یاد ررفتگاں

یاد ررفتگاں

تحریر: امحبت شاہ

کہا جاتا ہے کہ دنیا میں ایسی عظیم شخصیات کی کمی نہیں جنہوں نے انسانیت کی خدمت کو ہی مقصد حیات بنایا اور اپنی لازوال خدمات کی سنہری تاریخ رقم کرکے اپنے قول و فعل اور عمل سے علاقے عوام کیلئے روشن مثالیں چھوڑ کر ملک عدم سدھار چکے ہیں۔ دانائوں اور دانشوروں کا ایسی شخصیات سے متعلق قول ہے کہ زندہ قومیں تاریخ میں عظیم بے لوث خدمات انجام دینے والے مشاہیر، اسلاف اور قوم کے بزرگ اور محسنوں کے کار ہائے نمایاں یاد رکھتی ہیں اور جو قومیں اپنے مشاہیر اور محسنوں کو بھول جاتی ہیں تاریخ ان سے منہ موڑ لیتی ہے اور وہ مٹ جاتی ہیں۔ راقم الحروف آج کے کالم میں ضلع دیر کے ایک ایسے نامور اور معروف سیاسی و سماجی شخصیت خان سرفراز خان بابا مرحوم آف سرائی تالاش کا ذکر لکھ رہا ہے جن کی خدمات ، قربانیوں اور سماجی شخصیت سے علاقے کی نئی نسل لا علم ہے۔ خان محمد سرفراز خان بابا مرحوم سال 1919 میں ضلع دیر کے ممتاز سماجی خاندان خانان آف سرائی تالاش کے خان جلال الدین خان المعروف کشر خان کے گھر پیدا ہوئے۔ سابقہ ریاستی دور میں ریاست دیر میں تعلیمی سہولیات کی عدم دستیابی پر والد کشر خان نے سرفراز خان بابا کو مقامی مدارس میں داخل کیا جہاں مرحوم خان بابا نے ابتدائی تعلیم کمانگرہ مولوی صاحب اور مسافرئی بابا جی شمشی خان  سے حاصل کی اور بعد میں والد اور چچا مشر خان آف سرائی نے انہیں ہشتنگر چارسدہ مردان اور نوشہرہ کے سکولوں میں داخل کیا۔ خان محمد سرفراز خان بابا مرحوم جب  ہشتنگرچارسدہ مردان اور نوشہرہ  میں پڑھتے ہوئے بڑے ہو کر سوجھ بوجھ کے مالک ہوئے تو ان کے دل میں دیر کے عوام کیلئے بھی  ہشتنگرچارسدہ مردان، نوشہرہ  اور پشاور وغیرہ کے عوام کو حاصل تعلیم ، صحت ، بجلی و دیگر زندگی کی بنیادی سھولیات فراہمی کی تڑپ نے کروٹ بدلی اور اس مقصد کی حصول کیلئے انہوں نے آزادی دیر تحریک چلانے کا عَلم بلند کیا جو اس زمانے میں بڑے دِل گردے کا کام تھا کیونکہ نوابی حکمرانوں کی ڈر اور خوف سے کوئی لب کشائی کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ خان سرفراز خان بابا مرحوم اپنے ارادے کے پکے تھے اور بلا کسی خوف و خطر اپنی جان کی پرواہ کیئے بغیر تحریک آزادی دیر کیلئے عَلم بلند کیا اور اس مقصد کیلئے علاقے کے بعض ممتاز مشران کو اعتماد میں لے کر اپنا ہمنوا بنا لیا اور خفیہ سرگرمیاں اور تحریک شروع کر کے طویل اور انتھک جدوجہد کے بعد اپنے مقصد میں کامیاب ہوئے اور یوں دیر کے ریاستی نظام کے خاتمہ اور حکومت پاکستان کی حمایت کرانے میں خان سرفراز خان آ ف سرائی تالاش کا اہم کردار رہا ہے۔ ایک روایت کے مطابق مرحوم سرائی خان نے 1942 میں ملاکنڈ ایجنسی کے ایک سرکردہ  سماجی شخصیت راحت خان بابا کی قیادت میں خدائی خدمتگار مرکز سردریاب میں عبدالغفار خان بابا کے ساتھ ملاقات کی اور سرفراز خان بابا نے اپنے دوست کے مشورے پر باچا خان کی خدائی خدمتگار تحریک میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کیا اور باچا خان بابا کے قریبی اور معتمد ساتھیوں میں شمار ہو گئے۔ 
خدائی خدمتگار تحریک کے روح رواں اور باچا خان کے سچے پیروکار سرفراز بابا آف سرائی ضلع دیر کے نامی گرامی اور معزز خاندان سے تعلق رکھتے ہوئے ممتاز سیاسی و سماجی خانوادے اور آپ کا شمار ضلع دیر کی ممتاز عمائدین اور مشران علاقہ میں ہوتا ہے۔ 
مرحوم خان بابا بے پناہ خوبیوں کے مالک جبکہ بے لوث خدمت خلق، مہمان نوازی، دوست نوازی اور غریب پروری آپ کے تشخص کی پہچان تھی۔ مرحوم سرائی خان بابا زندگی میں اپنی شخصیت ، کردار و عمل اور صلاحیتوں کی بدولت علاقے کی ہر دلعزیز شخصیت جبکہ خدمت انسانیت کیلئے اپنی جان، مال اور چین وآرام  تک ترک چکے تھے جس کی بدولت خان سرفراز خان مرحوم وفات کے 30 سال بعد بھی علاقے کے عوام ان کی خدمات اور کارنامے یاد کر رہے ہیں اور خان بابا کا نام بھی قدر و احترام سے لے کر آپ کے خاندان کو انتہائی عظمت اور قدر کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں ۔ سرائی خان بابا مرحوم ضلع دیر کے سیاسی و سماجی افق کا ایک ایسا درخشندہ ستارہ تھے جو ہر وقت حالات پر اپنی عقابی نظریں جمائے ہوئے اپنے علاقے کے حقوق اور عوام کی عزت و ناموس کے تحفظ کے اصولوں پر کبھی کوئی سودے بازی نہ کرنے والے مشر علاقہ تھے۔ خان بابا مرحوم خداداد ذہین و فطین، مدبر اور معاملہ فہم شخصیت تھے جبکہ ضلع دیر کے بڑے بڑے مشران علاقہ بھی مرحوم سرفراز خان کی فہم و فراست ، دانشمندی ، معاملہ فہمی اور حق گوئی جیسی صفات کت معترف تھے۔ مرحوم خان بابا  کا دولت پرستی، مفاد پرسی اور خود نمائی مطمع نظر نہ تھا بلکہ خدمت انسانی اور امن پسندی فطرت میں شامل تھا جبکہ مرحوم خان بابا آف سرائی امن پسند اور صلح پسند آدمی اور ہمیشہ ہی ضلع دیر کے عوام کے دلوں میں آمن و آشتی، بھائی چارے اور پیار و محبت کے بیج بوئے۔ ضلع دیر قومی روایات اور تہذیب و تمدن اقدار کے امین خان سرفراز خان مرحوم اپنے بے لوث عوامی خدمات اور لائق تحسین کارناموں کے بدولت علاقے میں لازوال شہرت اور عوامی مقبولیت کی علامت بن چکے ہیں جسکا ایک زندہ ثبوت یہ بھی ہے کہ وفات کی کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود ضلع دیر کے قدیم تاریخ و ثقافت کے حامل ''ماساگا'' کے نا م مشہور ''ماساگا  ایورڈ'' سے نوازا گیا ہے جو خان بابا مرحوم آف سرائی تالاش کا خدائی خدمتگار تحریک اکابرین خان عبدالغفار خان المعروف باچاخان، خان عبدالولی خان و دیگر اے این پی قائدین کے ساتھ والہانہ عقیدت اور دلی لگائوکے باعث ان کے قریبی اور قابل اعتماد ساتھیوں میں شمار یوتا جو بابا مرحوم کی آخری سانسوں تک قائم و دائم رہا ہے اوراسی وجہ سے مرحوم سرائی خان بابا کی تصویرباچا خا ن مرکز میں خدائی خدمتگار اکابرین کے ساتھ پیوست نصب کر دی گئی ہے۔ مرحوم خان بابا جب وفات پا گئے تو نماز جنازہ میں کثیر تعداد میں دوسرے لوگوں کے علاوہ خان بابا مرحوم کے بچپن کے دوست اور اس وقت کے وفاقی وزیر تعلیم محمد  علی خان ہوتی نے بھی خصوصی طور اسلام آباد سے آ کر شرکت کی جبکہ اجمل خٹک نے بھی مرحوم خان بابا کی رہائش گاہ سرائی تالاش میں تعزیت اور فاتحہ خوانی کی اور ان کی قبر پر حاضری دینے کے موقع پر مرحوم سرفراز خان بابا کی سیاسی، سماجی اور قومی خدمات میں مدح اور گلہائے عقیدت کے طور چند توصیفی اشعار کہے جو اب بھی مرحوم خان بابا قبر کے مزار پر کندہ ہیں جو خدائی خدمتگار تحریک اکابرین اور عوامی نیشنل پارٹی  کے رہنمائوں اور قائدین کے ساتھ خان بابا مرحوم کی عقیدت اور قلبی لگائو کا مظہر ہے۔ ضلع دیر کی ممتاز اور قدآور سیاسی و سماجی شخصیت خان سرفراز خان مرحوم کی زندگی یادگار لمحات کے ذکر سے بھری پڑی ہے۔ ماضی میں مرحوم خان بابا کی رہائش گاہ سرائی ہائوس لوگوں کے تنازعات اور مسائل کے حل کیلئے بمثل عدالت اور ضلع بھر کی سیاسی و سماجی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ 
خان بابا مرحوم آف سرائی تالاش ضلع دیر کے عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات خصوصاََ تعلیم اور صحت کی سہولیات کی دستیابی بے حد متمنی تھے جس کی تڑپ نے انہوں نے جان جوکھوں میں ڈال کر دیر کے عوام کو پنجہ غلامی سے نجات دلانے کیلئے تحریک آزادی دیر اور حکومت پاکستان کی بھر پور حمایت کا علم بلند کیا تھا جو اس زمانے میں ایک بہت مشکل کام تھا۔ مرحوم خان بابا کی پر کشش اور بارعب شخصیت دل آویز اور شگفتہ بیانی ہر فرد کو بھاتی جبکہ مفید مشورے اور تجاویز تیر بہدف ثابت ہو کر ضرب الامثال بن چکے ہیں۔ خان بابا مرحوم کی مہمان نوازی ، دوست نوازی اور غریب پروری بھی لازوال داستانیں ہیں۔ آپ ہر وقت ناداروں، مجبوروں اور حاجتمندوں کی دل کھول کر امداد کیا کرتے تھے۔ آپ کا گھر ایک لنگر خانہ کے طور پر ہر اول دستہ رہا ہے اور کسی سائل اور حاجتمند کو خالی ہاتھ نہیں چھوڑتے۔ مرحوم خان بابا کا نام خدائی خدمتگار ، عوامی نیشنل پارٹی کے ممتاز صوبائی سطح قائدین اور ضلع دیر کے ممتاز سیاسی و سماجی حلقوں عمائدین اور مشران علاقہ کی فہرست میں سنہری حروف میں لکھا گیا ہے جواپنے روشن اور قابل تقلید بے لوث خدمات اور عوامی مقبولیت کی بدولت علاقے کی تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے زندہ رہیگا۔ 
دانشوروں کے کہنے کے مطابق، خان بابا مرحوم جیسے دور اندیش ، دانشمند اور قابل لوگ دنیا میں بہت کم پیدا ہوتے ہیں ۔ مرحوم 7 دسمبر 1991 کو اس دار فانی سے دار بقا کوچ کر کے اپنے خاندان،  دوستوں و احباب اور چاہنے والوں کو غمگین اور افسردہ چھوڑ کر طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اہالیان علاقہ کے دلوں میں زندہ ہیں۔ سرائی خان بابا مرحوم میں دوست نوازی کی صفت کوٹ کوٹ بھری ہوئی تھی اپنی ملنساری اور ہر دلعزیز شخصیت ہونے کے باعث ملک بھر میں دوستوں کا وسیع حلقہ رکھتے اور سیاسی وابستگیوں سے بالا تر لوگوں کے دکھ سکھ میں شرکت کرتے تھے۔ مرحوم خان سرفراز خان بابا آف سرائی کے صاحبزادوں میں نیک محمد خان ،شاہ محمود خان ، ڈاکٹر فدا محمد خان، عالمگیر خان اور خلیل محمد خان شامل ہیں جن کا شمار علاقے کے ممتاز عمائدین میں ہوتا ہے جو انتہائی شریف النفس ، ملنسار ، مہمان نواز اور انسان دوست مشران علاقہ ہیں۔ خان بابا مرحوم کے صاحبزادوں نے بھی اپنے مرحوم بابا کے نقش و قدم پر چلتے ہوئے مخلوق خدا کی بے لوث خدمت کو اپنا مقصد حیات بنا لیا ہے۔ لوگوں کے غم و خوشی میں شرکت اور فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں جبکہ اپنے خاندانی اور ذاتی دوست و احباب کے ساتھ ساتھ مرحوم والد خان بابا کے دیرینہ دوستوں کے ساتھ بھی قرب اور تعلقات کا رشتہ استوار کئے ہوئے ان میں پیار ، محبت اور خلوص بانٹ رہے ہیں۔ خان سرفراز خان بابا مرحوم کے بڑے مرزند نیک محمد خان لالا انتہائی زیرک، دور اندیش اور مرحوم بابا کی طرح معاملہ فہم ، سیاسی اور علمی بصیرت و اعلٰی سیرت و کردار کے مالک خاندانی بزرگ کی حیثیت سے رفاہی کاموں اور سیاسی وابستگیوں سے بالا تر بلا امتیاز عوامی مسائل کا حل میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ڈاکٹر فدا محمدخان محکمہ صحت میں دوران ملازمت ایک بے داغ ، فرض شناس ، تجربہ کار اور ایماندار معالج رہ چکے ہیں جنہوں نے دوران ملازمت مفاد پرستی اور دولت پرستی کے دور میں اپنے پیشے کو بطور عبادت سمجھ کر پرائیویٹ کلینک چلانے کے بجائے ریٹائرمنٹ تک تمام عمر ایک حقیقی مسیحا کے طور دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت میں گزاری ہے۔ ڈاکٹر فدا محمد خان بحیثیت ضلع دیر ضلعی انچارج ٹی بی پروگرام نے علاقے میں ٹی بی جیسی موذی اور مہلک مرض کی خاتمہ کیلئے گرانقدر خدماتانجام دی ہیں۔ انہوں نے ٹی بی کے خاتمہ کیلئے ضلع دیر میں علاج معالجہ کیلئے جدید سازوسامان سے لیس کلینکل لیبارٹریوں ،  ٹی بی ادویات اور تجربہ کار میڈیکل سٹاف فراہمی کا بندوبست کیا اور لوگوں میں شعور و آگہی پیدا کرنے کی غرض سے ٹی بی جیسے خطرناک وبائی مرض کی انسداد اور بچنے کیلئے احتیاطی تدابیر کے حوالے وقتاََ فوقتاََ ٹی بی اوئرنیس واک ، سمینار ، میڈیا ورک شاپس اور ٹاک شوز کر کے لوگوں میں ٹی بی مرض سے متعلق بروشر و پمپلیٹ تقسیم کترے رہے ہیں جسکے مثبت اثرات مرتب ہو کر لوگوں کی بلا جھجک ٹی بی تشخیص اور علاج کی طرف رجوع کرانے سے علاقے میں اس موذی مرض کی خاتمہ پر کافی حد تک قابو پایا گیا جسکا کریڈٹ ڈاکٹر فدا محمد خان کو جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ٹی بی پروگرام کی عالمی ادارہ جی ٹی زیڈ نے دوران ملازمت ڈاکٹر فدا محمد خان کی شاندار کارکردگی سے مطمئن اور متاثر ہو کر موصوف کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی صوبے کے ٹی بی پروگرام کے ایک اہم عہدے کا قلم دان سونپ دیا ہے جس پر تا دم تحریر وہ فائز خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ مرحوم سرائی خان بابا کے صاحبزادوں کا ہنوز اپنے مرحوم بابا کے سیاسی اور سماجی تعلق داروں کیساتھ قرب و تعلق کا تسلسل بدستور قائم ودائم ہے اور یہی وجہ ہے کہ دو ماہ قبل خان بابا مرحوم کی بیوہ محتر مہ کی وفات کے موقع پر دور دراز علاقوں سے ممتاز سیاسی و سماجی شخصیات ، پارلیمنٹیرین ، سنیٹروں اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور خان بابا مرحوم کی رہائش گاہ سرائی میں کئی روز تک صبح سے رات دیر تک لوگوں کی فاتحہ خوانی اور تعزیت کیلئے تانتا بندھا رہا۔ 
 

ٹیگس