب وولمر کو پاکستانی ٹیم کے کوچ کے طور پر لانے والے رمیز راجہ ہی تھے لیکن ایک وقت وہ آیا جب شہریارخان نے ان سے کمنٹری اور کرکٹ بورڈ میں سے ایک کا انتخاب کرنے کو کہا۔ اس کا نتیجہ رمیز راجہ کے استعفے کی صورت میں2004 میں سامنے آیا تھا تاہم شہریارخان نے اپنی کتاب میں یہ تسلیم کیا ہے کہ رمیز راجہ کا متبادل تلاش کیے بغیر ان سے استعفیٰ لینا میری غلطی تھی۔ 

 

یاسر اور جنید کہاں ہیں 

یاسر شاہ اور جنید خان کو کیوں نظر انداز کیا جا رہاہے، دونوں کی پرفارمنس لائق تحسین رہی ہے، یاسر شاہ کی پرفارمنس شاندار رہی جن کے عالمی ٹاپ کھلاڑی بھی معترف رہے ہیں، شین وارن خود ان کی ڈلیوریز دیکھ کر حیران رہ جاتے تھے اور اکثر تو ان کی رہنمائی کیلئے خود بھی میدان میں آ جایا کرتے تھے، آخر وہ کیا وجوہات ہیں جن کی بنا پر یاسر شاہ اور جنید خان کو سائیڈ لائن کیا گیا ۔ جنید خان نے22 ٹیسٹ میچز میں 71 وکٹیں لیں جبکہ 76 ایک روزہ انٹرنیشنل میچز میں 110 شکار کئے، یاسر شاہ نے 46 ٹیسٹ میچز میں 235 وکٹیں لیں اس کے علاوہ 25 ایک روزہ انٹرنیشنل میچز میں ان کو موقع دیا گیا اور ان میچز میں انہوں نے 24 وکٹیں اڑائیں اس کے علاوہ ٹی 20 میں انہیں موقع ہی نہیں دیا گیا۔ 46 ٹیسٹ میچز کی 69 اننز میں یاسر شاہ نے بلے بازی کرتے ہوئے 847 رنز سکور کر رکھے ہیں، ایسے میں انکا زیادہ تر فوکس بائولنگ پر رہا ہے اور ایک ماہر لیگ بریک گگلی ہونے کا انہوں نے ہر میچ میں ثبوت بھی دیا ہے پھر آخر کیوں انہیں مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہیں صرف ٹیسٹ میچز تک محدود کر کے ان کے کیریئر کو بھی دائو پر لگایا جا رہا ہے ساتھ میں دستیاب بہترین کھلاڑی کو نہ کھلانے کا نقصان ٹیم کو بھی ہو رہا ہے۔ 

 

یونس خان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں، انہوں نے بے مثل پرفارمنس سے پوری دنیا کو اپنا معترف بنایا، اخلاق اور کارکردگی کی بنا پر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ڈریسنگ روم کا ماحول خراب ہے، یونس خان نے جب قیادت سنبھالی تو بہترین قیادت کے بل پر اور ٹیم سیٹ اپ ایڈجسٹ کرنے پر ٹی 20 ٹرافی پر قبضہ کیا ساتھ میں انہوں نے ملکی ریکارڈ بھی اپنے نام کیا، انہوں نے 118 ٹیسٹ میچز میں 10ہزار سے زیادہ رنز بنائے جبکہ 265 ایک روازہ انٹرنیشنل میچز میں بھی 7294 رنز جوڑے۔ مڈل آرڈر میں اپنی بہترین تکنیکس کی وجہ سے اکثر مخالف ٹیم کے بائولر کیلئے درد سر بنے رہتے تھے، انہوں نے قومی ٹیم کی کوچنگ کرتے ہوئے ٹیم کے بلے بازوں کی پرفارمنس میں کئی تبدیلیاں کیں جن کی بدولت ان کی کارکردگی میں واضح فرق آیا ہے اب اگر ان کی ضرورت ٹیم کو تھی تو کیوں ان کیساتھ ایسا رویہ روا رکھا گیا کہ انہوں نے کنارہ کشی میں عافیت سمجھی، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ریکارڈ یافتہ کرکٹر کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جاتا اور ان سے کھلاڑیوں کی بیٹنگ تکنیک میں موجود خامیوں کو دورکرنے کا کام لیا جاتا اور بیٹنگ لنسلٹنسی کی ذمہ داری انہیں دی جاتی  کیونکہ ان کے طریقہ کوچنگ سے تمام کھلاڑی خود کو آرام دہ محسوس کرتے تھے ، ان کی واضح مثال تصاویر سے بھی واضح ہے کہ وہ ڈریسنگ روم کا ماحول کیسے خوشگوار رکھتے تھے لیکن چند ایک کھلاڑیوں کی فضول حرکتوں کی وجہ سے انہیں کوچنگ سے کنارہ کش ہونا پڑا، اب پی سی بی کو چاہئے کہ وہ کھلاڑیوں کی پرفارمنس کی بدولت یونس خان کو بیٹنگ کنسلٹنٹ کے عہدہ پر دوبارہ فائز کریں تاکہ کھلاڑیوں کو لوکل کوچ میسر آ سکے جو آسانی سے ان کی بات سمجھ بھی سکے اور اپنی سمجھا بھی سکے۔