عمران خان کی واپسی 

عمران خان کی واپسی 

سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بالآخر قومی اسمبلی میں مشروط واپسی کا اعلان کر کے دراصل ملک میں پچھلے کئی مہینوں سے جاری سیاسی کشیدگی کے خاتمے کی راہ ہموار کرنے میں پہل کر دی ہے اور اب ذمہ داری کسی اور کی نہیں بلکہ عمران خان ہی کے رفقا پر عائد ہوتی ہے کہ وہ عمران خان کے اس فیصلے پر جلد از جلد عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ یقیناً عمران خان کے اس فیصلے پر عمل درآمد سے اگر ایک طرف سیاسی کشیدگی میں کمی آئے گی تو دوسری طرف اس سے سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں میں ھم آہنگی بڑھنے کے بھی قوی امکانات ہیں۔ عمران خان کے پارلیمان میں واپس جانے کے اشارے سے پارلیمان کی تقویت اور بالادستی میں مزید اضافہ ہو گا۔ دراصل عمران خان کی عسکری قیادت سے خفیہ ملاقات اب کوئی ڈھکا چھپا معاملہ نہیں رہا اور اس ملاقات کے بعد عمران خان نے پارلیمنٹ میں واپس جانے کی مشروط واپسی کا اشارہ کیا ہے۔ اس واپسی میں اب عسکری قیادت کا کردار بھی پارلیمنٹ کی بالادستی برقرار رکھنے یا اسے تقویت بخشنے میں ایک اھم عنصر کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔ اس ملاقات میں عمران خان کو پارلیمنٹ واپس جانے کے علاوہ عسکری قیادت نے نہ صرف آئندہ عام انتخابات بلکہ سیاسی معاملات سے اھم ریاستی ادارے کے الگ رکھنے کے عزم کا اعادہ کر کے بہت سے شکوک و شبہات کو بروقت دفن کر دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی جماعت کو ملک بھر کے لوگوں میں کافی مقبولیت حاصل ہے اور ماضی کی نسبت مستقبل میں عمران خان کو اس مقبولیت سے عام انتخابات میں فائدہ اٹھانا چاہیے۔ مگر مستقبل کا سیاسی لائحہ عمل مرتب کرنے میں عمران خان کو احتیاط برتنا ہو گی کیونکہ گزشتہ ساڑھے تین سالہ حکومت یا حکمرانی کی کارکردگی کچھ زیادہ موثر نہیں رہی تھی۔ اس ساڑھے تین سالہ کارکردگی پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا سکتا ہے مگر سادہ اور مختصر الفاظ میں یہ دور بدعنوانی، اقربا پروری اور سیاسی اختیارات کے ناجائز استعمال کا ملک کی تاریخ میں ایک ناشائستہ دور سے عبارت ضرور ہے۔ اس دوران سیاسی محاذ آرائی اور مخالفین کے خلاف ریاستی اداروں کی انتقامی سیاست کا بخوبی استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے ملک نہ صرف اندرونی طور پر سیاسی کشیدگی کا شکار ہوا بلکہ بیرونی طور پر ملکی ریاستی اداروں کی بہت بدنامی بھی ہوئی ہے۔ اس ساڑھے تین سال کے دوران ملک کو پہلے سے درپیش معاشی اور مالی بحران میں مزید اضافہ ہوا۔ اب عمران خان کا فرض ہے کہ وہ ان نقصانات کا ازالہ کریں۔ سیاسی اختلافات اور محاذ آرائی ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے، ان میں تبدیلیاں آنا وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ماضی قریب میں عمران خان نے اپنے سیاسی حریفوں کے بارے میں بہت نازیبا کلمات استعمال کئے ہیں جس کے ملک بھر کی سیاست پر نہایت منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اب وقت ہے کہ عمران خان ازخود مستقبل میں نہ صرف افہام و تفہیم بلکہ سیاسی حریفوں کے ساتھ عزت و احترام پر مبنی سیاسی اختلاف کی بنیاد رکھنے میں پہل کریں، یقیناً افہام و تفہیم اور عزت و احترام کی سیاست اس ملک اور قوم کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہو سکتی ہے۔