بے ہنگم ہاوسنگ سوسائٹیوں،زرعی زمین میں کمی

 بے ہنگم ہاوسنگ سوسائٹیوں،زرعی زمین میں کمی


 اعجاز احمد

 اگر حالات اور واقعات کا تجزیہ کیا جائے توسال 1951 میں پاکستان میں شہری علاقے 17فی صدتھے۔  اور سال 2021 میں یہ علاقے 41فیصد تک پہنچ گئے۔اگر بڑے شہروں میں آبادی کی اضافے کی رفتار اس تیزی سے جاری رہی تو اعداد وشمار کے مطابق ہمیں سالانہ 2لاکھ 70ہزارمزیدنئے مکانات کی ضرورت ہوگی۔ماہر اقتصادیات  پروفیسررؤف احمد کا کہنا ہے ایک طر ف اگر بڑے شہروں کے فا ئدے ہیں تو فائدوں کے مقابلے میں ان شہروں کے نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں۔سب سے پہلا مسئلہ ان شہروں کے مینیجمنٹ یعنی انتظامی مسائل ہوتے ہیں اور حکومت کو انکے سنبھالنے میں مشکلات کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں بڑے شہروں کے آباد ہونے سے زرعی زمین،بلڈنگز اور عمارات میں تبدیل ہونا شروع ہو جاتے ہیں اورپراپرٹی کی قیمتیں بڑھ جاتی ہے۔ سال 1984 میں لاہو ر ڈی ایچ اے میں ایک کنال پلاٹ کی قیمت 2 لاکھ رروپے تھی، سال 2004 میں یہی وقت ایک کروڑ تک اورسال2021میں 4سے 5 کروڑ تک پہنچ گئی۔با ت صرف لاہور، پنڈی اور پشاور کی نہیں پورے ملک میں پراپرٹی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ آج کل پراپرٹی اور رئیل اسٹیٹ کے لحا ظ سے خیبر پختون خوا سرمایہ کاروں کے لئے سب سے بڑا مر کز بن گیا ہے۔اگر ہم 1998 میں کے پی کے آبادی پر نظر ڈالیں تو یہ ایک ایک کروڑ 80 لاکھ تھی جو سال 2021 میں ساڑھے 4 کروڑ کے قریب ہے۔سال 1998 میں خیبر پختون خوا میں مکانات کی تعداد 22 لاکھ 10 ہزار تھی جو سال 2021 میں 45لاکھ تک پہنچ گئی۔اگر ہم پاکستان میں فی مربع کلومیٹر رقبے آبا دی کو دیکھیں تو یہ ایک ایک مربع کلومیٹر پر 240 لوگ ہیں۔اس وقت خیبر پختون خوا میں 26 اضلاع ہیں۔ اس میں پشاور میں  فی مربع کلومیٹر پر 1606نفوس، چارسدے میں ایک مربع کلومیٹر پر 1025 لوگ، مردان میں 895لوگ، نو شہرہ میں 500نفو س، صوابی میں 665 نفو س اور ایبٹ آباد میں ایک کلومیٹر پر 448 لوگ آباد ہیں۔ اور بد قسمتی سے ان گنجان آبادی والے شہروں میں اور بالخصوص مو ٹر وے اور بڑے بڑے شاہراہوں کے ساتھ بڑی بڑی ہاسنگ سوسائٹیاں بن رہی ہیں جس سے زرعی اور مزروعہ زمینوں میں کمی واقع ہو رہی ہے۔2005 کے قانون کے مطابق اس وقت تک کوئی سوسائٹی اخبار میں اشتہار دینے کے لئے اہل نہیں جب تک اس سوسائٹی کے پاس 160 کنال زمین نہ ہو۔اور اسکے علاوہ اس سوسائٹی نے متعلقہ حکومت سے این او سی نہ لی ہو۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ ہماری وفاقی اور سوبائی حکومتیں بغیر سوچے سمجھے پراپرٹی اور رئیل اسٹیٹ کے لئے اسی طر ح این او سی دیتے ہیں، جس طرح انہوں نے ملک میں سی این جی سٹیشنز لگانے کے لئے جاری کئے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ملک میں بڑھتے ہوئے آبادی کو قابو کرنے کے لئے بھی اقدامات کریں۔ اس وقت وطن عزیز میں ایک کلومیٹڑ پر 250 لوگ آباد ہیں۔جبکہ آسٹریلیا میں ایک مربع کلومیٹر پر 3 لوگ، کنیڈا میں 4لوگ، ناروے میں 14، نیوزی لینڈ میں 17اور امریکہ میں 34 لوگ آباد ہیں۔اور یہی وجہ ہے کہ ان ممالک کو مکانات تعمیر کرنے اور ہاسنگ سوسائٹی بنانے کے لئے زرعی زمینوں کو تعمیری جگہوں میں تبدیل کرنے کی بہت کم ضرورت پڑتی ہے۔لہذا وفاقی حکومت اور چا روں صوبوں کو ملک میں آبادی پر قابو پانے اور اسکو اعتدال پر لانے کے لئے بھی سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کا کل رقبہ 8 لاکھ مربع کلومیٹر ہے،جس میں زرعی زمین  2 لاکھ  70ہزار مربع کلومیٹر ہے جو کل رقبے کا 37فی صد ہے۔بد قسمتی سے ملک میں بڑھتے ہوئے آبادی اور شہروں میں تو سیع اور پھیلانے سے جنگلات کے رقبے میں کمی واقع ہورہی ہے، جس سے ہم آج کل مو سمی تغیرات کا سامنا کررہے ہیں۔اعداد وشمار کے مطابق سال 2001میں پاکستان میں جنگلات کا کل رقبہ45 ہزار مربع کلومیٹر  اورسال 2021 میں یہ رقبہ 36 ہزار مربع کلومیٹر تک کم ہوکے رہ گیا۔لہذا حکومت کو چاہئے کہ وہ  مو سمی تغیرات کو قابو کرنے کے لئے  اس قسم کی بے ہنگم سوسائٹیوں پر پابندی لگائیں اور کسی ہاسنگ کو این او سی جاری کر نے سے پہلے ہزار بار چھان بین کرلیں۔اگر ہم نے اس بے ہنگم ہاسنگ سوسائٹیوں کو قابو نہیں کیا گیاتو وہ دن دور نہیں جب ہمارے پاس مزروعہ زمین انتہائی کم ہوگی۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ دور دراز علاقوں میں نئے شہر بنائیں  اور ساتھ ساتھ یہ بھی کوشش کریں کہ آبادی کو اعتدال لانے کے لئے مزید اقدامات کریں۔ ہمارے شہروں کے ساتھ، مضافات، مزید شہروں میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں لہذا اسکا تدارک بہت زیادہ ضروری ہے۔ علاوہ ازیں فلیٹ ٹائپ بلڈنگ کو فروع دیں۔ مزید برآں حکومت کو چاہئے کہ وہ بنجر اور خراب زمین کو کا شت کے قابل بنادئیں  اور ساتھ ساتھ  مکانات بنانے والے قوانیں کو مزید سخت کریں اور اس میں  اصلاحات کریں۔