چیف جسٹس کا کمشنر کراچی کو ایک ہفتے میں نسلہ ٹاور گرا کر رپورٹ پیش کرنے کا حکم

چیف جسٹس کا کمشنر کراچی کو ایک ہفتے میں نسلہ ٹاور گرا کر رپورٹ پیش کرنے کا حکم

کراچی :چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کمشنر کراچی کو ایک ہفتے میں نسلہ ٹاور گرا کر رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

 

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نسلہ ٹاور سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،اس سلسلے میں کمشنر کراچی اور امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان عدالت میں پیش ہوئے۔

 

سماعت کےدوران حافظ نعیم الرحمان نے بات کرنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے حافظ نعیم الرحمان کی سرزنش کی۔

 

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مجھے تھوڑا سن لیاجائے،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں کوئی سیاسی تقریرکی اجازت نہیں۔

 

چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے حافظ نعیم کوہدایت کی کہ آپ جاکربیٹھ جائیں۔

 

چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کمشنرصاحب،بلڈنگ کونیچےسےگرانےکاکیاطریقہ ہے؟ جس پر کمشنر کراچی نے بتایا کہ آج شام سےاوپرسےکام بھی شروع ہوگا۔

 

جسٹس گلزار احمد نے کمشنر کراچی سے سوال کیا کہ ماہرین سےمددلی ہےیاخودہی کررہےہیں؟عمارت گرانے کاکام کب مکمل کریں گے؟عمارت گرانے کیلئےایک ہفتہ کا وقت دیا تھا،اس پر کمشنر کراچی نے کہا کہ کوئی ٹائم نہیں دے سکتے ،200لوگ کام کررہے ہیں۔

 

چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ جائیں400لوگوں کو لگا ئیں اورعمارت گرائیں، یہ بلڈنگ نیچے سے گرانے کا کیا طریقہ ہوتا ہے، کھڑکیاں، دروازے وغیرہ گرائیں گے۔

 

حافظ نعیم الرحمان نے عدالت سے کہا کہ متاثرین کومعاوضہ دینے کاحکم دے دیں،جس پر عدالت نے کہا کہ ہم نے معاوضہ دینے کاحکم دیا ہوا ہے،جس پر حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ معاوضہ اداکرنےکاسندھ حکومت کوحکم دیا جائے۔

 

چیف جسٹس نے حافظ نعیم الرحمان پربرہمی کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ آپ کون ہیں؟،آپ کااس بلڈنگ میں کیاانٹرسٹ ہے؟

 

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ میں شہری ہوں یہاں کا اس لئےآیا ہوں،جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جائیں باہرجاکرتقریرکریں،یہاں سیاست نہیں کریں،آپ یہاں کس حیثیت سے آئے ہیں۔

 

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کمرہ عدالت سےباہرجاکرسیاست کریں۔

 

عدالت نے کمشنرکراچی کوحکم دیا کہ ایک ہفتے میں نسلہ ٹاورکی عمارت گراکر رپورٹ پیش کریں۔