ماہ صفر کی حقیقت اور اسلامی حیثیت

ماہ صفر کی حقیقت اور اسلامی حیثیت

دانیال حسن چغتائی

اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ماہ صفر المظفر ہے۔ تاریخ اسلام میں اس مہینے کو ممتاز حیثیت حاصل ہے، اس مہینے کی27  تاریخ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی جو غلبہ اسلام اور اسلامی ریاست کے قیام کا باعث بنی اور پوری دنیا میں جو اسلام پھیلا اس کا آغاز بھی مدینہ منورہ سے ہوا، گویا پوری دنیا میں جو ظلمت چھائی ہوئی تھی اور ہرطرف خزاں تھی اس کا خاتمہ اسلام کی روشنی اور بہار کے ذریعے مدینہ منورہ سے ہوا۔ 

 

پھر اسی ماہ صفر میں2  ہجری کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی سے اپنی چہیتی بیٹی حضرت فاطمہ کا نکاح فرمایا تھا جن سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل چلی جو قیامت تک رہے گی۔ اسی ماہ صفر میں ایران فتح ہوا اور اسلامی سلطنت کو وسعت ملی اور اسی مہینے میں عمر ثانی حضرت عمر بن عبدالعزیز خلیفہ وقت بنے اور اپنے اڑھائی سالہ دور اقتدار میں عدل عمر کی یاد تازہ فرما دی۔
عجیب بات یہ ہے کہ بعض لوگ آج بھی اس مہینے کو نحوست کا مہینہ تصور کرتے ہیں باالخصوص اس مہینہ کے ابتدائی تیرہ دنوں کو نہایت منحوس تصور کیا جاتا ہے حالانکہ اسلام میں اس بات کی کوئی حیثیت نہیں ہے بلکہ یہ مہینہ اسلامی تاریخ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔



عجیب بات یہ ہے کہ بعض لوگ آج بھی اس مہینے کو نحوست کا مہینہ تصور کرتے ہیں باالخصوص اس مہینہ کے ابتدائی تیرہ دنوں کو نہایت منحوس تصور کیا جاتا ہے حالانکہ اسلام میں اس بات کی کوئی حیثیت نہیں ہے بلکہ یہ مہینہ اسلامی تاریخ میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے
 



زمانہ جاہلیت میں اس مہینے کو لوگ منحوس خیال کیا کرتے تھے اور اس مہینے کو بلاؤں اور مصیبتوں کا مہینہ تصور کرتے تھے۔ علامہ ابن اثیر نے تاریخ کامل میں اس کی وجہ لکھی ہے کہ چونکہ ماہ محرم میں زمانہ جاہلیت میں بھی جنگ و قتال حرام سمجھا جاتا تھا اور لوگ گھروں میں بیٹھے رہتے تھے لیکن جیسے ہی صفر کے مہینے کا آغاز ہوتا اہل عرب اپنے گھروں کو چھوڑ کر جنگ کے لئے نکل جاتے، جنگ و جدل کی وجہ سے خون خرابہ ہوتا، مرد مارے جاتے، عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہوتے اور معاشی حالت ابتر ہو جاتی تو اہل عرب بجائے اس کے کہ اپنی اصلاح کرتے اس مہینہ کو منحوس سمجھنے لگے۔ باالخصوص خواتین اسے زیادہ منحوس جانتیں کیونکہ ان کے گھر اجڑ جاتے تھے۔ 

 

عرب میں جب اسلام کی روشنی آئی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان باطل نظریات کو رد فرمایا اور واضح طور پر اعلان فرمایا کہ مرض کے متعدی ہونے (یعنی ایک سے دوسرے شخص کو لگنے)، صفر کے مہینے کو منحوس سمجھنے اور غول (یعنی بھوت پریت اور بلاؤں کے اترنے) کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ عرب کے اندر جہاں اچھی صفات شجاعت، مہمان نوازی وغیرہ پائی جاتی تھیں وہیں بری صفات بھی ان میں موجود تھیں۔ وہ صفر کے مہینے کو منحوس سمجھتے، بیمار شخص کی عیادت کرنے کے بجائے اس سے دور بھاگتے۔ سفر سے پہلے تیر پھینکتے تھے، اگر تیر دائیں طرف گرتا تو سفر کرتے ورنہ سفر سے اجتناب کرتے۔ سفر پر نکلتے وقت اگر کوئی غریب شخص یا کوئی دشمن سامنے آ جاتا تو سفر نہ کرتے تھے۔ آنحضرتۖ نے ان سب کی نفی فرمائی اور فرمایا ان چیزوں سے کچھ نہیں ہوتا، نفع و نقصان سب کچھ اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہے۔ 

 

آنحضرتۖ نے نیک فال لینے کو پسند فرمایا ہے ۔ نیک فال سے مراد بندے کا کسی کام سے پہلے ایسی بات کو سننا جو اس کو اچھی لگے۔ تو یہ اسلام میں درست ہے کیونکہ اس سے تقدیر پر ایمان اور بھی مضبوط ہو جاتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم کوئی ایسی چیز دیکھو جو تمہیں ناگوار گزرے تو تم دعا پڑھ لیا کرو۔ اے اللہ! اچھائیاں لانے والے بھی آپ ہی ہیں اور برائیاں دور کرنے والے بھی آپ ہی ہیں۔ نیک کام کرنے کی توفیق بھی آپ ہی دیتے ہیں اور برے کاموں سے بچانے کی قوت بھی آپ ہی دیتے ہیں (ابوداؤد)۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے ایسے موقع پر کام کرنے سے اجتناب کیا اس نے خدا کے ساتھ شرک کیا۔
سیدنا حضرت علی ایک بار لشکر کے ہمراہ سفر پر روانہ ہوئے۔ ایک شخص نے کہا کہ اس موقع پر سفر نہیں کرنا چاہئے بلکہ فلاں گھڑی میں سفر کرنا چاہئے ورنہ شکست ہوتی ہے۔ حضرت علی نے جب یہ جملہ سنا تو فرمایا لشکر والو! ابھی کوچ کرو فتح و شکست اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے۔ چنانچہ لشکر نے اسی گھڑی میں کوچ کیا اور کامیاب ہو کر لوٹے۔ حضرت علی نے فرمایا اگر ہم اس کی بات مان لیتے اور اس کے بتائے ہوئے وقت پر سفر کرتے تو یہ شخص کہتا میری وجہ سے فتح ہوئی ہے۔ اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی کو اپنا حال جاننے کے لئے ہاتھ دکھایا اس کی چالیس دن کی نمازیں ضائع ہو جاتی ہیں۔ اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجومی کے پاس جانے سے منع فرمایا ہے ۔

 

ماہ صفر کے آخری بدھ کا بڑے شوق سے اہتمام کیا جاتا ہے کہ اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا اور صحت یاب ہوئے۔ اس دن روزہ بھی رکھا جاتا ہے اور مخصوص نوافل بھی ادا کئے جاتے ہیں۔ مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد شفیع اپنی تصنیف امداد المفتین میں فرماتے ہیں کہ اس دن کا روزہ شرعاً بدعت ہے اور اسلام میں اس کا ثبوت نہیں۔ اس دن کے نوافل بھی پیغمبر، سیدالانبیا ۖ یا کسی صحابی سے ثابت نہیں ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری میں اضافہ ہوا اور یہودیوں نے اس دن آپۖ کے مرض میں شدت آنے پر خوشی منائی۔
اللہ رب العالمین ہم سب کو ہمہ قسم کی شرک و بدعات سے محفوظ و مامون فرمائے۔ آمین!