سلیکٹرز فیصلہ کرلیں پاکستان کو بچانا ہے یا عمران خان کو، حیدر ہوتی

سلیکٹرز فیصلہ کرلیں پاکستان کو بچانا ہے یا عمران خان کو، حیدر ہوتی

پشاور۔۔۔ عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ سلیکٹرز فیصلہ کرلیں پاکستان کو بچانا ہے کہ عمران خان کو۔ موجودہ حالات میں پاکستان اور عمران خان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ حالات کا تقاضہ ہے کہ پختون اتحاد اور اتفاق کا مظاہرہ کرے اور موجودہ نااہل حکمرانوں سے نجات حاصل کرے۔

 

ہریانہ پایاں تحصیل شاہ عالم پشاور میں شمولیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کے ووٹ سے اقتدار میں نہیں آئی۔ خلائی مخلوق کی مدد سے اقتدار پر مسلط حکمرانوں کو عوام سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی عوام کے حق حکمرانی پر یقین رکھتی ہے، انتخابات میں جیت کیلئے کسی تیسرے فریق کے مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ الیکشن چوری کرنے والوں سے گزارش ہے کہ آئندہ انتخابات میں دخل اندازی سے گریز کرے۔

 

انہوں نے کہا کہ اے این پی اقتدار میں آئی تو صوبے کو دہشتگردی کا سامنا تھا۔ وزیرستان سے لے کر باجوڑ اور ملاکنڈ تک پورا خیبر پختونخوا دہشتگردی  کی آگ میں جل رہا تھا۔ تعلیمی ادارے بند اور عدالتی و حکومتی نظام مفلوج تھا۔ اے این پی نے عالمی قوتوں کی مخالفت کے باوجود امن کی خاطر دہشتگردوں سے مذاکرات کئے لیکن ان مذاکرات کو ناکام بنانے کے خلاف بھی سازشیں کی گئیں۔ اپریشن کے نتیجے میں ملاکنڈ ڈویژن کے 25 لاکھ پختون بے گھر ہوئے لیکن باچا خان کے پیروکار ڈٹ کر کھڑے رہے۔ اے این پی کے کارکنان اور قائدین نے پولیس کے شانہ بشانہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دیں۔ ہم نے نامساعد حالات کے باوجود صوبے کو خیبر پختونخوا نام کی شکل میں شناخت دی۔ اے این پی نے حالت جنگ میں رہ کر این ایف سی ایوارڈ اور بجلی کا خالص منافع حاصل کیا جسکی بدولت صوبے کے بجٹ میں 86 فیصد اضافہ ہوا۔

 

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے بڑے ہسپتالوں میں نئے منصوبوں اورریسکیو 1122 کا آغاز کیا۔ پرانے رینگ روڈ کی بحالی اور نئے رینگ روڈ کا منصوبہ شروع کیا جو موجودہ حکمرانوں کی نااہلی کی وجہ سے آج بھی نامکمل ہے۔  اے این پی نے حالت جنگ میں رہ کرمحض پانچ سال میں 10 نئی یونیورسٹیاں قائم کیں۔ اے این پی نے باچا خان خپل روزگار سکیم اور عوام کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کا آغاز کیا۔ یونیورسٹی اور کالجز کے طلباء وطالبات کے لئے سکالرشپس اور لیپ ٹاپ فراہم کئے۔ سرکاری سکولوں میں ستوری د پختونخوا سکالرشپس کا آغاز کیا جس سے غریب عوام کے بچے بھی میڈیکل کالجز اور یونیورسٹیوں میں داخلے کے اہل ہوئے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں تمام تر مشکلات کے باوجود صوبہ کے کونے کونے میں ترقیاتی کام کئے، اس کے باوجودعوامی نیشنل پارٹی کو کمزور کرنے کی سازشیں کی گئیں اور طرح طرح کے پروپیگنڈے کئے گئے، کرپشن کے الزامات لگائے گئے۔ لوگوں کے بے نامی اکاؤنٹ اور جائیدادیں نکل آئيں، چینی، پٹرول اور آٹے چوری کے سکینڈلز بے نقاب ہوئے لیکن پانامہ سے پینڈورا تک  ایک بھی سکینڈل میں عوامی نیشنل پارٹی کے کسی کارکن تک کا بھی نام نہيں آیا۔

 

انہوں نے کہا کہ 2013 انتخابات  میں عوامی نیشنل پارٹی نے الیکشن کے ساتھ ساتھ دہشتگردی اور انتہاپسندی کا بھی مقابلہ کیا۔ دوسری سیاسی پارٹیاں الیکشن کیلئے کیمپین کررہی تھی، عوامی نیشنل پارٹی اپنے کارکنان کے جنازے اٹھارہی تھی۔ باچا خان کے پیروکاروں نے ہمت نہیں ہاری اور حالات کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ سرخ جھنڈے کو ختم کرنے والے خود ختم ہوگئے ہیں، باچا خان کے پیروکار آج بھی میدان میں ہیں۔ 2018 میں ایک اور سازش کے تحت اے این پی کی جیت کو ہار میں تبدیل کیا گیا۔ اے این پی نے دہشتگرد حملوں اور بموں کا مقابلہ کیا ،آج دوتہائی اکثریت والے اپنے انتخابی نشان پر الیکشن میں حصہ لینے سے گھبرا رہے ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ پرانے وقتوں میں قرضوں پر حکمرانوں کو طعنے دینے والے آج کل قرضہ ملنے قوم سے خطاب کر کےانکو قرضہ ملنے کی خوشخبریاں سناتے ہیں۔ وزیراعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤس کو یونیورسٹیاں بنانے کے دعویداروں نے پہلے سے موجود یونیورسٹیوں کو بھی تباہی سے دوچار کیا۔آئی ایم ایف سے معاہدے کرکے عوام کا جینا محال کردیا گیاہے۔ دالیں، چینی، آٹا، پٹرول، بجلی، گیس اور اشیاء ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ ایک کروڑ نوکریاں دینے والوں نے محض تین سال میں لاکھوں لوگوں کو بے روزگار کیا۔ پچاس لاکھ گھر دینے کی بجائے عوام سے ان کے سروں سے تیار چھت بھی چھین لی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اے این پی بلدیاتی انتخابات اور عام انتخابات میں حصہ لینے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ اے این پی آنے والے انتخابات میں ووٹ کی طاقت سے عوام کو نااہل حکمرانوں سے نجات دلائے گی۔